ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم کے ملک چھوڑنے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق وزیر اعظم نجیب رزاق اپنی اہلیہ روزماہ منصور کے ساتھ سنیچر کو چھٹیوں پر اطلاعات کے مطابق جکارتہ جانے والے تھے

ملائیشیا کے حکام نے بتایا ہے کہ ملک کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق پر ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

یہ پابندی اس وقت عائد کی گئی ہے جب نجیب رزاق نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ سنیچر کو بیرون ملک چھٹیوں پر جا رہے ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں مسٹر نجیب کی ایک عرصے سے برسر اقتدار پارٹی باریسن نیشنل اتحاد کو انتخابات میں حیران کن شکست کا سامنا رہا۔

مسٹر نجیب پر سنہ 2015 میں ایک سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سے 70 کروڑ امریکی ڈالر دوسری جانب منتقل کرنے کا الزام لگا تھا لیکن حکام نے انھیں اس سے بری الذمہ قرار دیا تھا۔

جمعرات کو مہاتیر محمد کو ملائیشیا کے نئے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اس طرح وہ 92 سال کی عمر میں دنیا کے معمر ترین منتخب رہنما بنے۔

انھوں نے کہا ہے کہ سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سمیت تمام بدعنوانی کے معاملات کی مکمل جانچ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ملائیشیا: وزیراعظم نجیب رزاق کے خلاف مظاہرے

٭ 92 سالہ مہاتیر محمد نے وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا

مہاتیر محمد اپنی ریٹائرمنٹ سے واپس آئے اور انھوں نے حزب اختلاف میں شامل ہو کر اپنے سابق حمایت یافتہ نجیب رزاق کو شکست دی۔

پابندی پر مسٹر نجیب کا رد عمل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مہاتیر محمد کا خيال ہے کہ 1ایم بی ڈی کی زیادہ تر رقم واپس حاصل کی جا سکتی ہے

ملائیشیا کی زبان مالے میں ٹویٹ کرتے ہوئے مسٹر نجیب نے کہا کہ امیگریشن حکام نے انھیں بتایا ہے انھیں اور ان کے اہل خانہ کو بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔

انھوں نے لکھا حکام نے فیصلے کی وجوہات نہیں بتائيں تاہم وہ ان کے فیصلے کا احترام کريں گے۔

اس سے قبل 64 سالہ نجیب نے کہا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ روزماہ منصور سنیچر کو چھٹیوں پر جائيں گے۔

یہ کہا جا رہا کہ وہ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ جانے والے تھے۔

بدعنوانی کا سکینڈل

نجیب رزاق پر سرکاری سرمایہ کاری ون ملائیشیا ڈیولپمنٹ فنڈ (1ایم بی ڈی) کے تعلق سے بدعنوانی اور بدنظمی کا الزام لگ چکا ہے۔

ملک کئی سال تک اس سکینڈل کی زد میں رہا۔

سنہ 2009 میں مسٹر نجیب نے 1ایم بی ڈی قائم کیا تھا جس کا مقصد سٹریٹیجک سرمایہ کاری کے ذریعے کوالالمپور کو ایک معاشی مرکز میں بنانا اور ملائیشیا کو ایک زیادہ آمدن والی معیشت میں تبدیل کرنا تھا۔

لیکن سنہ 2015 کے اوائل میں فنڈ اس وقت نکتہ چینی شروع ہو گئی جب وہ ڈونر بینک اور بانڈ کے مالکوں کے 11 ارب ڈالر کی ادائیگی نہ کرسکا۔

اس کے بعد وال سٹریٹ جرنل نے خبر شائع کی کہ انھوں نے ایسی دستاویزات دیکھی ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فنڈ سے تقریباً 70 کروڑ ڈالر کی رقم نجیب رزاق کے ذاتی بینک کھاتے میں منتقل کی گئی ہے۔

مسٹر نجیب ایم بی ڈی یا کسی دوسرے سرکاری فنڈ سے کوئی رقم حاصل کرنے کے الزامات کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینے کے بعد مہاتیر محمد نے کہا کہ وہ اس سکینڈل میں کھو جانے والے لاکھوں ڈالر کی بازیابی کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں