اقوام متحدہ: غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ

فلسطین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پیر کو غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 55 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت اور یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح کے بعد منگل کو اقوام متحدہ میں فلسطینی اور اسرائیلی مندوبین کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

فلسطینی نمائندہ نے کہا کہ اسرائیل نے 'انسانیت کے خلاف جرم' کیا ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی مندوب نے فلسطینی تنظیم حماس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے ہی لوگوں کو قید میں رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کونسل کی پولش صدر جوانا رونیکا نے غزہ میں ہلاک ہونے والے افراد اور 'طویل عرصے سے جاری تنازع میں ہلاک ہونے والے افراد' کی موت پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی درخواست کی۔

اجلاس میں متعدد ممالک نے غزہ میں ہونے والے شدت پسند واقعات پر اپنی خدشات کا اظہار کیا اور اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔

فلسطین کے اقوام متحدہ میں نمائندے ریاد منصور نے 'اسرائیل کی جانب سے برپا کیے جانے والے نفرت انگیز قتل عام' کی شدید مذمت کی اور اسرائیلی فوجی آپریشن کو روکنے کے علاوہ بین الاقوامی تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا۔

ریاد منصور نے اقوام متحدہ کو بھی آڑے ہاتھ لیا اور کہا کہ انھوں نے ماضی میں ہونے والے واقعات کی کوئی تحقیق نہیں کرائی۔

'کتنے فلسطینیوں کی موت کے بعد آپ کچھ کریں گے؟ کیا موت ان کا نصیب تھی؟ کیا ان بچوں کو ان کے والدین سے چھین لیے جانا صحیح تھا؟'

اسی بارے میں

غزہ میں 58 فلسطینیوں کی تدفین، غربِ اردن میں جھڑپیں

غزہ میں 55 ہلاک، ’اسرائیلی فوج نے اپنا دفاع کیا‘

غزہ کا خون ریز دن تصویروں میں

وہ جنگ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا

دوسری جانب اسرائیل کے مندوب ڈینی ڈانن نے کہا کہ غزہ کی سرحد پر ہونے والے واقعات مظاہرے نہیں تھے بلکہ وہ تشدد پر مبنی ہنگامہ تھا۔

انھوں نے فلسطینی تنظیم حماس کو مورد الزام ٹھیراتے ہوئے کہا کہ انھوں نے غزہ کی عوام کو قیدی بنا کر رکھا ہوا ہے۔

'حماس لوگوں کو تشدد پر مجبور کرتی ہے اور اور عام شہریوں کو سامنے لاتی ہے جس سے ان کے مرنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ اسرائیل پر الزام لگاتے ہیں۔'

اجلاس میں دوسرے ممالک نے بھی غزہ میں ہونے والے واقعات کی کڑی تنقید کی ہے۔

جرمنی، برطانیہ، آئرلینڈ اور بیلجیئم نے آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور آئرلینڈ نے اس کے ساتھ اپنے ملک میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین

غزہ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تدفین کے بعد مظاہرے ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ مظاہرے پیر کو ہونے والے مظاہروں سے بہت کم ہیں جن میں کم از کم 58 فلسطینی ہلاک اور 2000 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کرا رہا ہے تاکہ حالت قابو میں آ سکیں۔ تاہم زیرِ قبضہ غربِ اردن میں جھڑپوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کی تدفین اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ پر ہو رہی ہے۔ یہ وہ دن ہے جسے فلسطینی 'نکبہ' قرار دیتے ہیں، جس کا مطلب ہے تباہی۔ اسرائیل کے قیام کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

غزہ کے مرکزی ہسپتال شفا میں پیر کے روز زخمی ہونے والے افراد کو خون کا عطیہ دینے کے لیے قطاروں میں لوگ کھڑے ہیں۔

پیر ہی کو امریکہ نے یروشلم میں اپنے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کیا تھا۔ اس متنازع منصوبے کی بہت سے ملکوں نے مخالفت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مشرقی یروشلم ان کی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت ہے اور وہ اس اقدام کو اسرائیل کے تمام شہر پر قبضے کی امریکی پشت پناہی سمجھتے ہیں۔

فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ 27 سو سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس نے اس واقعے کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ یہ غزہ میں 2014 میں ہونے والی جنگ کے بعد سے مہلک ترین دن تھا۔

تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اپنی فوج کے اقدامات کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ وہ غزہ کی شدت پسند تنظیم حماس کے خلاف اپنا دفاع کر رہی تھی۔

غزہ میں کل ہوا کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر بے دریغ اسلحے کا استعمال کیا

فلسطینیوں نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے دوران 40 ہزار کے قریب لوگ اسرائیلی سرحد پر لگے جنگلے پر 13 مقامات پر مشتعل ہو گئے۔

انھوں نے پتھر اور جلتی ہوئی چیزیں پھینکیں، جب کہ اسرائیلی فوج نے اس کا جواب فائرنگ اور آنسو گیس کے شیلوں سے دیا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ انھوں نے 'دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں پر فائرنگ کی ہے نہ کہ مظاہرین پر۔ مظاہرین کو آنسو گیس جیسے عام طریقوں سے منتشر کیا گیا۔'

عالمی رد عمل

امریکہ: وائٹ ہاؤس کے ترجمان راج شاہ نے کہا: 'ان افسوسناک اموات کی ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے۔۔۔ حماس جان بوجھ کر یہ ردِ عمل پیدا کر رہی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس: ان کے ترجمان نے تنبیہ کی ہے کہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے سے مشرقِ وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ 'اس اقدام سے امریکی انتظامیہ نے امن کے عمل میں اپنا کردار منسوخ کر دیا ہے اور دنیا، فلسطینی عوام، اور عرب دنیا کی بے عزتی کی ہے۔'

فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی وافا کے مطابق پی ایل او کی ایکزیگٹیو کمیٹی کے رکن وصل ابو یوسف نے فلسطینی علاقوں میں 'مکمل ہڑتال' کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین: کے خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدریکا موگرینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'غزہ کی باڑ کے نزدیک جاری مظاہروں میں درجنوں فلسطینی، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہم مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے سب سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی توقع کرتے ہیں۔'

فرانس: کے صدر امانوئل میکخواں نے بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے کی گئی جارحیت کی مذمت کی ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سفارت خانے کے افتتاح کے موقعے پر اسرائیل پہنچیں

اقوام متحدہ: کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زید رعد الحسین نے 'اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے ہلاک ہونے والے درجنوں افراد کی موت' کی شدید مذمت کی۔

ترکی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں امریکہ اور اسرائیل پر اس جارحیت کا مشترکہ الزام عائد کیا اور اپنے سفیر دونوں ممالک سے واپس بلانے کا اعلان کیا۔

ترکی: کے علاوہ جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'اندھادھند اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں۔'

انسانی حقوق کی تنظیمیں: ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس واچ نے اسرائیل فوج کی جانب سے طاقت سے استعمال کی مذمت کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں