یروشلم: ٹرمپ کا امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ امن سے متعلق کیوں نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’ہماری سب سے بڑی امید امن کے لیے ہے۔‘ یہ الفاظ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم میں منعقدہ تقریب میں ریکارڈ شدہ پیغام کا حصہ تھے۔

لیکن وائٹ ہاؤس نے اس پہلو کو فوقیت دی کہ ’صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔‘

صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہ اپنے انتخابی وعدوں کو نبھانا چاہتے تھے۔

وہ بڑے تاریخی اقدامات اٹھانا بھی پسند کرتے ہیں، خاص طور پر وہ اقدامات جو ان کے پیش رو سیاستدانوں نے نہیں کیے۔

تاحال ٹرمپیئن خارجہ پالیسی کے اصولوں کے مطابق سب اچھا ہے۔

اعلانِ یروشلم: اسرائیل نواز لابیوں نے کرایا؟

غزہ: ہلاک ہونے والے 58 فلسطینیوں کی تدفین پر شدید تناؤ

اردوغان اور نتن یاہو کے درمیان غزہ کے معاملے پر لفظی جنگ

اس معاملے میں، ان کی قریبی ساتھیوں نے اس اقدام کی سخت لابی انگ کی۔ ان میں دائیں بازو کے امریکی یہودی بھی شامل تھے جنھوں نے ان کا پیغام کٹر یہودیوں تک مزید پھیلایا جو ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں شامل ہیں۔

ان میں مسیحی مبلغین بھی شامل تھے جن کی آواز کو وائٹ ہاؤس میں دین دار مسیحیوں نے بلند لیا، جن میں نائب صدر مائیک پینس بھی شامل ہیں۔

مجھے ڈیلس میں مبلغ پاسٹر رابرٹ جیفرس نے انجیل کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’یروشلم کو خدا نے 3000 ہزار سال پہلے بادشاہ داؤد کے زمانے میں اسرائیل کا دارالحکومت بنایا تھا۔‘ انھوں نے اور اسرائیل نواز مسیحی دنیا کی ایک اور اہم آواز نے افتتاحی تقریب کے موقع پر دعائیں دی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امن عمل کا کیا ہوگا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ریکارڈ شدہ پیغام میں کہا تھا کہ ’امریکہ امن معاہدے کو سہل بنانے میں مکمل طور پر مخلص ہے۔‘

انھوں نے ’سب سے زیادہ مشکل معاہدے‘ کے حل کے لیے دلچسپی ظاہر کی۔ یروشلم پر برہمی کے باوجود وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے عمل کے آغاز کیا جا سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے سابق مذاکرات کار آرون ڈیوڈ ملر کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کے وکیل جیسن گرینبلیٹ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سٹیٹس کو کو جھنجھاڑنے سے فلسطینیوں کو حقیقت دکھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ابتدائی غم اور غصے کے بعد فلسطینی روابط بحال کریں گے۔ لیکن تاحال ایسا نہیں ہوا۔

انتظامیہ یہ توجیح پیش کرتی ہے کہ یہ محض یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر رہے ہیں اور شہر کی حتمی سرحدیں مذاکرات کے ذریعے طے کی جا سکتی ہیں۔

لیکن دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ انھوں نے معاملے کو مذاکرات کی ’میز سے الگ‘ کر دیا ہے۔ اور وہ فلسطینیوں کے مشرقی یروشلم پر دعوے کے بارے میں کچھ کہنے میں ناکام رہے ہیں۔

چنانچہ ارادہ جو کچھ بھی تھا، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انھوں نے امن عمل کے ایک انتہائی نازک معاملے پر اسرائیل کا ساتھ دیا ہے اور کسی بھی مذاکرات کے حتمی نتیجے میں طرفداری ظاہر کی ہے۔

کیا اس کا مطلب کوئی دھماکہ ہے؟

ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ سرحد پر ہونے والی خون ریز تشدد کے جواب میں بھی اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے غزہ میں حماس رہنماؤں پر ’گھناؤنے پراپیگنڈا‘ کی کوشش میں ’جان بوجھ کر‘ اسرائیل کو اشتعال دلانے کا الزام عائد کیا اور دیگر یورپی ممالک کے برعکس فوج کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

حماس کئی ہفتوں سے فسلطینیوں کے مظاہروں کے قیادت کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ عسکریت پسند تحریک کے پاس موقع تھا کہ وہ حکومت میں اپنی بری کارکردگی کا الزام کسی اور پر منتقل کر دے۔

اب سوال یہ ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں ہلاک اور زخمی ہونے والے ایک نئے انتفادہ کو بڑھاوا دیں گے جو غرب اردن تک پھیل رہا ہے۔

یروشلم کے فیصلے نے بذات خود ایسا نہیں کیا اور ایسی بہت سی وجوہات ہو سکتی کہ غزہ میں تشدد سے ایسا نہیں ہو سکتا۔ ان میں فلسطینی قیادت میں تقسیم اور فلسطینیوں کے لیے تصادم برداشت کرنے کی بھاری قیمت شامل ہیں۔

لیکن صورتحال نازک ہے اور اس صورتحال کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سرخ لائن کو عبور کرنا؟

مجھے اس وقت ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امن عمل کے فریم کو سستی کے ساتھ سلجھانا جس سے گذشتہ 25 برسوں میں نہ امن قائم کیا گیا ہے اور نہ پوری طرح جنگ ہوئی ہے۔

اسرائیلیوں نے غرب اردن کا الحاق نہیں کیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی سکیورٹی میں تعاون کر رہی ہے بلکہ اسرائیلی پولیس کی بھی مدد کر رہی ہے۔

یہ فریم ورک ایک امریکی مصالحت کار نے پیش کیا ہے جنھیں اگر غیرجانبدار نہیں تو قابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔

ملر کہتے ہیں کہ امریکہ کی ہر گذشتہ انتظامیہ اسرائیل نواز رہی ہے لیکن انھوں نے فلسطینی بیانیے کو سمجھنے اور اس کا جواب دینے کی کوشش کی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ اسرائیلی بیانے میں اس وقت ’گہرا بیٹھ‘ چکا ہے کہ اس نے سرخ لائن عبور کر لی ہے۔

اگر ایسا ہے تو فریم ورک کو سہارا دینا مشکل ہوگا اور وہ بھی غیرمتوقع تنائج کے ساتھ۔

یہ سچ ہے کہ عرب ممالک ایک ایسے معاہدے کے حق میں ہے جو فلسطینیوں کے لیے پہلے کی نسبت کم موزوں ہو کیونکہ وہ ایران کے خلاف اسرائیل کو بطور اتحادی چاہتے ہیں۔

لیکن ٹرمپ کے یروشلم کے حوالے سے فیصلہ، ایسا شہر جو مسلمانوں کے لیے بھی مقدس ہے، اس حکمت عملی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

اسی بارے میں