ترکی: بغاوت کرنے والے 104 فوجی افسران کو عمر قید کی سزا

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ بغاوت کی سازش کرنے والوں کے لیے موت کی سزا کو دوبارہ متعارف کروانے کے حامی ہیں۔

ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی ایک عدالت نے سنہ 2016 میں ہونے والی بغاوت کی کوشش میں ملوث 104 سابق فوجی افسران کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

انھیں ’زندگی کی بد تر سزائیں‘ دی گیئں جو عام طور پر عمر قید کی سزا سے زیادہ سخت ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ بغاوت کی سازش کرنے والوں کے لیے موت کی سزا کو دوبارہ متعارف کروانے کے حامی ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی میں 15 جولائی سنہ 2016 کو رجب طیب اردوغان کا تختہ الٹنے کی کوشش میں کم سے کم 260 افراد ہلاک اور 2200 زخمی ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’گولن کو ترکی لے جانے کی سازش سے تعلق نہیں‘

82 ہزار افراد ملازمت سے معطل یا برخاست کیےچکے ہیں: وزیر اعظم

ترکی: اردوغان کی سزائے موت کا قانون بحال کرنے کی حمایت

ترکی کی ناکام بغاوت میں 'نو ہزار فوجیوں نے حصہ لیا'

ترک حکومت نے اس کے بعد بغاوت کے مبینہ حامیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 150,000 سے زیادہ سرکاری ملازمین کو برطرف اور 50,000 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اناتولو کے مطابق ترکی کے مغربی شہر ازمیر میں قائم عدالت نے 21 افراد کو ’صدر کے قتل کی معاونت‘ کرنے پر 20 سال قید کی سزا جبکہ 31 دیگر افراد کو ’دہشت گرد تنظیم کا رکن‘ ہونے پر سات سے 11 سال قید کی سزا سنائی۔

ترک حکام امریکہ میں جلا وطن ترک رہنما فتح اللہ گولن کو سنہ 2016 کی بغاوت کو منظم کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

گولن سنہ 1999 کے بعد سے امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ سنہ 2016 میں ہونے والی بغاوت میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔ ادھر واشنگٹن نے ترک حکام کی جانب سے گولن کی حوالگی کے مطالبات کی اب تک مخالفت کی ہے۔

اسی بارے میں