روہنگیا شدت پسندوں نے ہندوؤں کا قتلِ عام کیا: ایمنسٹی

Hindu children gather at the temporary camp in Maungdaw township, Rakhine State, western Myanmar, 6 September 2017. تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایمنسٹی کے مطابق مارے جانے والے ہندوؤں میں بچے بھی شامل ہیں

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات کے مطابق روہنگیا مسلمان شدت پسندوں نے گذشتہ سال اگست میں مختلف حملوں کے دوران درجنوں ہندو شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ کے مطابق، ارسا نامی اس گروہ نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے ایک یا دو واقعات میں 99 ہندو شہریوں کو قتل کیا تاہم، ارسا نے ایسا کوئی بھی حملہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

ہلاکتوں کے یہ واقعات میانمار کی فوج کے خلاف بغاوت کے ابتدائی دنوں میں پیش آئے۔ میانمار کی فوج پر بھی اس قسم کے تشدد کا الزام لگایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

روہنگیا مسلمانوں کا درد

روہنگیا جائیں تو جائیں کہاں؟

’روہنگیا کے ساتھ ریاستی سرپرستی میں امتیازی سلوک‘

گذشتہ سال اگست سے میانمار میں سات لاکھ روہنگیا اور دیگر افراد کو تشدد کی وجہ سے نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ اس تنازعے کی وجہ سے، میانمار کی اکثریتی بودھ اور اقلیتی ہندو آبادی بھی بےگھر ہوئی ہے۔

ہندو اکثریت کے گاؤں پر حملہ کیا گیا تھا

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے بنگلہ دیش اور ریاست رخائن میں متعدد پناہ گزینوں کے انٹرویو کیے، جن سے تصدیق ہوئی کہ آراکان روہنگیا سالویشن آرمی یا ارسا کے ارکان نے یہ اگست 2017 کے اواخر میں شمالی مونگدا میں واقع دیہات میں کیے تھے۔

یہ وہی وقت تھا جب برمی پولیس کی چوکیوں پر حملے بھی کیے گئے تھے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ارسا دوسرے علاقوں میں شہریوں کے خلاف چھوٹے پیمانے کے تشدد کی ذمہ دار بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption ارسا کی ایک ویڈیو میں ان کے سربراہ عطا اللہ درمیان میں موجود ہیں

رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ارسا کے اراکین نے 26 اگست کو ہندو گاؤں پر حملہ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے، "اس ظالمانہ اور بے معنی حملے میں ارسا کے ارکان نے بہت سے ہندو خواتین، مردوں اور بچوں کو پکڑا اور گاؤں کے باہر لے جا کر مارنے سے پہلے ڈرایا۔‘

اس حملے میں زندہ بچ جانے والے ہندوؤں نے ایمنٹسی کو بتایا کہ انھوں نے اپنے رشتہ داروں کو مرتے دیکھا یا ان کی چیخیں سنیں۔

آہنوک کھامونگ سیک نامی گاؤں کی ایک خاتون نے کہا، ’انھوں نے مردوں کو مار ڈالا، ہم سے کہا گیا کہ ان کی طرف نہ دیکھیں۔ ان کے پاس خنجر تھے۔ کچھ نیزے اور لوہے کے راڈز بھی تھے۔ ہم جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے اور وہاں سے کچھ کچھ دیکھ سکتے تھے... میرے چچا، والد، بھائی ... سب کو قتل کیا گیا تھا۔‘

یہاں 20 مردوں، 10 عورتوں اور 23 بچوں کو قتل کرنے کے الزامات ہیں، جن میں سے 14 کی عمر 8 سال سے کم تھی۔

ایمنسٹی نے کہا کہ پچھلے سال ستمبر میں اجتماعی قبروں سے 45 افراد کو لاشیں نکالی گئیں۔ تاہم قریبی دیہات ’یےبوک کیار‘ کے 46 افراد کی لاشیں تاحال نہیں ملیں۔

تحقیقات کے مطابق ’یے بوک کیار‘ میں بھی قتل عام اسی روز ہوا جس دن آہنوک کھامونگ سیک پر حملہ ہوا تھا۔ اس طرح اموات کی کل تعداد 99 ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سات لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش پہنچے ہیں

میانمار کی سکیورٹی فورسز پر تنقید

ایمنسٹی نے میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چلائے جانے والی مہم پر بھی تنقید کی ہے جو نامناسب اور غیرقانونی ہے۔

انسانی حقوق تنظیم کی رپورٹ کے مطابق، ’میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے روہنگیا آبادی کی نسل کشی کے بعد ہی ارسا کی جانب سے یہ حملے کیے گئے۔‘

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ بنگلہ دیش کی سرحد پر درجنوں افراد سے انٹرویوز اور تصاویر کی فورنزک جان کے بعد تیار کی گئی ہے۔

ایمنیسٹی کی اہلکار ترانا حسن کا کہنا ہے کہ ’یہ انکوائری شمالی ریاست رخائن میں ارسا کی جانب سے انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتی ہے، جسے خبروں میں زیادہ اجاگر نہیں کیا گیا۔ ‘

گذشتہ برس اگست سے 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش آئے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

روہنگیا مسلمان میانمار کی اقلیتی آبادی ہیں جنہیں وہاں بنگلہ دیش کے غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ کئی نسلوں سے میانمار میں مقیم ہیں۔ دوسری جانب بنگلہ دیش بھی انہیں شہریت نہیں دیتا۔

اسی بارے میں