کیا انگریزی ’دنیا کی پسندیدہ زبان‘ رہ سکتی ہے؟

بچے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دنیا بھر میں لاکھوں افراد انگریزی بولتے ہیں لیکن کمپیوٹر کے ذریعے ترجمہ کرنے کی ٹیکنالوجی، مخلوط زبانوں کا پھیلاؤ، اس کی حیثیت کے لیے خطرہ ہیں۔

کس ملک میں انگریزی بولنے والے سب سے زیادہ لوگ ہیں یا لوگ انگریزی بولنا سیکھ رہے ہیں؟

اس کا جواب چین ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی پریس کی جانب سے شائع کیے جانے والے ایک مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کم سے کم 35 کروڑ افراد کو انگریزی کا کچھ علم ہے جبکہ انڈیا میں کم سے کم دس کروڑ افراد اس زبان سے آگاہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صرف 20 گھنٹے میں ہم کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں!

ایران: پرائمری سکولوں میں انگریزی پڑھانے پر پابندی

مالٹا کی زبان میں تاریخ کی دلچسپ جھلک

برطانوی شہریوں کو اردو سیکھنے کا مشورہ

چین میں شاید زیادہ لوگ ہیں جو انگریزی کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ہیں مگر اس کے مقابلے میں امریکی ہیں جو اسے پہلی زبان کے طور پر بولتے ہیں۔

لیکن اب انگریزی ’دنیا کی پسندیدہ زبان‘ کی حیثیت سے کس طرح کوالیفائی کر سکتی ہے؟

عالمی اقتصادی فورم کے تخمینوں کے مطابق دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب لوگ انگریزی بولتے ہیں لیکن تقریباً 40 کروڑ افراد ایسے ہیں جن کی یہ مادری زبان ہے۔

یقیناً دنیا میں ایک سے زیادہ انگریزی موجود ہے یہاں تک کہ انگلینڈ میں بھی۔

مثال کے طور پرپورٹسمتھ کے تاریخی شہر میں بھی امریکی اور جدید انگریزی کے مقابلے میں علاقائی لہجہ ’پومپی‘ بہت زیادہ مقبول ہے۔

انگریزی دنیا کی سب سے پسندیدہ زبان ہے۔ جب لوگوں اپنی مادری زبان میں بات سمجھانے میں ناکام رہتے ہیں تو سب سے زیادہ لوگ انگریزی میں بات سمجھانے یا بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر چینی زبان بولنے والا ایک شخص فرانسیی بولنے والے شخص کے ساتھ بات چیت میں چینی زبان نہیں بولتا اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ انگریزی میں بات کریں۔

یہ شاید پانچ سال پہلے تک تو درست ہو، مگر اب نہیں۔ کمپیوٹر ترجمہ اور آواز کی شناخت کی ٹیکنالوجی میں ترقی کی بدولت وہ اپنی اپنی زبان بول اور سن سکتے ہیں۔ مشین ٹرانسلیشن آج کی حقیقت ہے۔

تو کیا انگریزی زبان کے دنیا کی عالمی زبان کے طور پر دن گنے جا چکے ہیں؟ یا یوں کہیں کہ کمپیوٹرز کا دور آ گیا ہے اور وہ فتح یاب ہو رہے ہیں۔

آپ کسی بھی تحریر کو اب چاہے وہ انگریزی میں ہو یا کسی اور زبان میں اپنے کمپیوٹریا ٹیبلٹ پر کچھ کلکس کے ساتھ آسانی سے کسی ایسی زبان میں پڑھ سکتے ہیں جو آپ کو آتی ہے۔

لہٰذا انگریزی کیوں سیکھیں اگر کمپیوٹرز اب آپ کے لیے تمام محنت کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فی الوقت اگر آپ بین الاقوامی سطح پر کاروبار کرنا چاہتے ہیں، جدید ویڈیو گیمز کھیلنے یا مقبول موسیقی سننا چاہتے ہیں، اور آپ انگریزی نہیں بول سکتے تو آپ کو مشکل ہو گی لیکن چیزیں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔

کیلیفورنیا کی سٹینفرڈ یونیورسٹی میں جنوبی کوریا کے کمپیوٹر سائنسدان، وونکیوم لی، ترجمہ اور آواز کی شناخت کی ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری میں مدد کر رہے ہیں جو اتنی بہتر ہو گی کہ جب آپ کسٹمر سروس ہیلپ لائن پر فون کریں گے تو آپ کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ آپ ایک انسان سے یا کسی کمپیوٹر سے بات کر رہے ہیں۔

اسی ادارے میں مشین لرننگ، لسانیات اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر کرسٹوفر میننگ اس بات پر مصر ہیں کہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں کمپیوٹر کے ترجمے کی ٹیکنالوجی انسانی مترجموں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن انگریزی زبان کو صرف یہی چیلنج درپیش نہیں ہے کیونکہ بہت سے لوگ اسے دوسری یا تیسری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ اس کی ’ہائی برڈ‘ اقسام پھیل رہی ہیں، جو عام انگریزی کو الگ الگ زبانوں کے ساتھ ملاتی ہیں۔ صرف انڈیا میں، آپ کو ہنگلش (ہندی انگریزی)، بنگلش (بنگالی انگریزی) اور تنگلش (تامل انگریزی) مل سکتی ہے۔

امریکہ میں متعدد ہسپانوی امریکی جن کی وسطی اور جنوبی امریکہ میں جڑیں ہیں ہسپانوی اور انگریزی کے الفاط ملا کر سپینگلش بولتے ہیں۔

زبان ہمیشہ سے رابطے کا ایک ذریعہ رہی ہے۔ یہ شناخت کا اظہار بھی ہے، یہ ہمیں اس شخص کے بارے میں بتاتی ہے جو وہ ہے۔ سان فرانسسکو کے ایک شاعر جوسیاہ لوس الڈریٹ جو سپینگلش میں لکھتے ہیں اسے ’مزاحمت کی زبان‘ کہتے ہیں۔

انگریزی کا غلبہ حالیہ زمانے تک کی دنیا کی دو طاقتوراقوام امریکہ اور برطانیہ کی زبان ہونے کی مرہونِ منت رہا ہے لیکن اب خاص طور پر چین کے اقتصادی سپر پاور بن جانے کی وجہ سے انگریزی زبان کو چیلنج کا سامنا ہے۔

آگر آپ صحرائے صحارا کے زیریں علاقوں کے رہنے والے ہیں اور کام کی تلاش میں پرجوش ہیں تو سکول کی سطح پر انگریزی سیکھ کر امریکہ یا برطانیہ میں کام حاصل کرنے کی امید لگانے کی بجائے آپ کے لیے مینڈرین (چینی زبان) سیکھنا اور چین میں کام ڈھونڈنا زیادہ بہتر ہو گا۔

امریکہ میں بھی چینی زبان سیکھنا بہت مقبول ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سنہ 2015 میں یہ زبان سیکھنے والے طلبا کی تعداد دو برس میں دگنی ہو گئی جبکہ کالجوں میں گذشتہ عشرے کے برعکس زبان سیکھنے والے طلبا کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔

یوگنڈا میں تمام سکینڈری سکولوں میں انگریزی زبان میں تدریس کی جاتی ہے جبکہ کچھ والدین اپنے بچوں کو انگریزی بطور پہلی زبان سکھاتے ہیں۔ دنیا کے بہت سے حصوں میں انگریزی زبان اب بھی کامیابی کی ضمانت سمھجی جاتی ہے۔

تو کیا انگریزی کا مستقبل خطرے میں ہے؟ میں نہیں سمجھتا۔

اگرچہ انگریزی زبان کا عالمی غلبہ آنے والی دہائیوں میں کم ہو سکتا ہے۔ دیگر تمام زبانوں کی طرح، انگریزی بھی مستقل طور پر بدل رہی ہے اور نئی ضرورتوں کے مطابق ڈھل رہی ہے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک ٹیکسٹ اور دوست عام اسم تھے۔ اب یہ افعال کا درجہ بھی اختیار کر گئے ہیں۔

کمپیوٹر کے ذریعے ترجمہ کرنے کی ٹیکنالوجی، مخلوط زبانوں کا پھیلاؤ، چین کی ترقی یہ سب حقیقی چیلنج ہیں لیکن میں اپنے آپ کو انتہائی خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایسے ملک میں پیدا ہوا جہاں میں چوسر، شیکسپیئر، ملٹن اور ڈکنز کی زبان کو اپنی کہہ سکتا ہوں اور اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہوں حالانکہ جسے میں انگریزی کہتا ہوں وہ ان سب کی زبان سے بہت مختلف ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں