چین میں غیر معمولی آوازوں سے خبردار رہیں: امریکی عملے کو تنبیہ

People apply for visas at the US consulate in Guangzhou, China تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی وزراتِ خارجہ نے اپنے عوام کو چین میں غیر معمولی صوتی یا نظر کے مسائل کے بارے میں محتاط رہنے کے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی پراسرار صورتحال میں انہیں آگاہ کریں۔

امریکی خارجہ وزارت نے عملے کے ایک ملازم کی مشتبہ صورتحال کے بعد یہ انتباہ جاری کیا ہے۔ انھوں نے تیز اور مشکوک، لیکن غیر معمولی آواز اور دباؤ کی شکایت کی۔

امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپے نے کہا کہ یہ معاملہ کیوبا میں امریکی سفارت خانے پر کیے گئے سانک حملے سے ملتا جلتا ہے۔

اسی بارے میں

کیوبا میں امریکی سفارت خانے پر ’صوتی حملہ‘

کینیڈا نے کیوبا سے سفارتکاروں کے خاندان واپس بلا لیے

چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں میں کشیدہ ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا خطرہ ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ تاہم امریکہ نے اس حوالے سے چین پر کوئی الزام نہیں لگایا۔

چین میں کیا ہوا؟

امریکی سفارت خانے کے ترجمان جینی لی نے کہا کہ ملازمین کو گذشتہ سال 2017 اور 2018 کے دوران گوانژو نامی شہر میں مختلف قسم کے جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد ان ملازمین کو واپس امریکہ بھیج دیا گیا تھا۔ 18 مئی کو امریکی سفارت خانے کو علم ہوا کہ ملازمین دماغ کی چوٹ سے متاثر ہوئے ہیں۔

لی کا کہنا ہے کہ ان علامات کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں اور چین میں کہیں اور سفارتی عملے کے علاوہ بھی ایسی صورتحال پیش نہیں آئی۔

لی کے بقول ’امریکی حکومت نے ان معاملات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور چین میں اپنے اہلکاروں کو مطلع کر دیا ہے۔

لی کا کہنا تھا ’ہم نے اپنے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں مشکوک آواز یا روشنی سے سامنا کرنا پڑا ہے، تو اس کی طرف جانے کی کوشش نہ کریں، لیکن اس جگہ پر جائیں جہاں کوئی آواز نہیں ہے۔‘

لی کا کہنا تھا کہ چین نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس کی جانچ پڑتال کرے گا۔

اسی بارے میں