’شمالی کوریا نے جوہری سائٹ کی سرنگیں تباہ کر دیں‘

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ستمبر 2017 میں آخری بار ٹیسٹ کیے جانے کے بعد یہ سرنگیں ویسے ہی استعمال کے قابل ہی نہیں رہی تھیں۔ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ستمبر 2017 میں آخری بار ٹیسٹ کیے جانے کے بعد یہ سرنگیں ویسے ہی استعمال کے قابل ہی نہیں رہی تھیں۔

شمالی کوریا نے بظاہر اپنے جوہری ٹیسٹ سائٹ کی سرنگیں تباہ کر دی ہیں اور اس اقدام کا ممکنہ مقصد علاقائی کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

پونگئے ری جوہری سائٹ کے مقام پر موجود غیر ملکی صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک بہت بڑا دھماکہ دیکھا۔

اس سال کے آغاز میں شمالی کوریا نے اس سائٹ کو تباہ کرنے کی پیشکش کی تھی جس کا مقصد جنوبی کوریا اور امریکہ کے ساتھ سیاسی مفاہمت تھا۔

تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ستمبر 2017 میں آخری بار ٹیسٹ کیے جانے کے بعد یہ سرنگیں ویسے ہی استعمال کے قابل ہی نہیں رہی تھیں۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی مبصرین کو اس جوہری سائٹ کو ختم کرنے کے عمل کی نگرانی کی اجازت نہیں ہے۔

’جوہری قوت کا کھلم کھلا مظاہرہ‘

اس سے قبل شمالی کوریا کی ایک اعلیٰ اہلکار نے امریکی نائب صدر مائیک پینس کے بیان کو ’بیوقوفانہ‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر سفارتکاری ناکام ہوتی ہے تو پھر ممکنہ ’جوہری قوت کا برملا مظاہرہ‘ ہوگا۔

چھوئے سن ہی نے کہا ہے کہ پیونگ یانگ امریکہ سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گا اور نہ ہی اسے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے قائل کرے گا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
جوہری ہتھیاروں پر ٹرمپ اور کم کے متضاد خیالات

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آ جائیں اور یا پھر ’جوہری قوت کا کھلم کھلا مظاہرہ‘ ہو گا۔

خیال رہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات 12 جون کو سنگاپور میں کی جانی ہے لیکن شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے یک طرفہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے پر اصرار کیا تو وہ یہ ملاقات منسوخ کر دے گا۔

اگلے ماہ کم جونگ اُن سے ملاقات شاید نہ ہو: ٹرمپ

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بہت ہوشیار ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس چیز کے قوی امکانات موجود ہیں کہ آئندہ ماہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ملاقات نہ ہو پائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات سے قبل شمالی کوریا کو کچھ شرائط پر عمل کرنا ہو گا اگر ایسا نہیں ہوا تو شاید ملاقات بعد میں کبھی ہو۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں چھوئے سن ہی نے کہا ہے کہ ’مائیک پینس نے حالیہ دنوں میں میڈیا پر بے لگام اور بیباک بیانات دیے جن میں شمالی کوریا کا حال لیبیا جیسا ہوگا بھی شامل ہے۔‘

ادھر واشنگٹن میں موجود چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے پاس شمالی کوریا کے ساتھ امن معاہدے کرنے اور تاریخ رقم کرنے کا یہی وقت ہے۔‘

تاہم امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان طے شدہ ملاقات اب بھی ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل مائک پومپیو نے ہی کہا تھا کہ امریکہ ان مذاکرات کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے اور ’برا معاہدہ‘ کوئی آپشن نہیں ہے۔

شمالی کوریا نے خیر سگالی کے طور پر رواں ہفتے ایک جوہری تنصیب کو ختم کرنا تھا لیکن خراب موسم کے باعث یہ کارروائی تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گذشتہ ہفتے ہونے والی کشیدگی

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیے کہ اس کے امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں اشتعال انگیز اور حملے کی تیاری ہیں۔

اس کے بعد پیانگ یانگ نے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن پر غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کا الزام ائد کیا جنھوں نے یہ تجویز کیا تھا کہ شاید شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کے ساتھ لیبیا جیسا ماڈل استعمال کیا جائے گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بہت ہوشیار ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

شمالی کوریا پر ’لیبیا ماڈل‘ لاگو نہیں کیا جائے گا: ٹرمپ

’امریکہ اب بھی شمالی کوریا ملاقات کے لیے پرامید‘

تاہم بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ لیبیا جیسا سلوک نہیں کیا جائے گا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اتوار کو ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکی صدر اپنے رفقا اور مشیران سے صلاح لے رہے ہیں کہ کیا ان کو اس ملاقات کو منسوخ کر دینا چاہیے۔

دوسری جانب شمالی کوریا میں جوہری تجربوں کی سائٹ کو تباہ کرنے کی تقریب کے لیے برطانیہ، امریکہ، روس اور چین سے صحافی شمالی کوریا پہنچے۔

اسی بارے میں