کم جونگ اُن کے نام ٹرمپ کے خط میں کیا ہے؟

  • اینتھونی زرچر
  • شمالی امریکی نامہ نگار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ ماہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ملاقات منسوخ کر دی جس پر واشنگٹن سمیت دنیا بھر کے لوگ حیران ہیں۔ یہ انھوں نے کیسے کیا۔۔۔؟ ایک ذاتی خط کی صورت میں جو انھوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کو لکھا اور اس خط سے ٹرمپ کا سفارتی انداز اور مستقبل کی پیش گوئی صاف عیاں ہے۔

اسی بارے میں

پہلا پیراگراف

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مراسلہ ’عزت مآب‘ جیسے لقب سے شروع ہوا جو کِم کے لیے شاید نایاب طرز تخاطب ہے۔ اس میں کسی دفتری دستاویز کے انداز میں شمالی کوریا کے رہنما کے ’وقت، تحمل اور کوششوں ‘کا شکریہ ادا کیا گیا۔

یہاں ہلکے پھلکے اشتعال کا اظہار کرتے ہوئے کم جونگ کو جتایا گیا کہ وہ یہ ملاقات چاہتے تھے جبکہ ان کے لیے تو یہ ’غیر متعلقہ‘ چیز تھی۔ خط میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ملاقات کے لیے طویل عرصے سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ( ملاقات کا عندیہ تو مارچ میں دیا گیا تھا تاہم اس کی حتمی تاریخ چند ہفتے پہلے بتائی گئی۔)

اس خط کا اصل متن اس پیرا گراف کے آخر میں واضح ہوا جہاں صدر ٹرمپ کے قلم نے زہر اگلنا شروع کیا۔

جمعرات کو شمالی کوریا نے اپنے جوپری تجربوں کی سرنگوں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا تاہم اس کے ساتھ ہی جوہری جنگ کی دھمکی بھی دے ڈالی اور امریکی نائب صدر مائیک پینس کو سیاسی پُتلا کہہ کر ان کی تذلیل کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کورینز کی جانب سے زبانی حملوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

،تصویر کا کیپشن

The letter in full

پیراگراف دوم

دوسری پیرے میں وہ دوبارہ سفارتی دستانے چڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کس طرح حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیانی گرمجوشی آئی اور یہ بھی کہ دروازہ ابھی پوری طرح بند نہیں ہوا۔

صدر ٹرمپ لکھتے ہیں کہ وہ اب بھی شمالی کوریا کے رہنما سے ملنے کے خواہشمند ہیں۔ انھوں نے تین امریکی قیدیوں کو جنہیں شمالی کوریا میں جبری مشقت کی سزا سنائی گئی تھی آزاد کیے جانے کے عمل کو ’ایک خوبصورت اقدام‘ قرار دیا۔ یہ وہ جگہ ہے جس پر شاید ناقدین یہ کہیں گے کہ یہ تحسین کا کے لیے لیے مناسب وقت تھا یا نہیں۔

تیسرا پیراگراف

یہاں پہنچ کر تجارتی دستاویز کا مزاج لوٹ آتا ہے تاہم اس میں کچھ تکلیف دہ اصلاحات کا استعمال کیا گیا۔ جیسے کہ ’اگر آپ کا ارادہ تبدیل ہوتا ہے تو مجھے فون کرنے یا لکھنے میں ہچکچائیے گا نہیں۔‘

خط کا اختتام ایک امید پر ہوتا ہے۔ اپنی اس ٹویٹا میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کا طے شدہ دن اور مقام ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ملاقات دنیا کے امن کے لیے اہم ہو سکتی تھی۔‘

ٹرمپ کے حامیوں نے یہ بحث چھیڑی تھی کہ انہیں نوبل انعام ملنا چاہیے اور انھوں نے بھی یہ کہتے ہوئے تسلیم کیا کہ ’سب ایسا ہی سوچتے ہیں۔ اور میرا انعام دنیا کی جیت ہے۔‘

تاہم اس خط کے آخر میں انھوں نے لکھا ہم نے پائیدار امن کا موقع گنوا دیا اور یہ تاریخ کا ایک اداس لمحہ ہے۔