رمضان کے بارے میں چھ غلط فہمیاں

Muslim family at the dinner table تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رمضان اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے

اسلامی مہینہ رمضان اس وقت جاری ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان روزے رکھ رہے ہیں۔

روزے رکھنے کا مقصد طویل عبادت اور صبر کے ذریعے مذہبی روحانیت میں اضافہ کرنا ہے۔ رمضان کو لوگ اللہ کی قربت حاصل کرنے کا موقع تصور کرتے ہیں۔

اگرچہ بظاہر یہ ایک سیدھا سادہ عمل ہے مگر روزوں کے حوالے سے متعدد افواہیں اور غیر مصدقہ باتیں گردش کرتی ہیں۔

ان میں سے چھ مندرجہ ذیل ہیں اور ان کے ساتھ اسلامک سائنسز اینڈ شریعہ کے طالب علم حافظ شبیر حسن کا تجزیہ شامل کیا گیا ہے۔

تاہم ان سوالات کے جواب اس بات پر منحصر ہیں کہ آپ کس فقہ کو مانتے ہیں اور کچھ مندرجہ ذیل معاملات میں تشریح کی جا سکتی ہے۔

’دانت برش کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عالمی ادارۂ صحت نے بھی مسواک کے فوائد کی تصدیق کی ہے

بہت سے علما کا خیال ہے کہ دانت برش کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ شبیر حسن کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں ہلکا سا پودینے کا ذائقہ روزہ توڑنے کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ بہت سے علما کے خیال میں دانت برش کرنا جائز ہے، شبیر حسن زیادہ محتاط لوگوں کے لیے کچھ ٹوٹکے بتاتے ہیں۔

پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ ’کم سے کم ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں۔ اور ایسا ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں جس کا ذائقہ بہت تیز نہ ہو۔‘

دوسرا مشورہ ہے مسواک استعمال کی جائے۔

’آپ اپنا تھوک نگل نہیں سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اپنے تھوک کو نگلنے کی بالکل اجازت ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ شبیر حسن کہتے ہیں کہ اس غلط فہمی کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ ’تھوک نگلنا بالکل قدرتی ہے اور اس سے آپ کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔‘

تاہم کسی اور شخص کے ساتھ جسمانی رطوبت کے تبادلے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

’کسی اور کا تھوک نگلنا قدرے مختلف بات ہے اور روزے کے دوران ایسا نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

’آپ اپنے ساتھی یا بیوی کو بوسہ نہیں دے سکیں گے یا ان کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں قائم کر سکتے۔ روزے کا مقصد ہی اپنی چاہتوں کو کنٹرول کرنا ہے جس میں کھانا، پینا اور جنسی تعلقات شامل ہیں۔‘

’رمضان صرف خوراک پر پابندی کا نام ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رمضان کے دوران غیبت سے بچنا نہایت اہم ہے

کھانا یا پینا ہی وہ اعمال نہیں جن سے روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔ شبیر حسن کہتے ہیں کہ ’وہ گناہ جو آپ اپنی زبان سے کرتے ہیں، ان سے بھی آپ کا روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’اگر آپ غیبت کریں یا گالی گلوچ کریں تو روزے کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔‘

’غلطی سے کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگر آپ مکمل طور پر اور حقیقی طور پر بھول جائیں کہ آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کچھ کھا لیں، تو آپ کا روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ آپ یاد آنے پر فوراً رک جائیں۔

تاہم اگر آپ کوئی ایسا کام کرتے ہوئے کچھ کھا پی لیں جس سے بچا جا سکتا تھا تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جیسے کہ وضو کرتے وقت۔ اگر وضو کرتے وقت آپ غلطی سے پانی نگل لیں تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

شبیر حسن کہتے ہیں: ’جب آپ وضو کر رہے ہوتے ہیں تو ہم مشورہ دیتے ہیں کہ غرارے نہ کریں۔ صرف کلی کریں اور تھوک دیں۔‘

’آپ کوئی دوا نہیں کھا سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانیہ کی مسلم کونسل نے انٹرنیشنل گلاکوما ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک مشترکہ پیغام جاری کیا ہے جس میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ کچھ دوائیاں ایسی ہیں جو روزے میں استعمال کی جا سکتی ہیں، مثال کے طور پر آنکھوں کے قطرے۔

تنظیم نے رمضان کے بارے میں ہدایت نامہ جاری کیا ہے جو ہسپتالوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے مطابق آنکھوں اور کانوں کے قطرے، ٹیکے اور یوریتھرل انفیوژن وہ ادویات ہیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

تاہم دوا نگلنے سے آپ کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

شبیر حسن کہتے ہیں کہ ’پہلے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ اگر آپ کو کوئی بیماری لاحق ہے تو کیا آپ کو روزہ رکھنا بھی چاہیے یا نہیں؟ قرآن سے جو بات واضح ہے وہ ہے کہ آپ کو اپنے ڈاکٹر کی تجویز پر عمل کرنا ہے۔‘

’روزہ ہر حال میں رکھنا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حقیقت یہ ہے کہ روزہ صرف انھی لوگوں پر فرض ہے جو بالغ ہوں اور طبعی طور پر تندرست ہوں ۔

مسلم کونسل کے مطابق جسمانی طور پر کمزور افراد، بیمار، حاملہ عورتیں، بچے کو دودھ پلانے والی مائیں اور مسافر روزہ رکھنے کے پابند نہیں ہیں۔

شبیر حسن کہتے ہیں کہ اگر آپ نے کسی بیماری کے باعث روزے نہیں رکھے تو لازمی ہے کہ رمضان کے بعد ضائع شدہ روزے کسی اور مہینے میں پورے کریں۔

وہ کہتے ہیں: ’تاہم اگر بیماری طویل مدت ہے تو پھر آپ یومیہ فدیہ دے سکتے ہیں، یعنی کسی غریب کو کھانا کھلا سکتے ہیں۔ برطانیہ میں یہ رقم چار سے پانچ پاؤنڈ بنتی ہے۔

اسی بارے میں