پیرس کے ’سپائیڈرمین‘ کے لیے فرانسیسی شہریت

پیرس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ممودو گاساما نے ایک عمارت کے باہر لٹکتے ہوئے چار سالہ بچے کو باہر سے عمارت پر چڑھ کر بچایا

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک بالکونی سے لٹکتے ہوئے بچے کی جان بچانے والے افریقی ملک مالی کے ایک تارک وطن کو ’ہیرو‘ قرار دیا جا رہا ہے اور اسے فرانسیسی شہریت دی جائے گی۔

22 سالہ ممودو گاساما نے جب ایک عمارت کی چوتھی منزل کے باہر لٹکتے ہوئے چار سالہ بچے کو باہر سے عمارت پر چڑھ کر بچایا تو ان کی بہت تعریف کی گئی۔

ایک ویڈیو میں انھیں ایک بالکونی سے دوسری بالکونی پر چڑھتے ہوئے چوتھی منزل تک پہنچتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد فرانسیسی صدر امینوئل میکخواں نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ انھیں شہریت دی جائے گی۔

فرانسیسی صدر نے ذاتی طور گاساما کا شکریہ ادا کیا ہے اور ان کی بہادری پر انھیں حوصلہ مندی کے تمغے سے نوازا اور کہا کہ انھیں آگ بجھانے کے ادارے میں نوکری کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔

ممودو گاساما کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ گذشتہ سال فرانس آئے تھے اور وہ بحیرۂ روم کے راستے کشتی پر طویل اور خطرناک سفر کرتے ہوئے اٹلی پہنچے تھے۔

وہ واقعہ جس نے گاساما کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا سنیچر کی شام پیرس کے شمالی حصے میں ایک گلی میں پیش آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گاساما کے فرانسیسی صدر میکخواں سے ملاقات بھی کی

گاساما کہتے ہیں کہ وہ وہاں سے گزر رہے تھے جب انھوں نے ایک عمارت کے سامنے لوگوں کے ہجوم کو دیکھا۔

انھوں نے صدر میکخواں کو بتایا کہ ’میرے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا، میں بھاگ کر سڑک کے دوسری جانب گیا اور اسے بچا لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اوپر چڑھا اور خدا کا شکر کہ خدا نے میری مدد کی۔ جیسے جیسے میں اوپر چڑھتا گیا میرے اندر مزید اوپر جانے کا حوصلہ پیدا ہوتا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا جب انھوں نے بچے کو بچایا تو وہ رو رہا ہے اور اس کے پاؤں پر چوٹ بھی لگی ہوئی تھی۔

جب فائرفائٹرز پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ بچے کو پہلے ہی بچا لیا گیا ہے۔

فائرفائٹرز کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’خوش قسمتی سے، وہاں کوئی ایسا موجود تھا جو صحت مند تھا اور جس کے اندر اتنا حوصلہ تھا کہ وہ بچے کو بچاسکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانسیسی صدر نے ذاتی طور گاساما کا شکریہ ادا کیا ہے اور ان کی بہادری پر انھیں تمغے سے نوازا

فرانسیسی ذرائع ابلاغ نے مقامی حکام کے حوالے بتایا ہے کہ اس وقت بچے کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق پولیس نے بچے کو گھر پر اکیلا چھوڑنے کے شبہے میں بچے کے والد سے پوچھ گچھ کی ہے جبکہ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کی والدہ پیرس میں نہیں تھیں۔

پیرس کی میئر این ہدالگو نے بھی 22 سالہ شخص کی بہادری کی تعریف کی ہے۔

انھوں نے ممودو گاساما کو ’18ویں کا سپائیڈرمین‘ کہا ہے، جس سے مراد پیرس کا وہ علاقہ جہاں ہے واقعہ پیش آیا تھا۔ میئر کی جانب سے انھیں ’تمام شہریوں کے ایک مثال‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں