شمالی کوریا کے اعلیٰ اہلکار مذاکرات کے لیے امریکہ جا رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ اہلکار کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ممکنہ اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں امریکہ جا رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی یونہاپ کا کہنا ہے کہ جنرل کم یونگ چول بیجنگ سے ہوتے ہوئے بدھ کو امریکہ پہنچیں گے۔

جنرل کم یونگ چول سنہ 2000 کے بعد امریکہ کا دورہ کرنے والے شمالی کوریا کے سب سے اعلیٰ اہلکار ہوں گے۔

’کم جونگ اُن ٹرمپ سے ملاقات کے لیے پرعزم‘

اگلے ماہ کم جونگ اُن سے ملاقات شاید نہ ہو: ٹرمپ

’شمالی کوریا ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کو مذاق نہ سمجھے‘

ایسا کہا جا رہا ہے کہ ان کا یہ دورہ کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ممکنہ ملاقات کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ ملاقات نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم دونوں ممالک کی جانب سے کوشش کی جار ہی ہے کہ 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والا اجلاس منعقد ہو۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ شمالی کوریا کا کوئی سربراہ برسراقتدار امریکی صدر سے ملاقات کرے گا۔

خبر رساں ادارے یونہاپ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ جنرل کم یونگ چول بیجنگ میں چینی حکام سے ملاقات کے بعد بدھ کو نیویارک روانہ ہوں گے۔

جنرل کم کا مذاکرات میں شامل ہونا اہم ہے کیونکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شمالی کوریا مذاکرات چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جنرل کم یونگ چول کون ہیں؟

72 سالہ جنرل کم یونگ چول پرؤسی ملک جنومی کوریا میں ایک متنازع شخصیت ہیں، اور ماضی میں بین الاکوریائی مذاکرات میں مذاکرات کار کا کردار ادا کر چکے ہیں۔

جب وہ ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ تھے تو ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ جنوبی کوریا کے اہداف پر حملوں کے پیچھے وہ ہی تھے، ان میں جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملہ بھی شامل ہے جس میں 46 افراد مارے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر 2014 میں سونی پکچرز کی ہیکنگ کا الزام بھی ہے۔

ان تمام واقعات کے نتیجے میں امریکہ نے جنرل کم یونگ چول پر 2010 اور 2015 میں ذاتی پابندیاں لگائی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق 2016 میں ’ناقابل برداشت رویے‘ کی وجہ سے سزا دیے جانے کے باوجود جنرل کم یونگ چول اپنی جماعت اور فوج میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں، اور جنوبی کوریا میں ہونے والے 2018 کے سرمائی اولمپکس مقابلوں کی اختتامی تقریب شریک شمالی کوریا کے وفد کے سربراہ بھی جنرل کم ہی تھے۔

اسی بارے میں