مونیکا لیونسکی اور سٹورمی ڈینیئلز: دو امریکی صدور کے دو سکینڈل

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES AND REUTERS

نوے کی دہائی کے دوران امریکی صدر بل کلنٹن اور وائٹ ہاؤس کی ایک انٹرن مونیکا لیونسکی کے درمیان ایک معاشقے کے معاملے پر عالمی سطح پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور آخرکار یہ معاملہ صدر بل کلنٹن کے مواخذے پر ختم ہوا۔

کیا سٹورمی ڈینیئلز اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سکینڈل کا بھی ایسا ہی نتیجہ نکل سکتا ہے؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ2006 کے اس مبینہ سکینڈل کی حقیقت سے انکار کیا ہے لیکن کلنٹنن کیس کی طرح اس بار بھی اس معاملے کی اصل جڑ محض جنسی تعلقات نہیں بلکہ اس ضمن میں بولے گئے جھوٹ ہیں۔

پورن سٹار کو پیسے دیے گئے، معلوم نہیں تھا: صدر ٹرمپ

Metoo# مونیکا لیونسکی نے کس تجربے کی بات کی

کلنٹن، لیونسکی معاشقہ

'میں نے اس عورت سے جنسی تعلقات نہیں رکھے'۔ سنہ 1998 میں صدر کلنٹن کا یہ زوردار تاکیدی بیان امریکی سیاسی تاریخ کے یادگار ترین اقوال میں سے ایک بنا۔

نہ صرف یہ کہ یہ بیان کچھ عجیب تھا، بلکہ یہ جھوٹ پر مبنی بھی تھا۔ بعد میں یہ ثابت ہو گیا کہ صدر کلنٹن نے نوجوان انٹرن مونیکا لیونسکی سے 'تعلقات' رکھے۔ مونیکا لیونسکی کے ساتھ کام کرنے والی ان کی سہیلی لنڈا ٹرپ خفیہ طور پر اس گفتگو کو ریکارڈ کرتی رہی تھیں جس میں انھوں نے تفصیلات کا اعتراف کیا۔

جب ایک سرکاری افسر پاؤلا جونز نے صدر کلنٹن کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کا مقدمہ دائر کیا، اور اس سلسلے میں مونیکا لیونسکی کو تحریری بیان دینے کے لیے بلایا گیا تو انھوں نے جنسی تعلقات کا انکار کیا۔ بعد میں یہ مقدمہ خارج کر دیا گیا تھا۔

صدر کلنٹن نے بھی بعد میں حلف میں رہتے ہوئے معاشقے سے انکار کیا۔ اسی وجہ سے ان پر جھوٹی گواہی کے الزامات لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹرمپ،سٹورمی معاشقہ: کب،کیا ہوا؟

پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنہ 2006 میں ڈونلڈ ٹرمپ سے جنسی تعلقات قائم کیے جن میں ان کی مرضی شامل تھی۔

یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم سے بہت پہلے کی بات ہے اور اس وقت وہ رئیلٹی ٹی وی شو ’اپرینٹس‘ میں کام کر رہے تھے۔

سٹورمی کا کہنا ہے کہ ایسا صرف ایک بار، ایک گولف ٹورنامنٹ کے دوران ہوٹل کے کمرے میں ہوا، لیکن بعد میں بھی وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس تعلق سے انکار کرتے ہیں جو مبینہ طور پر اس وقت ہوا جب ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ حاملہ تھیں۔

رواں سال کے آغاز میں بعض ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ صدر ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن نے سنہ 2016 کے انتخاب سے پہلے خاموش رہنے کے معاہدے کے عوض سٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی رقم دی تھی۔

اس کے بعد سے اب تک صدر ٹرمپ اور ان کے وکلا کی ٹیم کی جانب سے اس ادائیگی کے متعلق متضاد بیان دیے گئے ہیں۔ ان بیانات سے سوال اٹھے کہ صدر ٹرمپ ادائیگی کے متعلق کیا کچھ جانتے تھے؟

سٹورمی ڈینیئلز نےمعاہدہ تحلیل کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط نہیں کیے چنانچہ معاہدہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ وہ صدر ٹرمپ کے خلاف ان کی ایک 'ساکھ متاثر کرنے والی' ٹویٹ پر ہرجانے کا مقدمہ بھی کر رہی ہیں۔

دریں اثنا صدر ٹرمپ کے وکیل سٹورمی ڈینیئلز سے طے شدہ خفیہ معاہدہ افشا کرنے پر دو کروڑ امریکی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اب ہم دونوں واقعات کی بنیادی معلومات کے بعد بیانات کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔

'ٹرمپ اس وقت صدر نہیں تھے جب انھوں نے تعلق قائم کیا'

یہ سچ ہے، لیکن رقم کی ادائیگی ان کی صدارتی مہم کے دوران کی گئی اور مقدمہ اسی پر مبنی ہے۔ اگر رقم انتخابی مہم کے فنڈ سے دی گئی تو یہ خلاف قانون ہے۔

'ایک صدر کی نجی زندگی سے ہمارا تعلق نہیں ہونا چاہیے'

درست ہے۔ شریک حیات سے بے وفائی کرنے پر مواخذہ نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن کلنٹن کیس میں یہ جرح کی گئی تھی کہ اگر صدر نے حلف کے تحت جھوٹ بولا تو ممکن ہے کہ وہ دوسرے معاملات پر بھی جھوٹ بولتے رہے ہوں۔

ٹرمپ کیس میں بھی ناقدین نے بھروسے کے معاملے پر ہی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاموش رہنے کے لیے رقم دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ انہیں بلیک میل کیا جا سکتا ہے، اور اس میں غیر ملکی مخالفین بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

'ٹرمپ پر سکینڈل بےاثر ہوتے ہیں'

آج تک کلنٹن کے معاشقے کو ان کے دور صدارت کا نمایاں ترین سکینڈل سمجھا گیا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ کی صدارت میں اتنے معاملات در پیش ہیں کے سٹورمی ڈینیئلز کا معاملہ ثانوی ہو گیا ہے۔ کیا وہ اس سے بھی نمٹ لیں گے؟ اس سوال کا حتمی جواب دینا اس وقت مشکل ہے۔

بل کلنٹن کے ساتھ تعلقات پر افسوس: مونیکا لیونسکی

ٹرمپ کے وکیل کا اعتراف کہ پورن سٹار کو پیسے دیے تھے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کلنٹن بچنے میں کس طرح کامیاب ہوئے، اور کیا صدر ٹرمپ بچ سکیں گے؟

بل کلنٹن کو برطرف نہیں کیا گیا۔ امریکی ایوان نمائندگان کے ہاؤس ریپبلکنز نے ان کا مواخذہ کیا لیکن بعد میں سینیٹ نے انہیں بری کر دیا اور وہ 2001 تک اقتدار میں رہے۔

لیکن پاؤلا جونز کیس سے ایک اہم تبدیلی ضرور آئی۔ اس مقدمے کے بعد ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ امریکی صدور کو دور صدارت سے قبل کی گئی مبینہ سرگرمیوں پر دیوانی مقدمات سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔

کیا سٹورمی سکینڈل ڈونلڈ ٹرمپ کے زوال کا باعث بن سکتا ہے؟

سینیئرامریکی صحافی مائیکل سیکوف کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس جماعت دوبارہ کانگریس کا کنٹرول حاصل کرتی ہے تو وہ اس بنیاد پر مواخذے کا مقدمہ بنانے سے گریز کریں گے کہ انھوں نے خود کلنٹن معاملے پر مخالفین سے خوب لڑائی کی تھی۔ 'انہیں خود اپنی کہی ہر بات سے پھرنا پڑے گا۔'

کئی کتابوں کی مصنفہ اور درس و تدریس سے وابستہ ہنڈا مینڈل کہتی ہیں کہ جنسی سکینڈل پیاز کی پرتیں چھیلنے جیسا ہے۔ 'بظاہر پرکیف اور شہوت انگیز ہوتا ہے لیکن اس کے بہت سنگین سیاسی اور قانونی نتائج نکل سکتے ہیں۔‘

'لوگ عموماً ایک جنسی سکینڈل کے متعلق جو آسان سمجھتے ہیں وہ ہضم کر جاتے ہیں اور پھر اپنی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تفریق کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کسی فریق کی حمائت کرتے ہیں۔'

اسی بارے میں