بیلجیئم میں مسلح شخص کے حملے میں دو خاتون پولیس افسران ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بیلجیئم کے ایک چینل آر ٹی بی ایف نے کہا ہے کہ مسلح حملہ آور کو عارضی طور پر جیل سے رہا کیا گیا تھا

بیلجئیم کے مشرقی شہر لیژ میں ایک مسلح شخص نے دو خاتون پولیس افسران کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ پولیس نے اسےگولی مار کراس وقت ہلاک کیا جب اس نےایک اور عورت کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔

اس حملے میں دو اور پولیس افسران زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ابھی تک اس حملہ آور کے محرکات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا رہا ہے، تاہم اس واقعہ کو دہشت گردی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پولیس ذرائع نے ایک مقامی میڈیا کے حوالے سے کہا ہے کہ حملہ آور کو اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بیلجیئم میں مبینہ خودکش حملہ آور کو مار دیا گیا

پیرس حملے کے ملزم کو 20 سال قید کی سزا

بیلجیئم کے ایک چینل آر ٹی بی ایف نے کہا ہے کہ مسلح حملہ آور کو عارضی طور پر جیل سے رہا کیا گیا تھا جہاں وہ منشیات کے جرم کی سزا کاٹ رہا تھا۔ شبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ جیل میں انتہا پسند نظریات سے متاثر ہوا۔

یہ واقعہ شہر کے وسط میں ایک کیفے کے نزدیک پیش آیا۔ سرکاری پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ اس شخص نے خاتون پولیس افسران پر خنجر سے حملہ کیا اور پھر اپنے اسلحے سے ان پر گولیاں چلا دیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ جب حملہ ہوا تو لوگ خوف زدہ ہوکر ادھر اُدھر بھاگنے لگے تاکہ محفوظ جگہوں پر پناہ لے سکیں۔

حملہ آور نے ایک قریبی سکول میں داخل ہوکر عملے کی ایک خاتون کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اسی سکول میں پولیس نے پہنچ کر اسے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

بیلجئیم کے وزیر اعظم چارلز مچل نے کہا کہ انھوں نے حالات پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ انھوں نے متاثرین سے اپنی ہمدردیوں کا بھی اظہار کیا۔ بیلجیئم کے وزیر داخلہ جان جمبون نے کہا ہے اس وقت پولیس حالات کو سمجھنے کی کوشش کررہی ہے۔

اس سے قبل بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں 2016 میں تین خود کش حملے ہوئے تھے جن میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ برسلز اور انہی دنوں پیریس کے حملوں کی ذمہ داری نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں