سعد حریری سعودی عرب میں کئی ہفتے حراست میں رہے: فرانسیسی صدر

سعد حریری تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب نے لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کو کئی ہفتے قید میں رکھا تھا۔

فرانسیسی صدر نے دعویٰ کیا کہ سعد حریری کو آزاد کرانے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اس وقت لبنان میں جنگ ہو رہی ہوتی۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں لبنان میں سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا تھا جب سعودی عرب سے سعد حریری نے مستعفی ہونے کی تقریر کی اور کہا کہ ان کو ڈر ہے کہ ایران کی حمایتی جماعت حزب اللہ ان کو قتل کر دے گی۔

واضح رہے کہ نہ تو سعودی عرب اور نہ ہی سعد حریری نے اس سے قبل کہا ہے کہ سعد حریری سعودی عرب میں قید میں تھے۔

آزاد ہوں اور بہت جلد واپس لبنان چلا جاؤں گا: سعد حریری

اپنی لڑائی میں لبنان کو استعمال نہ کریں: امریکہ

تاہم سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ سال نومبر میں لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو قید رکھا تھا۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے امانوئل میکخواں کے بیان کو ’جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ امن اور استحکام کے لیے لبنان کی حمایت جاری رکھیں گے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تمام شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو لبنان اور خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے وہ ایران اور اس کے حزب اللہ جیسے آلہ کار ہیں۔‘

فرانسیسی صدر نے بی ایف ایم ٹی وی کو دیے جانے والے انٹرویو میں کہا کہ ’اگر فرانس کی بات اس وقت نہ سنی گئی ہوتی تو اس وقت لبنان میں جنگ ہو رہی ہوتی۔ یہ فرانسیسی سفارتکاری تھی۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں فرانسیسی صدر نے ریاض کا غیر اعلانیہ دورہ کیا جس میں انھوں نے سعودی ولی عہد شمزادہ محمد بن سلمان کو قائل کیا کہ لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کو فرانس جانے دیا جائے۔

میخواں نے کہا ’میں یاد دلاتا چلوں کہ لبنانی وزیر اعظم سعودی عرب میں کئی ہفتے تک حراست میں تھے۔

دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم سعد حریری منگل کو دوسری مرتبہ سعودی عرب روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’امکان ہے کہ ان کا یہ دورہ چند روز پر مشتمل ہوگا۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے گذشتہ ہفتے بی ایف ایم ٹی کو دیے انٹرویو کے دوران لبنان میں جنگ ختم کرانے کا دعویٰ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خیال رہے کہ سعد حریری نے گذشتہ سال نومبر کی چار تاریخ کو سعودی عرب سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان یہ کہہ کر کیا تھا کہ انھیں قتل کیے جانے کا ڈر ہے۔

سعد حریری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ طویل عرصے تک سعودی عرب کے اتحادی رہنے والے سعد حریری کو اب جانا چاہیے کیونکہ وہ حزب اللہ کے خلاف کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔

بعد میں امانوئل میکخواں سمیت بین الاقوامی مداخلت کے نتیجے میں سعد حریری سعودی عرب سے نکلے اور اپنے استعفی کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔

لبنان کے صدر میشال عون نے کھلے عام سعودی عرب پر لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو قید میں رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران کئی دہائیوں سے علاقائی اثر ورسوخ حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں، جو کبھی لبنان، شام، عراق تو کبھی یمن میں مسلح لڑائی اور سیاسی تنازع کی شکل میں نظر آتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں