سیکس کے بعد اپنے عاشقوں کو جلوا دینے والی ملکہ

اینجنگا ایمباندی تصویر کے کاپی رائٹ CAROLINA THWAITES (BBC)

تاریخ کی کتابوں میں کئی حیرت انگیز واقعات درج ہیں اور ان میں افریقی ملک انگولا کی ملکہ اینجنگا ایمباندی بھی ہیں جو ایک ہوشیار اور بہادر جنگجو کے طور پر نظر آتی ہیں۔

انھوں نے 17 ویں صدی میں افریقہ میں یورپی استعماریت کے خلاف جنگ کا طبل بجایا تھا لیکن بعض تاریخ نویس انھیں ظالم خاتون کے طور پر بیان کرتے ہیں جنھوں نے اقتدار کے لیے اپنے بھائی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اتنا ہی نہیں ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے حرم میں رہنے والے مردوں کے ساتھ ایک بار جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد انھیں زندہ نذر آتش کروا دیا کرتی تھیں۔

تاہم تاریخ دانوں میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ افریقہ کی سب سے مقبول خواتین میں سے ایک تھیں۔

ملکہ یا اینگولا

ایمباندو قبیلے کی رہنما اینجنگا جنوب مغربی افریقی علاقے اینڈونگو اور متامبا کی ملکہ تھیں۔

لیکن مقامی زبان میں کمباندو میں اینڈونگو کو انگولا کہا جاتا تھا اور اسی نام سے پرتگالی اس علاقے کا ذکر کرتے تھے۔

اور بالآخر اس علاقے کو دنیا بھر انگولا کے نام سے ہی جانا گیا۔

اس علاقے کو یہ نام اس وقت دیا گیا جب پرتگال کے فوجیوں نے سونے اور چاندی کی تلاش میں اینڈونگو پر حملہ کر دیا۔

ملکہ اینجنگا ایمباندی تصویر کے کاپی رائٹ NEW YORK PUBLIC LIBRARY
Image caption ملکہ اینجنگا ایمباندی نے اپنے بھائی کی موت کے بعد اپنی تاج پوشی کرائی جبکہ ان پر اپنے بھائی کو مارنے کا الزام بھی لگتا ہے

لیکن جب انھیں سونے اور چاندی کی کانیں نہیں ملیں تو انھوں نے اپنی نئی کالونی برازیل میں یہاں سے مزدور بھیجنے شروع کر دیے۔

اینجنگا پرتگالی حملے کے آٹھ سال بعد پیدا ہوئیں اور انھوں نے اپنے والد بادشاہ ایمباندی کیلنجی کے ساتھ بچپن سے ہی حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد میں شرکت کی۔

سنہ 1617 میں بادشاہ ایمباندی کی موت کے بعد ان کے بیٹے اینگولا ایمباندی نے حکومت سنبھالی لیکن ان میں نہ اپنے والد کا کرشمہ تھا اور نہ ہی اپنی بہن جیسی ہوشیاری۔

یہ بھی پڑھیے

ایک بہن نے مسجد بنوائی، ایک نے قدیم ترین یونیورسٹی

انگولا میں اسلام پر پابندی کی افواہیں

اینگولا ایمباندی کو یہ ڈر ستانے لگا کہ ان کے وفادار ہی ان کے خلاف اور ان کی بہن کے حق میں سازش کر رہے ہیں۔

اور اسی خوف کے سبب اینگولا ایمباندی نے اینجنگا کے بیٹے کو سزائے موت سنا دی۔

لیکن جب نئے بادشاہ کو یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ یورپی حملہ آوروں کا سامنا کرنے میں ناکام ہیں اور یورپی فوج رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہی ہے اور بہت زیادہ جانی نقصان ہو رہا ہے تو ایسے میں انھوں نے اپنے ایک معتمد کا مشورہ مانتے ہوئے اپنی بہن کے ساتھ اقتدار کی تقسیم کا فیصلہ کیا۔

انگولا تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO

پرتگالی مشنریوں سے پرتگالی زبان سیکھنے والی اینجنگا بہت ہی با صلاحیت اور جنگی حمکت عملی بنانے والی خاتون تھیں۔

اس صورت حال میں جب وہ مذاکرات کے لیے لوانڈا پہنچیں تو انھوں نے وہاں کالے گورے اور مختلف قبائلیوں کو دیکھا۔

اینجنگا نے ایسا منظر پہلی بار دیکھا تھا تاہم وہ ایک دوسری چیز دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں۔

انھوں نے دیکھا کہ غلاموں کو قطار در قطار بڑے بڑے جہازوں پر لے جایا جا رہا تھا اور چند ہی سالوں میں لوانڈا افریقہ میں غلاموں کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔

یہ بھی پڑھیے

تین براعظموں کے سلطان

لیکن جب وہ پرتگالی گورنر جواؤ كوریے ڈے سوؤسا کے ساتھ امن مذاکرات کرنے ان دفتر پہنچیں تو ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا ذکر مورخين نے تفصیل سے کیا ہے۔

وہ جب وہاں پہنچیں تو انھوں نے دیکھا کہ پرتگالی اہلکار تو آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے تھے جبکہ ان کے لیے زمین پر بیٹھنے کے انتظامات کیے گئے تھے۔

اس سلوک پر اینجنگا نے ایک لفظ نہیں کہا جبکہ ان کے اشارے پر ان کا ایک ملازم کرسی بن کر ان کے سامنے بیٹھ گیا۔

ملکہ اینجنگا ایمباندی تصویر کے کاپی رائٹ CAROLINA THWAITES (BBC)

پھر وہ اس ملازم کی پیٹھ پر بیٹھ گئیں اور اس طرح وہ پرتگالی گورنر کے رو برو ان کے برابر پہنچ گئیں۔

اینجنگا نے اس طرح یہ واضح کر دیا کہ وہ مساوی بنیادوں پر مذاکرات کرنے کے لیے آئی ہیں۔

مذاکرات کے طویل دور کے بعد طرفین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پرتگالی فوج اینڈینگو سے نکل جائے گی اور ان کی حاکمیت قبول کرے گی۔

اور اس کے بدلے میں اینجنگا نے اس علاقے کے کاروباری راستے کی تعمیر کے لیے رضامندی دی۔

پرتگال کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے اینجنگا نے مسیحی مذہب اختیار کیا اور اپنا نیا نام اینا ڈی سوزا اختیار کیا۔ اس وقت ان کی عمر 40 سال تھی۔

لیکن دونوں کے درمیان تعلقات زیادہ دنوں تک بہتر نہیں رہے اور پھر نئی جنگ شروع ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

سکندر کو سکندر کہانی نے بنایا

منگول آندھی، جس سے بغداد آج تک سنبھل نہیں پایا

سنہ 1624 میں ان کے بھائی ایک چھوٹے سے جزیرے پر رہنے لگے جہاں ان کی موت واقع ہو گئی جس کے متعلق مختلف قسم کی کہانیاں رائج ہیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اینجنگا نے اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اپنے بھائی کو زہر دیا۔

جبکہ بعض دوسرے ان کی موت کو خود کشی قرار دیتے ہیں۔

جنگ تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO

لیکن ان سب قیاس آرائیوں کے درمیان میں اینجنگا ایمباندے نے پرتگاليوں اور چند اپنے لوگوں کی جانب سے کھڑے ہونے والے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ایندونگو کی پہلی ملکہ بننے کا افتخار حاصل کیا۔

انگولا کی نیشنل لائبریری کے ڈائریکٹر جاؤ پیڈرو لارینکو کا کہنا ہے کہ 'افریقہ میں قدیم زمانے سے جاری خواتین کے استحصال کے خلاف اینجنگا ایمباندے ایک بلند آواز کی طرح ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

'کئی بیویاں، کئی بیماریاں'

تیونس میں خواتین پھر سے کنواری کیوں بننا چاہتی ہیں

'انھی کی طرح کئی دوسری شخصیات ہیں جو ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ افریقہ میں اقتدار کے ڈھانچے میں فٹ نہ ہونے کے باوجود ان خواتین نے اس براعظم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔'

بعض مورخین کا کہنا ہے کہ ایک ملکہ کی حیثیت سے اینجنگا کا انداز ظالمانہ تھا۔

مثال کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے ان کا ریاست کی سرحد پر رہنے والے امبانگالا جنگجوؤں کی مدد حاصل کرنا تاکہ وہ اپنے حریفوں کو خوفزدہ کر سکیں۔

حرم تصویر کے کاپی رائٹ Imbd

کئی سالوں تک اپنی سلطنت پر حکومت کرنے کے بعد انھوں نے اپنی پڑوسی ریاست پر قبضہ کر لیا۔

اس کے علاوہ انھوں نے اپنی سلطنت کی سرحدوں کو بخوبی محفوظ کیا۔

برازیل کے پرتگالی مصنف جوز ایڈوارڈو اگوالوسا کہتے ہیں کہ ملکہ اینجنگا میدان جنگ میں صرف ایک عظیم جنگجو نہیں بلکہ ایک عظیم حکمت عملی بنانے والی اور سیاست داں تھیں۔

انھوں نے پرتگالیوں کے خلاف جنگ کی اور دوسری طرح ڈچ کے ساتھ دوستی کی۔ اور جب ان کی پڑوسی سلطنتوں سے جنگ ہوتی تھی تو وہ پرتگالیوں سے مدد حاصل کرتی تھیں۔

جنسی غلام کے متعلق کہانی

فرانسیسی فلسفی مارکس دے سادے نے اطالوی مشنری جیوانی کاویز کی کہانیوں پر مبنی ایک کتاب 'دا فلاسفی آف دا ڈریسنگ ٹیبل' تصنیف کی ہے۔

کاویز کی کہانیوں میں یہ کہا گیا ہے اینجنگا اپنے عاشقوں کے ساتھ سیکس کرنے کے بعد انھیں جلاکر مار دیتی تھیں۔

حرم تصویر کے کاپی رائٹ MARCOS GONZÁLEZ DÍAZ

ملکہ اینجنگا کے حرم کو 'چبدوس' کہا جاتا تھا اور اس میں رہنے والے مردوں کو خواتین کے کپڑے پہنائے جاتے تھے۔

اتنا ہی نہیں جب ملکہ کو اپنے حرم میں موجود کسی مرد کے ساتھ سیکس کرنا ہوتا تھا تو اس کے لیے حرم کے لڑکے مرتے دم تک آپس میں لڑتے اور پھر ان میں جو فاتح ہوتا اس کے ساتھ ملکہ ہم بستری کرتی۔

تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ جیتنے والے کے ساتھ زیادہ خطرناک سلوک ہوتا تھا۔ دراصل ان کے ساتھ سیکس کے بعد انھیں جلا کر مار ڈالا جاتا تھا۔

اس بارے میں دوسرا خیال یہ ہے کہ کاویز کی کہانیاں دوسرے لوگوں کے دعووں پر مبنی ہیں جبکہ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ اس کے مختلف ورژن موجود ہیں۔

اسی بارے میں