انڈونیشیا میں موت کی سزا پانے والے ’بے گناہ‘ پاکستانی قیدی وفات پا گئے

سنہ 2004 میں مغربی جاوا میں اپنی رہائش گاہ سے حراست میں لیے جانے والے ذوالفقار علی کو 300 گرام ہیروئن رکھنے پر سنہ 2005 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشن

سنہ 2004 میں مغربی جاوا میں اپنی رہائش گاہ سے حراست میں لیے جانے والے ذوالفقار علی کو 300 گرام ہیروئن رکھنے پر سنہ 2005 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ انڈونیشیا میں قید پاکستانی شہری ذوالفقار علی آج پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً دوپہر ایک بجے وفات پا گئے ہیں۔

تنظیم کی ڈائریکٹر سارہ بلال کا کہنا ہے کہ ’ذوالفقار علی کی موت ایک ایسا المیہ ہے جو کہ ہمارے دفترِ خارجہ کی بروقت مداخلت سے روکا جا سکتا تھا۔ ایک بے گناہ پاکستانی جسے غلط انداز میں مجرم قرار دیا گیا، آج اس نے اپنے وطن اور اپنے گھر والوں سے دور جان دے دی ہے۔‘

یاد رہے کہ سنہ 2004 میں مغربی جاوا میں اپنی رہائش گاہ سے حراست میں لیے جانے والے ذوالفقار علی کو 300 گرام ہیروئن رکھنے پر سنہ 2005 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

مزید تفصیلات

انھیں انڈونیشیا کے شہری گردیپ سنگھ کے بیان کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا جو سنہ 2004 میں جکارتہ کے ہوائی اڈے پر ہیروئن سمگل کرتے ہوئے گرفتار ہوئے تھے۔

تاہم بعد ازاں گردیپ اپنے اس بیان سے منحرف ہوگئے تھے اور کہا تھا کہ یہ بیان پولیس نے ان سے زبردستی لیا تھا اور ذوالفقار علی بے گناہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

ذوالفقار علی کی رہائی کے لیے لاہور میں مظاہرہ بھی ہوا

2016 میں ذوالفقار علی کی سزائے موت پر کچھ دیگر مجرمان سمیت عملدرآمد ہونا تھا تاہم اسے آخری وقت پر روک دیا گیا تھا۔

ذوالفقار علی کی رہائی کے لیے پاکستان میں بھی مظاہرے ہوچکے ہیں۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ 2010 میں انڈونشیا کی حکومتی انکوائری نے ذوالفقار علی کے کیس کی بےضابطگیوں کی تفتیش کی اور ان کی بے گناہی ثابت کی۔

تاہم حکومتی وعدووں کے باوجود ذوالفقار کی رہائی عمل میں نہ آسکی۔

'مقدمات منصفانہ نہیں'

جسٹس پروجیکٹ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ذوالفقار کو غلط طور پر منشیات سمگلنگ کے کیس میں ملوث کیا گیا ہے اور 2009 میں انڈونیشیا کی وزارت قانون و انسانی حقوق نے بھی اس کیس کی چھان بین کی تھی اور ذوالفقار کو معصوم قرار دیتے ہوئے سزائے موت ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت حقوقِ انسانی کے گروپوں نے ذوالفقار علی کی سزا پر شدید تحفظات ظاہر کیے تھے اور الزام لگایا تھا کہ نہ صرف ان پر تشدد کیا گیا بلکہ ان پر چلایا گیا مقدمہ بھی منصفانہ نہیں تھا۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زید رعد الحسین نے بھی کہا تھا کہ اقوام متحدہ کو خدشہ ہے ان افراد پر چلائے گئے مقدمات منصفانہ نہیں تھے۔