ابو زبیدہ اور عبدالرحیم النشیری پر تشدد، ’رومانیہ اور لتھووینیا شریک جرم تھے‘

گوانتاناموبے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

گوانتاناموبے میں دونوں مشتبہ شدت پسندوں کو بغیر فرد جرم عائد کیے قید میں رکھا گیا ہے

یورپ کی حقوق انسانی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ رومانیہ اور لتھووینیا نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو القاعدہ کے دو مشتبہ شدت پسندوں پر تشدد کی اجازت دے کر حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکہ نے نائن الیون حملوں کے بعد ابو زبیدہ اور عبدالرحیم النشیری کو گرفتار کیا تھا اور اب یہ دونوں گوانتاناموبے جیل میں قید ہیں۔

سی آئی اے نے رومانیہ اور لتھووینیا سمیت دیگر جگہوں پر خفیہ حراستی مراکز قائم کیے تھے۔

یورپ کی حقوق انسانی کی عدالت کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے یورپ کے تشدد پر پابندی کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

سی آئی اے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے خود ساختہ بلیک سائٹس یا خفیہ تفتیشی مراکز کو نائن الیون حملوں کے کئی برس بعد تک خفیہ رکھا گیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

فلسطینی نژاد ابو زبیدہ سعودی عرب میں پیدا ہوئے اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ یہ 1990 کی دہائی میں القاعدہ میں بھرتیوں کے سربراہ تھے۔ ابو زبیدہ القاعدہ کی مرکزی قیادت میں اہمیت کے اعتبار سے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے بعد تیسرے نمبر پر تھے اور تنظیم کے عالمی آپریشنز میں باہمی روابط کے انچارج تھے۔

عبدالرحیم النشیری سعودی عرب میں پیدا ہوئے اور امریکی انٹیلیجنس کے مطابق وہ خلیج میں القاعدہ کے آپریشنز کے سربراہ تھے۔

یورپ کی حقوق انسانی کی عدالت کے فیصلے کے مطابق رومانیہ نے 2003 سے 2005 تک سی آئی اے کے حراستی مرکز کی میزبانی کی جہاں پر عبدالرحیم النشیری کو’سخت ترین حالات‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عبدالرحیم النشیری سے غیر انسانی سلوک کیا گیا جسے رومانیہ نے سی آئی اے کی تعاون سے قابل عمل بنایا۔

ابو زبیدہ کے معاملے میں ایسا ہی فیصلہ لتھووینیا کے خلاف آیا ہے جہاں پر سی آئی اے کا تفیشتی مرکز 2005 سے 2006 تک قائم تھا۔

عدالت نے سی آئی اے کی دستاویزات کے حوالے سے کہا کہ ان کے مطابق تحقیقات کے دوران ان آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، مستقل طور پر بیڑیاں پہنا کر رکھی گئیں اور انھیں بہت زیادہ شور اور روشنی کا سامنا کرنا پڑا۔

،تصویر کا کیپشن

سی آئی اے کو قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا رہا ہے

خیال رہے کہ اس سے پہلے رپورٹ آئی تھی کہ تھائی لینڈ میں ایک خفیہ تفتیشی مرکز میں عبدالرحیم النشیری پر ایسے ہی بہیمانہ طریقوں کا استعمال کیا گیا تھا جن پر بعد میں صدر اوباما نے پابندی عائد کر دی تھی۔

عبدالرحیم النشیری کو سونے کی اجازت نہ دینے، برہنہ کرنے، شدید درجہ حرارت میں رکھنے، اپنے قد سے چھوٹے بکسے میں بند رکھنے اور بار بار دیوار سے ٹکرانے جیسی اذیتیں دی جاتی تھیں۔

رومانیہ اور لتھووینیا نے دونوں مشتبہ شدت پسندوں کو دوسرے حراستی مراکز میں منتقل کرنے میں مدد دی تھی جہاں انھیں پہلے سے زیادہ بدترین سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔