ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن ملاقات کے لیے سنگاپور پہنچ گئے

سنگاپور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شمالی کوریا کے رہنما جم جونگ اُن نے کہا ہے کہ پوری دنیا کی نظریں سنگاپور کے سربراہی اجلاس پر مرکوز ہیں جہاں منگل کو میری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہو گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سنگا پور میں منگل کو کوئی معاہدہ ہو گیا تو تاریخ سنگا پور کو اس حوالے سے یاد رکھی گی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی سنگا پور پہنچ گئے ہیں۔

امریکہ کو امید ہے کہ وہ کم جونگ ان سے جوہری ہتھیار ختم کرنے سے متعلق کوئی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

ادھر سنگاپور کے وزیر اعظم لی لونگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس سربراہی ملاقات کی میزبانی پر ایک کروڑ، پچاس لاکھ ڈالر خرچ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں نصف رقم اس اجلاس کی سکیورٹی پر خرچ ہو گی۔

اس سے پہلے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی مجوزہ ملاقات کے لیے سنگاپور پہنچے تھے۔

ان دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تاریخی ملاقات سینٹوسا جزیرے پر منگل کو ہو گی۔

یہ پہلا موقع ہے جب شمالی کوریا کے رہنما کسی برسر اقتدار امریکی صدر سے مل رہے ہیں۔

سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشن نے ایک تصویر ٹویٹ کی ہے جس میں وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا سنگاپور کے ہوائی اڈے پر استقبال کر رہے ہیں۔

اس سے قبل سنگاپور کے اخبار سٹریٹس ٹائمز کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ سے اتوار کو تین جہازوں نے پرواز کی۔ ایک کارگو جہاز تھا جو علی الصبح اڑا، اس کے بعد ایک چینی جہاز اور پھر کم جونگ ان کا ذاتی جہاز اڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@VivianBala

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کو 'امن کا مشن' قرار دیا اور کہا کہ دونوں سربراہان کے لیے 'صحیح معنوں میں یہ پہلی بار ہے۔'

کینیڈا میں جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد امریکی صدر وہاں سے روانہ ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

روانگی سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا کے سربراہ 'اپنے لوگوں، اپنے خاندان اور اپنے لیے کچھ مثبت کر سکتے ہیں۔'

امریکہ کو امید ہے کہ اس ملاقات سے ایک ایسے مرحلے کا اغاز ہوگا جس میں کم جونگ ان آخرکار اپنے جوہری ہتھیاروں پر کام بند کر دیں گے۔

اب تک کی کہانی

صدر ٹرمپ کے دور صدارت کا پہلا سال کم جونگ ان کے ساتھ سخت کلامی میں گزرا کیونکہ شمالی کوریا نے بین الاقوامی انتباہ کے باوجود کئی بیلسٹک میزائل تجربے کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی صدر نے عہد کیا کہ اگر پیانگ یانگ واشنگٹن کو یونہی دھمکاتا رہا تو وہ اس کے خلاف 'جہنم کا دروازہ' کھول دیں گے۔

اس کے جواب میں شمالی کوریا کے رہنما کم نے انھیں 'پاگل' اور 'کم عقل' کہا۔

وائٹ ہاؤس کے 'شدید دباؤ' کی مہم کے باوجود شمالی کوریا ڈٹا رہا اور اس نے ستمبر سنہ 2017 میں چھٹا جوہری تجربہ کیا۔ اس کے فوراً بعد کم جونگ ان نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے جوہری اسلحے کی اہلیت والے ملک ہونے کا اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے اور یہ کہ اس کے میزائل امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

لیکن سنہ 2018 کے اوائل میں جنوبی کوریا میں منعقدہ سرمائی اولمپک کے موقعے پر شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے اپنے رشتے پر جمی برف کو پگھلانے کی کوشش کی۔

مارچ میں صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کی جانب سے بالمشافہ ملاقات کے دعوت نامے کو قبول کرکے لوگوں کو حیران کر دیا۔ یہ دعوت نامہ سیول کے ذریعے ان تک بھیجا گيا تھا۔

اس کے بعد سے سربراہی ملاقات کی راہ ناہموار اور دشوار گزار رہی۔ ایک ایسا موقع آيا جب صدر ٹرمپ نے اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اب دونوں رہنما مل بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ اٹھارہ مہینے کے دوران دونوں رہنماؤں کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ الفاظ کی لڑائی اور ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دینے کے بعد دونوں کی آمنے سامنے ملاقات ہو رہی ہے۔

تاہم گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ان کی شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ سے اگلے ہفتے سنگا پور میں طے شدہ ملاقات اچھی رہی تو وہ انھیں امریکہ آنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔

شمالی کوریا اور امریکہ کے رہنما دو طرفہ ملاقات سے قبل سنگاپور کے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔

سینٹوسا جزیرے کی اہمیت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سینٹوسا ان 63 جزیروں میں سے ایک ہےجو مل کر سنگاپور بناتے ہیں۔ پانچ سو ہیکٹر پر پھیلا ہوا یہ جزیرہ سنگاپور کے مرکزی حصہ سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔ اس جزیرے کا ایک ماضی بھی ہے۔ ماضی میں یہ پائیریسی اور دوسری جنگ عظیم میں جاپانی فوجیوں کے ہاتھوں ہزاروں افراد کے قتل کے لیے بھی مشہور ہے۔

جب جاپانی افواج نے 1942 میں برطانوی افواج کو سنگاپور میں شکست دی اس کے بعد جاپانی فوج نے ہزاروں' جاپان مخالف' چینیوں' کو قتل کیا۔ سینٹوسا بھی ان مقامات میں سے ایک ہے جہاں جاپانی فوج نے ہزاروں لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ہلاک کیا۔

صدر ٹرمپ اور شمالی کے رہنما جس ہوٹل میں ملاقات کریں گے وہ وہاں سے اس ساحل سمندر کو دیکھ سکیں گے جہاں جاپانی فوجیوں کی سٹین گنوں نے ہزاروں لوگوں کو بھون ڈالا تھا۔

اسی بارے میں