ٹرمپ کِم سربراہ ملاقات: 'توقع سے زیادہ تیزی' سے پیش رفت ہو رہی ہے‘

کم جونگ ان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں منگل کو شمالی کوریا کے ساتھ طے شدہ ملاقات سے قبل 'توقع سے زیادہ تیزی' سے پیش رفت ہورہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی غیرمعمولی پہلی ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ابتدائی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات میں صرف مترجم موجود ہوں گے۔

اس ملاقات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وہ ملاقات جس کا دنیا کو انتظار ہے

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن ملاقات کے لیے سنگاپور میں

ٹرمپ نے کم جونگ اُن کے نام خط میں کیا لکھا؟

امریکہ کا اصرار ہے کہ وہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے علاوہ کچھ قبول نہیں کرے گا۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ جوہری تخفیف کے لیے رضامند ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ اس کی مطالبے کو پورا کرنے کے جواب میں پیانگ یانگ کی جانب سے کیا مطالبات کیے جائیں گے جس کی وجہ سے اس ملاقات کے بارے میں کوئی پیش گوئی مشکل ہے۔

یہ واضح نہیں کہ شمالی کوریا کے پاس کتنے جوہری ہتھیار ہیں۔ کچھ اندازوں میں مطابق ان کی تعداد 20 جبکہ دیگر نے ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد 60 بتائی ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں منگل کو شمالی کوریا کے ساتھ طے شدہ ملاقات سے قبل 'توقع سے زیادہ تیزی' سے پیش رفت ہورہی ہے۔

امریکہ اپنے اس مطالبے پر اسرار کر رہا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ختم کر دے۔ لیکن کم جونگ ان کی جانب سے ایسا کرنا غیرمتوقع ہے جسے اب کی ریاست اپنی قیمتی تلوار قرار دیتی ہے۔ اگر وہ اس مطالبات کو قبول کرنے کی ہامی بھر بھی لیتے ہیں تو عالمی برادری کے لیے ہتھیاروں سے پاک کرنے کا یہ اہم مشکل ترین عمل ہوگا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کتنے جوہری ہتھیار ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد 20 ہے جبکہ کچھ ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد 60 بتاتے ہیں۔ دی رینڈ کارپوریشن کا خیال ہے کہ شمالی کوریا میں 141 ایسے مقامات ہیں جہاں ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں۔

اگر ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والوں کو اجازت دے بھی جاتی ہے تو شمالی کوریا کا بیشتر علاقہ پہاڑی ہے اور اس کے مزدور یہاں سرنگیں کھودنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ یہ مقامات پوشیدہ رہ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاپور میں دونوں سربراہان الگ الگ ہوٹلوں میں ٹھہرے ہیں جو زیادہ دور نہیں ہیں

لیکن امید قائم رکھنے کی وجہ بھی ہے۔ چیئرمین کم ایک نوجوان حکمران ہیں جو دہائیوں تک برسراقتدار رہنا چاہتے ہیں اور انھوں نے اپنے عوام سے معاشی اصلاحات کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس کے لیے انھیں بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ وہ ایسا بھی محسوس کریں گے کہ صدر ٹرمپ نے انھیں سفارتی فتح سے نواز دیا ہے۔

اس ملاقات نے انھیں ایک نیا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے، جس سے وہ تنہائی کے شکار جوہری صلاحیت رکھنے والے آمر سے عالمی حکمران کے طور پر ابھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

آئندہ 24 گھنٹے میں جو کچھ بھی ہوگا، اس غیرمعمولی بالمشافہ ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تبدیلی میں مدد مل سکتی ہے۔

کم ٹرمپ ملاقات پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

دونوں سربراہان الگ الگ ہوٹلوں میں ٹھہرے ہیں جو زیادہ دور نہیں ہیں۔ شمالی کوریا کے سربراہ سنگاپور کے فائیو سٹار ہوٹل سینٹ ریگس میں قیام پذیر ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نصف میل کی دوری پر شنگریلا میں رکے ہیں۔

کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ تاریخی ملاقات تفریحی جزیرے سینٹوسا پر ہو گی۔

شمالی کوریا نے کیا کہا ہے؟

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما جزیرہ نما کوریا کے لیے ’امن کے مستقل اور دیرپا طریقۂ کار‘ پر بات کریں گے۔ جزیرہ نما کوریا میں ’جوہری ہتھیاروں کی تخفیف‘ اور مشترکہ مسائل پر بھی بات ہوگی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تبدیلی کا دور‘ شروع ہونے والا ہے۔

جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے سینیئر سفارتکار پیر کو ملاقات کریں گے تاکہ ایک معاہدے کا مسودہ اپنے اپنے رہنماؤں کو پیش کر سکیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
شمالی کوریا کے کم جونگ ان امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سنگاپور میں مذاکراتی میز پر بیٹھیں گے۔

شمالی کوریا میں سرکاری میڈیا عموماً اپنے رہنما کے دوروں پر تبصرے نہیں کرتا تاہم اس مرتبہ اخبار روڈونگ سنمن میں شائع ہونے والے اداریے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نئے دور کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک نیا تعلق قائم کریں گے۔‘

اداریے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جزیرہ نما کوریا میں ایک مستقل اور پرامن حکومت کے قیام، مشترکہ خدشات کے حل بشمول جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملے پر وسیع تر اور عمیق بات چیت ہو گی۔‘

اخبار کا کہنا ہے کہ ’اگر ماضی میں کسی ملک سے ہمارے تعلقات مخاصمانہ رہے بھی ہیں تو ہمارہ رویہ یہی ہے کہ اگر وہ قوم ہماری خودمختاری کا احترام کرتی ہے تو ہم بات چیت کے ذریعے حالات معمول پر لانے کی کوشش کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کم جونگ ان نے سنگاپور کے وزیراعظم لی ہیسن لونگ سے بھی ملاقات کی

بات یہاں تک کیسے پہنچی؟

صدر ٹرمپ اور کم جونگ-ان کے تعلقات گذشتہ ڈیڑھ برس میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ کبھی وہ تندوتیز جملوں کا تبادلہ کرتے نظر آئے تو اب وہ بالمشافہ ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدِ صدارت کے پہلے برس میں شمالی کوریا سے امریکہ کے تعلقات شدید کشیدہ رہے اور وجہ تھی اس کے متعدد میزائل تجربات جو اس نے عالمی تنبیہ کے باوجود کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ تاریخی ملاقات تفریحی جزیرے سینٹوسا پر ہو گی

امریکی صدر نے یہاں تک کہا کہ اگر شمالی کوریا نے امریکہ کو دھمکانا بند نہ کیا تو اسے ’آتش و غضب‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کم کو ’لٹل راکٹ مین‘ بھی کہا۔

اس کے جواب میں کم جونگ-ان نے انھیں ’خبطی‘ اور ’سنکی‘ قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس کے دباؤ کے باوجود شمالی کوریا نے ستمبر 2017 میں اپنا چھٹا جوہری تجربہ کیا جس کے بعد شمالی کوریا کے رہنما نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے جوہری طاقت بننے کا مشن مکمل کر لیا ہے اور اس کے میزائل امریکہ تک مار کر سکتے ہیں۔

تاہم 2018 کے آغاز میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کا آغاز کیا اور وہاں منعقدہ سرمائی اولمپکس میں اپنے کھلاڑی بھیجے۔

مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریائی رہنما کی جانب سے بالمشافہ ملاقات کی دعوت قبول کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے بعد سے اس سربراہ ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں مگر یہ سفر آسان نہیں رہا ہے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا جب صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو منسوخ بھی کر دیا لیکن کچھ سفارتی کوششوں کے بعد یہ بحال ہو گئی اور اب منگل کو دونوں رہنما ملنے والے ہیں۔

اسی بارے میں