’ڈرائیونگ پر پابندی نے سعودی عورتوں کے ہاتھ باندھ رکھے تھے‘

hatoon تصویر کے کاپی رائٹ Hatoon alFassi
Image caption ڈاکٹر ہتون مکہ میں تیسری عورت ہیں جنھیں گاڑی چلانے کے لیے لائسنس ملا

سعودی عرب میں حکام نے خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع کر دیا ہے۔ ڈاکٹر ہتون اجواد الفاسی نے بھی حال ہی میں لائسنس حاصل کیا ہے۔ ہے۔ برسوں کی جدوجہد کے بعد یہ حق ملنے پر انھوں نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے بات کی اور اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کیا۔

اپنی عمر کے 53ویں برس میں مجھے اپنے گھر کے ڈرائیو وے میں کھڑی گاڑی چلانے کا حق مل گیا ہے۔

میں بہت خوش ہوں کہ میں اس لمحے کو جی رہی ہوں۔ سعودی عرب میں آخرکار روشن خیالی اور عورتوں کے حقوق میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈرائیونگ پر عائد پابندی ختم ہونے کے اعلان کے بعد انتظار کا یہ آٹھواں مہینہ ہے اور اس سے پہلے بھی 30 برس ایسے ہی گزرے، اب بس کچھ ہی دن کی بات ہے۔ بہت گرم جوشی ہے لیکن طویل جدوجہد کے ساتھ ساتھ ہم ان تلخ تجربات کو بھی یاد کر رہے ہیں جن سے سعودی خواتین گزریں۔ جنھوں نے یہاں تک پہنچنے میں بہت کچھ سہا ہے۔

انھوں نے اپنی زندگی، مقام اور عزت ہر چیز جس کے بارے میں بھی آپ سوچ سکتے ہیں کی قیمت ادا کی ہے۔ آج اس جگہ تک پہنچنا ایسا ہے جسے آپ عام نہیں کہہ سکتے۔

سعودی خواتین کے بارے میں مزید پڑھیے

گاڑی کے بعد اب سعودی خواتین بائیک چلائیں گی؟

سعودی شہزادی کی تصویر چھاپ کر ٹھیک کیا: ووگ

سعودی عرب: حقوق انسانی کی سات خاتون کارکنان گرفتار

چھ جون کو میں مکہ میں تیسری عورت تھی جسے گاڑی چلانے کے لیے لائسنس ملا۔ دراصل میرے پاس جی سی سی لائسنس تھا جس کے بدلے میں متعلقہ انتظامیہ نے مجھے یہاں کا لائسنس دے دیا۔ ریاض، مکہ اور جدہ سمیت مختلف علاقوں میں 15 سے 30 خواتین کو روزانہ کی بنیادوں پر لائسنس دیے جا رہے ہیں۔ جامعات میں قائم ڈرائیوبگ سکولز میں بہت سے لڑکیاں اور خواتین گاڑی چلانے کی تربیت بھی لے رہی ہیں۔

میرا تعلق مکہ کے ایک خوشحال خاندان سے ہے لیکن میرے تجربات کو جان کر آپ اندازہ لگا سکتی ہیں کہ یہاں کی ایک عام عورت نے کیا کچھ سہا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ریاض، مکہ اور جدہ سمیت مختلف علاقوں میں 15 سے 30 خواتین کو روزانہ کی بنیادوں پر لائسنس دیے جا رہے ہیں

میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ہمراہ ریاض میں مقیم ہوں۔ میں ’ویمن ہسٹری‘ کے شعبے میں لیکچرر ہوں، کالم نگار ہوں۔ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی حقوق کے لیے کھل کر اپنی آواز اٹھاتے رہے ہیں اور جنھیں اپنے خاندان کی حمایت بھی حاصل رہی۔

کیا آپ جانتی ہیں کہ یہاں سعودی عرب میں اگر آپ کے پاس ایک اچھا ڈرائیور ہے تو آپ کو خوش قسمت سمجھا جاتا ہے اور ڈرائیور کے بغیر زندگی مشکل ہے۔

سوچیے جب ہم عورتوں کو کہیں جانا ہوتا ہے تو ہم اپنے کام سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ ڈرائیور کہاں ہے؟ سو رہا ہے؟ جاگ رہا ہے؟ نماز تو نہیں پڑھ رہا یا بیمار تو نہیں ہے؟

میں حاملہ تھی اور چلچلاتی دھوپ میں مجھے اپنے ڈرائیور کا طویل انتظار کرنے کی اذیت اس لیے برداشت کرنا پڑی کیونکہ میں اپنی گاڑی خریدنے کا تو اختیار رکھتی تھی لیکن اسے چلانے کا حق نہیں رکھتی تھی۔

میرے پاس لائسنس ہے، پورچ میں گاڑیاں کھڑی ہیں لیکن میں انھیں ہاتھ نہیں لگا سکتی تھی۔

سعودی خواتین کے بارے میں مزید پڑھیے

سعودی عرب میں خواتین کی پہلی سائیکل ریس

’انٹرنیٹ پر جان کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں‘

خواتین پہلی بار سٹیڈیم میں، ’شاندار تبدیلی اور رنگوں کا دھماکہ‘

ہاں اب کچھ عرصہ پہلے اوبر اور کریم سروس یہاں متعارف کروائی گئی ہیں لیکن سوچیے اس سے پہلے ہم کیسے زندگی گزار رہے تھے۔ بالکل ایسے جیسے ہم فقیر ہیں۔بہت ہی ذلت آمیز صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے۔ خود میرے ساتھ کتنی بار ایسا ہوا کہ میں بیچ چوراہے پر کھڑا رہنا پڑا۔

میں کتنی باعزت ہوں میرے پاس کتنی پرآسائش زندگی ہے یہ سب بے معنی ہو جاتا ہے آپ کو کبھی بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ جب مجھے یا کسی بھی عورت کو کہیں جانا ہوتا ہے تو ہمیں اپنے ڈرائیور کی عدم موجودگی میں گھر سے باہر نکل کر اپنے ہمسائیوں سے مدد طلب کرنی پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hatoon Alfasi
Image caption ہتون کے پاس جی سی سی لائسنس تھا جس کے بدلے میں متعلقہ انتظامیہ نے انھیں سعودی لائسنس دے دیا

یہ روز کی کہانی ہے اور ایسی کہانیاں بکھری پڑی ہیں کہ ڈرائیور گاڑی کو نقصان پہنچاتے ہیں، بےتحاشہ ایکسیڈنٹ کرتے ہیں حتیٰ کہ بچوں اور آپ کی ملازماؤں کو جنسی ہراس کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔

یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ڈرائیور بھی آپ کے نگران ہیں۔ وہ کسی بھی وقت گاڑی کی چابی پھینک کر کام کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کے روزمرہ امور کے انچارج ہوتے ہیں۔ یہاں ایسی بھی عورتیں ہیں جو شاید اپنے شوہروں سے زیادہ ڈرائیور کا خیال رکھتی ہیں کیونکہ وہ ان کے بغیر اپنے روزمرہ کے کام کر ہی نہیں سکتیں۔

یہ ایک ایسی پابندی ہے جس نے سعودی عورتوں کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔

میں بھی انسانی حقوق کی ان کارکنان میں شامل ہوں جنھوں نے مختلف مہمات میں حصہ لیا میں نے سنہ 14-2013 میں متعدد بار سڑک پر گاڑی چلانے کا فیصلہ کیا لیکن وزارت داخلہ نے ہمیشہ براہ راست پیغام بھجوایا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

یہاں ہم خواتین اپنے حقوق سے محروم ہیں مظلوم ہیں، یہ کچھ حد تک درست ہے لیکن سب ویسا نہیں جیسی مغربی بین الاقوامی میڈیا پر سعودی عرب کے بارے بات کی جاتی ہے۔

ہمارے مسائل ہیں انسانی حقوق کے مسئلے ہیں اور یہ دہائیوں سے ہو رہا ہے لیکن ہم اس پورے عرصے میں بہت ایکٹو رہے ہیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور جو ہو رہا ہے اس کی تشہیر کرنے میں۔

لیکن اپنی مرضی سے زندہ رہنے اور اوڑھنے پہننے کے لیے مجھے گھر کے باہر سماجی کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا مگر میں ڈٹی رہی۔

میں نے 35 سال پہلے جب کالج کے فرسٹ ایئر کے دوران حجازی لباس پہننا شروع کیا تب سے اب تک لیکن مجھے ہمیشہ اس کی وجہ سے بھی ہراساں کیا جاتا تھا۔

آج ہم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے یہاں پہنچ گئے ہیں۔ چند برس پہلے میونسپل انتخابات میں عورتوں کو حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ امید ہے کہ جلد ہی گارڈین شب سے بھی پابندی ہٹ جائے گی۔

امید ہے کہ ہم سب 24 جون کو لطف اندوز ہوں گے۔

اسی بارے میں