امریکہ نے غیر قانونی مہاجرین کے دو ہزار بچے علیحدہ کر دیے

A small boy from Honduras waits as he and his father are taken into custody by U.S. Border Patrol agents near the U.S.-Mexico Border on June 12, 2018 near Mission, Texas. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جمعرات کو امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے اس 'زیرو ٹالرنس' کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے انجیل کا حوالہ دیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ ہفتوں میں امریکی سرحد پر تقریباً 2000 مہاجر بچوں کو ان کے گھر والوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے میکسکو سے امریکہ آنے والے غیر قانونی مہاجرین کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں والدین کو قید کر کے ان کی تحویل سے ان کے بچوں کو لیا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر امریکہ میں سخت سیاسی نقطہ چینی جاری ہے۔ انٹرنیٹ پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کے بچوں کو پنجروں میں رکھا جا رہا ہے۔

جمعرات کو امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے اس ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے انجیل کا حوالہ دیا تھا۔

ٹرمپ انتظانیہ کا یہ کریک ڈاؤن امریکہ کی طویل المدتی پالیسی میں تبدیلی ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے آنے والوں کو مجرمانہ سزاؤں کا سامنا ہے جو پہلے صرف ایک چھوٹا سا جرم تصور کیا جاتا تھا۔

ہمیں بچوں کے بارے میں کیا معلوم ہے؟

امریکی محکمہِ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق 19 اپریل سے 31 مئی تک 1995 بچوں کو 1940 افراد سے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔

ان بچوں کی عمروں کے بارے میں معلومات نہیں دی گئی ہیں۔

ان بچوں کو امریکی محکمہِ صحت اور ہیومن سروسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انھیں یا تو حکومتی حراستی مراکز میں رکھا جائے گا یا پھر انھیں کسی فوسٹر فیملی کے حوالے کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ نے امریکہ سے فوری طور پر بچوں کو ان کی فیملیوں سے علیحدہ کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے کہا ہے۔

اٹارنی جنرل جیف سیشنز کا کہنا ہے کہ بچوں کو ساتھ لانے سے کوئی بھی غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے جرم کی سزا سے بچ نہیں سکتا۔

انھوں نے سینٹ پالز کے رومی قوم کو لکھے ایک خط کا حوالہ دیا ہے جس میں حکومت کے قوانین کی اطاعت کی تائید کی گئی ہے۔

ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ خط غلامی کے نظام کو بچانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

ملک میں سیاسی ردِعمل کیا ہے؟

ٹرمپ انتظامیہ کو کچھ ریپلکنز کی حمایت حاصل ہے تاہم کچھ سیاسی عناصر نے تشویس کا اظہار کیا تھا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہاؤس سپیکر پال رائن کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے استعمال کیے گئے حربے ان کے خیال میں درست نہیں۔

اسی ہفتے امریکی ایوانِ زیریں میں ریپلکنز نے ایک نیا امیگریشن قانون کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں سرحد پر بچوں کو ان کے گھر والوں سے علیحدہ کرنے کا طریقہ کار ختم کر دیا جائے گا۔

اس پلان کے تحت فیملیوں کو اکھٹے حراست میں رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ اس مسودے میں 18 لاکھ ڈاکہ ڈریمرز کو تحفظ فراہم کرنا، امریگیشن میں لاٹری کے نظام کو ختم کرنا اور سرحدی حفاظت کے لیے 25 ارب ڈالر مختص کرنا بھی شامل ہے۔

یہ بل قدامت پسندوں اور معتدل رہنمائوں کے درمیان سنجھوتا ہے اور آئندہ ہفتے اس پر ووٹنگ ہوگی۔

تاہم صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ وہ ایک سمجھوتے پر مبنی بل کو منظور نہیں کریں گے چاہے اسے ریپبلکن پارٹی کی حمایت حاصل ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ان بچوں کو امریکی محکمہِ صحت اور ہیومن سروسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انھیں یا تو حکومتی حراستی مراکز میں رکھا جائے گا یا پھر انھیں کسی فوسٹر فیملی کے حوالے کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں