عید کی نماز مسجد میں نہیں تو فیس بک لائیو پر سہی

امریکہ

فیس بک پر دوستوں یاروں کو عید کی مبارک باد دینا تو عام سی بات ہے مگر واشنگٹن میں اگر آپ مسجد نہیں گئے تو عید کی نماز آپ تک برہ راست فیس بک لائیو کے ذریعے پہنچائی جائے گی۔ مساجد کا یہ جدید چہرہ آپ نے کیا کبھی پہلے دیکھا؟

امریکہ میں بسنے والے 30 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے جمعے کو عید منائی اور جیسے ہی عید کی صبح فیس بک کھولا تو مختلف مساجد، عید گاہ سے نماز باقاعدہ لائیو براڈکاسٹ کر رہی تھیں۔

عید اور مسلم دنیا کے پکوان

عیدالفطر کے رنگ دنیا بھر میں

واشنگٹن میں عید کو پر مسرت بنانے کے لیے چاند اور عید رات میلے بھی لگے ہیں۔ ورجنیا واشنگٹن ڈی سی سے لگ بھگ ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں واشنگٹن کے مقابلے میں زیادہ جنوبی ایشیائی آبادی رہتی ہے۔ جس کی وجہ بچوں کے لیے بہتر سکول کے مواقع ہے۔

کپڑے جوتے اور زیورات تو تھے ہی لیکن گھر کے پکے ہوئے کھانوں کے سٹال میری دلچسپی کا مرکز رہے۔ کیونکہ واشنگٹن ڈی سی میں ملنے والا دیسی کھانا صرف گورے ہی کھا سکتے ہیں۔

55 سالہ ہما خان ایک سٹال پر حلیم بیچ رہی تھیں۔ حلیم کا وہی ذائقہ جو کراچی والوں کو مغرور بناتا ہے، دس ڈالر کی ایک پلیٹ نے عید کا مزہ دُگنا کر دیا۔

کراچی سے سات سال پہلے یہاں آنے والی حما بڑے فخر سے اپنا سٹال اپنے بیٹے کے ساتھ چلا رہی تھیں، لیکن کراچی میں وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔

ہما کا کہنا ہے ’نہیں نہیں کراچی میں تو میں نے کام کبھی نہیں کیا، لیکن یہاں اپنی مرضی اور شوق سے کام کرنا آسان ہے۔ پچھلے سال عید سے پہلے ہم نے کم سے کم دس ہزار کمائے تھے۔‘

امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیا کے بیشتر لوگ کچھ رسومات کو توڑ رہے ہیں۔ اس مرکز میں 90 فیصد دکانداری خواتین کر رہی تھیں۔ مردوں کے چند ہی سٹال تھے۔

ممبئی سے 20 سال پہلے امریکہ آنے والی شروتی مالک شادی کے کپڑے بناتی ہیں۔ ان کے سامنے والا سٹال لاہور کی عائشہ خان کا تھا جو ہاتھ سے بنے کشمیری کپڑے پیچ رہی تھیں۔

دونوں کو جب خریداروں سے فرست ملتی تو سر جوڑ کر باتیں کرنے لگتیں۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی نفرت انگیز سیاست کا ان کی دوستی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

اسی مرکز میں موجود مرتضیٰ شیخ سے ملاقات ہوئی تو کچھ برہم معلوم ہوئے۔ ان کے بچے بھی ان کے ساتھ چنے، چاول بیچنے میں ان کی مدد کر رہے تھے۔

وہ کہنے لگے ’میرے بچوں کی عمر کھیلنے کودنے کی ہی مگر وہ یہاں میرے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ زندگی اتنی مشکل ہوتی جا رہی کہ اخراجات پورے ہی نہیں ہوتے۔ اپنے ملک کی کیا ہی بات ہے مگر بچوں کے لیے یہاں آئے ہیں۔‘

مرتضی کے تین بیٹے ہیں جن کی عمریں سات، دس اور 15 برس ہے۔ وہ عید پاکستان کے ساتھ سنیچر کو منا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ماں کے ہاتھ کی سوئیاں نہ سہی کم سے کم میں عید تو ان کے ساتھ ایک ہی دن منا سکتا ہوں ناں!‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں