ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں سابق اسرائیلی وزیر گرفتار: اسرائیلی سکیورٹی سروس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیل کی اندرونی سکیورٹی سروس شین بیت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سابق کابینہ کے وزیر کو ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

شین بیت کے مطابق گونن سگیو 90 کی دہائی میں وزیر برائے توانائی تھے اور مبینہ طور پر ایرانی اینٹیلیجنس ایجنسی نے ان کو اس وقت ریکروٹ کیا جب وہ نائیجیریا میں تھے۔

گونن کو مئی میں استوائی گنی کے دورے کے دوران حراست میں لیا گیا اور اسرائیلی پولیس کی جانب سے درخواست پر ان کو اسرائیل بھیجا گیا۔

مزید پڑھیے

ایران اور اسرائیل کا مسئلہ ہے کیا؟

سعودی عرب اور اسرائیل کی یہ بڑھتی قربت کیوں؟

ایران شام اور لبنان میں میزائل فیکٹریاں بنا رہا ہے: اسرائیل

62 سالہ گونن جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں کو 2005 میں منشیات کی سمگلنگ اور جعلی سفارتی پاسپورٹ رکھنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

گونن کا ڈاکٹری کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا تھا لیکن ان کو نائیجیریا میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی اور 2007 میں جیل سے رہائی کے بعد وہ نائیجیریا منتقل ہو گئے تھے۔

شین بیت کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ گونن کو گذشتہ ماہ اسرائیل پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ان سے پوچھ گچھ کے دوران اشارے ملے ہیں کہ وہ شاید ایرانی انٹیلیجنس ایجنسی کے ایجنٹس کے ساتھ رابطے میں ہوں اور ان ایجنٹوں کی اسرائیل میں میں کارروائیوں میں مدد کر رہے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شین بیٹ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تفتیش کاروں کو معلوم چلا ہے کہ گونن نے 2012 میں نائیجیریا میں ایرانی سفارتخانے کے حکام کے ساتھ رابطے کیے اور اپنے ہینڈلرز سے ملنے دو بار ایران گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گونن دیگر ممالک میں بھی اپنے ہینڈلرز سے ملے اور گونن کو خفیہ کمیونیکیشن نظام دیا گیا جس کے ذریعے وہ کوڈڈ پیغامات بھیجیں۔

اسرائیل کی اندرونی سکیورٹی ایجنسی شین بیت نے مزید کہا ہے کہ سابق وزیر برائے توانائی گونن نے ایران کو اسرائیل کی توانائی کی صنعت، اسرائیل میں سکیورٹی تنصیبات، سیاسی اور سکیورٹی اداروں میں حکام کی تفصیلات ایران کو مہیا کیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے اپنے ایرانی ہینڈلرز کو کاروباری شخصیات کے طور پر پیش کر کے ان کا اسرائیل کی سکیورٹی کی صنعت میں کچھ لوگوں سے رابطہ بھی کرایا۔

جمعہ کو یروشلم کی ایک عدالت نے گونن پر حالت جنگ میں دشمن کی معاونت کرنے اور اسرائیل کے خلاف جاسوسی کرنے کی فرد جرم عائد کی۔

گونن کے اس کیس کی تفصیلات کو منظر عام پر نہ لانے کا حکم پیر کو ختم ہوا جس کے بعد یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں تاہم اب بھی کچھ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق گونن کے وکیل کا کہنا ہے کہ فرد جرم شین بیت کی جانب سے لگائے گئے الزامت سے کافی مختلف ہے۔

اسی بارے میں