سعودی کمپنی اپنے خواتین عملے کو ڈرائیونگ کی تربیت دے رہا ہے

سعودی عرب میں خواتین پر سے ڈرائیونگ کرنے کی پابندی 24 جون کو ختم کی جا رہی ہے اور ریاستی آئل کمپنی ارامکو اپنی خواتین ملازمین کو ڈرائیونگ سکھا رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے فوٹوگرافر احمد جداللہ اور رپورٹر رانیا الجمال نے دہران میں سعودی ارامکو ڈرائیونگ سینٹر کا دورہ کیا اور دیکھا کے خواتین عملہ کیسے ڈرائیونگ سیکھ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

ڈرائیونگ سیکھنے کے لیے ماریا الفراج (نچلی تصویر میں بائیں ہاتھ پر‘ ہیں جو انسٹرکٹر احلم الصومالی سے تربیت لے رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

ڈرائیونا سیکھنے کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سیکھ رہی ہیں کہ گاڑی کا تیل، ٹائر کیسے تبدیل کرتے ہیں اور سب سے اہم کہ سیٹ بیلٹ کیسے بانتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

ڈرائیونگ پر سے پابندی اٹھنا سعودی خواتین کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

آرکیٹیکٹ عمیرا عبدالغدر (نچلی تصویر میں) کہتی ہیں کہ 24 جون کو وہ خود گاڑی چلا کر اپنی والدہ کے کو سیر کروائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

عمیرا کہتی ہیں کہ ’سٹیئرنگ ویل کے پیچھے بیٹھنے کا مطلب ہے کہ آپ کنٹرول میں ہیں۔ میں اس بات کا فیصلہ کروں گی کہ کب جانا ہے، کیا کرنا ہے اور کب واپس آنا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ’ہمیں روز مرہ کے کام کے لیے گاڑی درکار ہوتی ہے۔ ہم کام کرتی ہیں، ہم مائیں ہیں، ہماری دوستیں ہیں، ہمیں باہر جانا ہوتا ہے اور اس کے لیے ہمیں گاڑی کی ضرورت ہے۔ میری زندگی تبدیل ہو جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

ارامکو میں 66 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں جن میں سے پانچ فیصد خواتین ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

تصاویر احمد جداللہ