بےنظیر بھٹو اور نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

اگر ہم آپ سے یہ پوچھیں کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسِنڈا آرڈن اور بینظیر بھٹو کا بھلا آپس میں کیا تعلق ہے؟ تو آپ کیا کہیں گے؟

آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ 1990 میں جب بینظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم تھیں، اور ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو وہ اپنے دور حکومت کے دوران ماں بننے والی پہلی وزیر اعظم تھیں۔

اور اب نیو زی لینڈ کی وزیر اعظم جیسِنڈا آرڈن کے ہاں 21 جون 2018 کو ایک بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ ماں اور بچی دونوں صحت مند ہیں۔ 37 برس کی جیسنڈا آرڈن چھ ہفتے کی چھٹی لیں گی، جس دوران نائب وزیر اعظم ونسٹن پیٹرز ان کے فرائض انجام دیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس دوران بھی حکومت کی قیادت وہ خود ہی کریں گی اور روزانہ کابینہ کے دستاویزات کا جائزہ لیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ @JACINDAARDERN
Image caption نیو زیلینڈ کی وزیر اعظم جیسِنڈا آرڈن کے ہاں ایک بیٹی ہوئی ہے۔

اس اعلیٰ عہدے پر فرائض انجام دیتے ہوئے ماں بننے والی، بینظیر بھٹو کے بعد وہ صرف دوسری خاتون ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ 21 جون کو بینظیر بھٹو کی سالگرہ بھی ہے۔

تو جہاں ایک طرف لوگ ٹوئٹر پر نیو زیلینڈ کی وزیر اعظم کو مبارک باد دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف #HappyBirthdaySMBB بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔

پی پی پی کی رہنما ناز بلوچ نے ٹویٹ کی، ’ہمت کی علامت، اور پاکستان کا فخر، بینظیر بھٹو دنیا بھر میں سیاست میں کام کرنے والی خواتین کے لیے ایک مثالی کردار ہیں۔

صحافی ابسا کومل نے لکھا کہ ’پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم، اسلامی ممالک کی پہلی خاتون لیڈر، بینظیر بھٹو کی یاد میں۔۔ اور ہاں وہ واحد پاکستانی رہنما تھیں جنہوں نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا۔۔‘

اور ٹوئٹر یوزر عمران خان نے ٹویٹ کی، ’نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے بینظیر بھٹو کی سالگرہ پر، جو کہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے ماں بننے والی پہلی خاتون تھیں، ایک بیٹی کو جنم دیا ہے۔ اِس بچی کا نام بینظیر رکھا جانا چاہیے۔‘

اب نیو زیلینڈ کی وزیر اعظم ایسا کرتی ہیں یا نہیں، لیکن ان کی بیٹی کا بینظیر بھٹو کی سالگرہ پر پیدا ہونا ایک دلچسپ اتفاق تو ضرور ہے!

اسی بارے میں