جب خاتون پولیس اہلکار نے بچپن میں ریپ کرنے والے کو جیل پہنچایا

Image caption وہ تنہائی اور جنگل کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتا تھا

وہ نو سالہ لڑکی بہت باتونی تھی۔ اس کے پاس بہت سی گڑیا تھی اور وہ اپنی سہیلی کے ساتھ 'گھروندے' کا کھیل کھیلتی تھی۔

اسے سائیکلنگ کا بہت شوق تھا۔ اس کے گھر ایک ٹی وی تھا۔

جبکہ اس فوٹوگرافر کی عمر 39 سال تھی۔ وہ شادی شدہ تھا۔ فطرت سے اسے خاص لگاؤ تھا۔ وہ خوب سیر سپاٹے کرتا تھا۔ اور اپنے سفر کے قصوں سے عوام کا اعتماد بہ آسانی حاصل کر لیتا تھا۔

تباتا (تبدیل شدہ نام) کی اس فوٹو گرافر سے پہلی ملاقات سنہ 2002 کے موسم گرما میں ہوئی تھی۔ وہ تباتا کے والدین کا دوست تھا۔ اس نے دو سال تک تباتا کا ریپ کیا۔

آخری بار ریپ کرنے کے 12 سال بعد دونوں کا ایک بار پھر سامنا ہوا۔

اس بار تباتا کے ہاتھوں میں بندوق تھی۔ اس نے فوٹوگرافر کا بازو زور سے پکڑ کر اسے ہتھکڑیاں پہنائیں اور اسے جیل لے گئی۔ اس نے اسے قید کر کے راحت کی ایک لمبی سانس لی جیسے اس نے کوئی طویل سلسلہ ختم کر دیا ہو۔

جنسی استحصال

تباتا اب 26 سال کی پولیس افسر ہیں اور جنوبی برازیل کے صوبہ سانتا کیٹرینا صوبے میں تعینات ہیں۔ 21 دسمبر سنہ 2016 کا وہ دن ان کے ذہن میں تازہ ہے۔

تباتا نے اس آدمی کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا جس نے ان کا کئی بار جنسی استحصال کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: دس سالہ بچی کا ریپ، بچی کے ماموں مجرم قرار

’اسقاطِ حمل کی گولیوں کی آن لائن تلاش میں دوگنا اضافہ‘

آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل نے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا

پہلی بار کسی صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو اپنی کہانی سنائی۔ تباتا نے کہا کہ انھوں نے اس بارے میں زبان کھولنے کا اس لیے فیصلہ کیا ہے تاکہ دوسری خواتین کو بھی ترغیب مل سکے۔

کیمپنگ کے ساتھ جسنی استحصال شروع ہوا

جب فوٹوگرافر کی تباتا کے والد سے شناسائی ہوئی اس وقت تباتا نو سال کی تھیں اور فوٹوگرافر جلد ہی ان کے خاندان کے ساتھ گھل مل گیا۔

موسم گرما میں دونوں خاندانوں نے دریا کے کنارے ساتھ کیمپنگ کا منصوبہ بنایا اور ہر ہفتے کیمپنگ کا دورہ شروع ہو گيا۔

تباتا اس اچھے وقت کو یاد کرتی ہیں جب وہ دریا میں خوب مزے کیا کرتی تھی۔

دونوں خاندان کار سے جایا کرتے تھے، جنگلوں کے ناہموار راستوں سے گزرتے ہوئے فطرت سے لطف اندوز ہوتے تھے اور کھلے آسمان کے نیچے ٹھنڈی ہوا میں سوتے تھے۔

کیمپنگ کے چند ہفتوں کے دوران فوٹوگرافر نے تباتا کا جنسی استحصال شروع کر دیا۔

انھوں نے بتایا کہ 'میرے ساتھ جو ہو رہا تھا وہ مجھے پریشان کر رہا تھا لیکن اس وقت میں یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ جرم ہے۔‘

'میں نے اس وقت اپنے والدین کو کچھ نہیں بتایا، لیکن آج میں سوچتی ہوں کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔'

کہیں والد اس کا قتل نہ کر دیں!

تصویر کے کاپی رائٹ ANDRE VALENTE BBC BRAZIL
Image caption وہ فوٹوگرافر تباتا کو زور سے پکڑ لیتا تھا

تباتا کی ایک آٹھ سالہ سوتیلی بہن بھی تھی لیکن وہ ان کے ساتھ کیپنگ کے لیے نہیں جاتی تھی۔

'وہ میرے باپ کے زیادہ قریب نہیں تھی کیونکہ وہ سوتیلی بیٹی تھی۔ وہ گھر پر رہ کر ہی ٹی وی دیکھتی یا پڑھائی کرتی تھی۔'

تباتا کے مطابق فوٹو گرافر نے ان کے کمزور ہونے، کیمپ کی تنہائی اور درختوں کے درمیان اندھیرے کا فائدہ اٹھایا۔

وہ بتاتی ہیں: 'ایک بار کیمپنگ کے دوران پانی لینے گئی تھی تو راستے میں اس نے میرا استحصال کیا۔ میں بمشکل ہاتھ چھڑا کر وہاں سے بھاگی۔ میرے والدین نے پوچھا کہ تم اس سے پہلے کیوں آ گئی؟ انھوں نے کبھی نہیں سوچا کہ ان کا قابل اعتماد دوست ان کی اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا کرسکتا ہے۔'

جب استحصال کے واقعات مسلسل ہونے لگے تو تباتا کی برداشت سے باہر ہو گيا۔ وہ اپنے والد کو سب کچھ بتانا چاہتی تھی۔

تباتا نے بتایا: 'میرے والد ہمیشہ تناؤ میں رہتے تھے اور مجھے ڈر تھا کہ میرے سچ بتانے پر کہیں وہ اس فوٹوگرافر کو قتل نہ کر دیں۔ پھر انھیں جیل ہو جاتی۔ ہزاروں باتیں ذہن میں آ رہی تھیں۔ ایک خوف یہ بھی تھا کہ میرے والدین مجھ پر یقین کریں گے یا نہیں۔'

'ماں کو بتانا چاہتی تھی ، لیکن'

فوٹوگرافر اکثر ان کے گھر تباتا کو تنہائی میں پانے کے لیے آنے لگا۔

اس نے دیکھا کہ تباتا کی بہن پڑھنے میں مصروف رہتی ہے اور اس کی ماں رات کو کام کرتی ہے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کب اس کے والد رات میں فٹبال کھیلتے ہیں اور وہ اس وقت کا فائدہ اٹھاتا اور تباتا کا جنسی استحصال کرتا۔

'وہ کہتا تھا، 'بس تھوڑا سا، بس تھوڑا سا'۔ وہ کبھی مجھے مارتا نہیں تھا، وہ مجھے زور سے پکڑ لیتا تھا۔'

وہ ڈھائی سال تک تباتا کا جنسی استحصال کرتا رہا۔

تباتا کہتی ہیں کہ انھیں 11 سال کی عمر تک یہ سمجھ آنے لگا کہ وہ ان کے ساتھ جنسی جرم کررہا ہے۔ وہ اس کی مخالفت کرنے لگی۔ چیخنے لگی لگی لیکن اس کا کوئی حاصل نہیں تھا۔

ایک دن وہ اپنی ماں کو سب کچھ بتانے کے لیے تیار تھی کہ اس پتہ چلا کہ اس کی والدہ نفسیاتی مریض ہے۔ پھر تباتا نے انھیں کچھ نہ بتانے کا فیصلہ کیا۔

سوتیلی بہن کو بتایا

تصویر کے کاپی رائٹ ANDRE VALENTE BBC BRAZIL
Image caption عدالت میں فوٹوگرافر کو مجرم قرار دیا گیا اور سات سال کی سزا سنائی گئی

اس وقت تباتا کو ایک چونکانے والی خبر ملی کہ اس کے والد کا فوٹوگرافر کی اہلیہ کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔

جب اس بات کا پتہ دونوں خاندانوں کو چل گيا تو دوستی ختم ہو گئی اور تباتا کے استحصال کا سلسلہ بھی بند ہو گیا۔

تباتا نے اپنی سہیلی کو سب کچھ بتا دیا اور اس سے رازداری کا قول لے لیا۔

وہ ایک مشکل وقت تھا۔ تباتا کو اپنی جسمانی اور ذہنی طور پر بیمار ماں کو سنبھالنا تھا۔ وہ اپنی بہن سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ دونوں کے اچھے تعلقات نہیں تھے۔

لیکن ماں کی بیماری دونوں بہنوں کو قریب لے آئی۔ تباتا نے اپنی بہن کو سنہ 2006 میں اس کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا۔

تباتا نے کہا: 'جب میں نے اپنی بہن کو سب کچھ بتایا تو، وہ بہت زیادہ رونے لگی۔ اس نے والد کو فورا فون کیا۔ میرے والد دو سال قبل میری والدہ سے طلاق لے چکے۔ ایسے میں ان کو کچھ بتانا میرے گھر والوں کے لیے تکلیف کا باعث ہوتا۔'

تباتا برسوں تک اس دردناک یادوں کو بھلانے کی کوششیں کرتی رہی لیکن وہ ان کے دماغ سے نہیں نکل سکی۔

مزید متاثرین

ان بری یادوں سے پریشان ہو کر انھوں نے اپنے سکول کے دوستوں کو سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا۔

سنہ 2008 میں جب وہ 16 سال کی تھیں تو اس کی ایک دوست نے اس کی ماں کو سب کچھ بتا دیا۔ سوئے اتفاق اس لڑکی کی ماں فوٹوگرافر کو جانتی تھی۔ اس کی ماں نے تباتا کو ملاقات کی غرض سے بلایا۔

'انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ بہت سی دوسری لڑکیوں کو جانتی ہیں جنھیں فوٹو گرافر نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ میرا خیال تھا کہ اس نے صرف میرے ساتھ ایسا کیا ہے لیکن اس نے تو بہت سی لڑکیوں کی زندگی برباد کی تھی۔'

جنسی زیادتی کے سات سال بعد تباتا نے پولیس میں شکایت درج کی۔ پولیس نے تحقیقات تو کی لیکن جلد ہی کیس بند کر دیا۔'

تباتا ایک وکیل سے ملی۔ لیکن انھوں نے اس معاملے کو لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اس میں کوئی جان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا، 'کیس پرانا ہے اور میرے پاس ثبوت نہیں ہیں۔'

تباتا اس دن خوب روئی اور انھیں یوں محسوس ہوا کہ مجرم کو اب کبھی سزا نہ ہو سکے گی۔

کچھ عرصے بعد کسی نے انھیں بتایا کہ ایک کاروباری شخص کی نو سالہ بیٹی کا بھی اسی فوٹو گرافر نے جنسی استحصال کیا ہے۔

تباتا اس کی ماں سے مدد لینے پہنچی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANDRE VALENTE BBC BRAZIL
Image caption بالآخر تباتا نے اپنے مجرم کو خود پکڑ کر جیل پہنچایا

میں نے انھیں عدالت میں گواہی دینے کے لیے کہا۔ اس کے بعد تباتا دوبارہ وکیل کے پاس گئی۔

جج نے یہ تسلیم کیا کہ مجرم کا بچوں کے جنسی استحصال کا ریکارڈ رہا ہے۔ ایک سال بعد سنہ 2013 میں عدالت میں پہلی سماعت ہوئی۔

عدالت میں سماعت کے دوران فوٹو گرافر نے ان الزامات سے انکار کیا۔ انھوں نے کہا کہ تباتا انقامی طور پر ان پر الزام لگا رہی ہے کیونکہ اس کے والد کا ان کی بیوی کے ساتھ تعلق تھا۔

لیکن عدالت نے فوٹو گرافر کو مجرم قرار دیا اور سات سال کی سزا سنائی۔

24 سال کی عمر تک تباتا نے سول پولیس اکیڈمی کا کورس مکمل کیا اور ایک پولیس اہلکار بن گئیں۔

22 دسمبر سنہ 2016 کو وہ آٹھ دس پولیس اہلکاروں کی اپنی ٹیم کے ساتھ فوٹوگرافر کو گرفتار کرنے پہنچیں۔ وہ دریا کے کنارے ایک فارم ہاؤس میں چھپا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ اس کی مشکلوں نے اسے پولیس اہلکار بننے کا حوصلہ دیا اور وہ تمام ریپسٹوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانا چاہتی تھیں۔

ایک سال بعد اسے جیل میں اس کے اچھے برتاؤ کے سبب چھوڑ دیا گيا اور اس سے تباتا کو اطمینان نہیں۔

تباتا کہ خیال ہے کہ ان کی کہانی دوسروں کے لیے ایک انتباہ ہے اور وہ تمام ماؤں سے کہیں گی کہ اپنے بچوں سے بات کریں اور انھیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ان پر بھروسہ کرتی ہیں۔

اسی بارے میں