ترک انتخابات: اردوغان کی جیت، ترکی نئے عہد صدارت میں داخل

صدر اردوغان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر اردوغان نے کہا کہ مخالفین کو قانون کے دائرے میں سبق سکھائیں

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان ملک میں صدارتی انتخاب میں واضح جیت کے بعد اب وسیع پیمانے پر طاقت اور اختیارات حاصل کر لیں گے۔

ان کی کامیابی کے بعد ملک کی پارلیمان کمزور ہو گئی ہے اور پچھلے سال کے ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔

شکست خوردہ صدارتی امیدوار محرم انجے نے کہا کہ 'ملک اب ایک خطرناک دور میں داخل ہو رہا ہے جس میں یکطرفہ طور پر حکومت کی جائے گی۔'

یہ بھی پڑھیے

اردوغان انتخابات جیت گئے، دوسری مدت کے لیے صدر منتخب

’یہ اردوغان کا ملک نہیں‘

اردوغان کی جیت،’ریفرینڈم کے نتائج درست ہیں‘

واضح رہے کہ سرکاری میڈیا کے مطابق طیب اردوغان کو 53 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے قریبی حریف محرم انجے کو بڑی انتخابی مہم کے بعد 31 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

صدر اردوغان نے ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے اور ملک میں ان کے لیے واضح حمایت ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے مخالفین کے خلاف کئی اقدامات کیے ہیں اور کسی بھی قسم کی مخالفت کو دبانے کے لیے اپنے حریفوں کو حراست میں لیا ہے اور جس کے نتیجے میں اس وقت 160000 افراد جیلیوں میں بند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رجب طیب اردوغان سنہ 2014 میں صدر بننے سے قبل 11 سال تک ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں

ان تمام اختیارات کا کیا مطلب ہے؟

اپنی جیت کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے اردوغان نے کہا کہ وہ ملک میں قائم ہونے والا نیا صدارتی نظام جلد از جلد رائج کریں گے۔ گذشتہ سال کے ریفرینڈم کے تحت آنے والی نئی آئینی تبدیلیاں بمشکل 51 فیصد ووٹوں سے منظور ہوئی ہے۔

اس ریفرینڈم سے صدر کو ملنے والے اختیارات کے تحت وہ براہ راست نائب صدر، وزیر اور دیگر افسران کو بھرتی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ملک کے عدالتی نظام میں بھی مداخلت کر سکتے ہیں جبکہ بوقت ضرورت وہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں۔

انتخابات کا انعقاد کیسے ہوا تھا؟

انتخابات کے دوران سیکیورٹی کافی سخت تھی اور اس وقت خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مخالفین پر دباؤ ڈالا جائے گا اور انتخابی عمل میں دھاندلی ہو گی۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ووٹ ڈالنے کا تناسب 87 فیصد رہا۔ الیکشن کی نگرانی کرنے والے یورپی مبصرین نے کہا ہے کہ صدر اردوغان کو واضح حمایت حاصل تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں جس طرح کا ماحول قائم تھا اس سے فائدہ صرف ان ہی کی جماعت کو ہوا ہے۔

'افسوسناک طور پر ان کے مخالفین کو برابری کے مواقع نہ مل سکے جس سے وہ اپنی انتخابی مہم بھرپور طور پر چلا نہ سکے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ ARIS MESSINIS
Image caption صدر اردوغان نے ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے اور ملک میں ان کے لیے واضح حمایت ہے

تنظیم کے مطابق ملک میں 2016 سے لگائی جانے والے ایمرجنسی کے نتیجے میں آزادی اظہار رائے کافی متاثر ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے مخالف جماعتوں کو نقصان ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک کی کرنسی لیرا کو بھی نقصان پہنچا ہے اور صدر اردوغان نے مرکزی بینک کو شرح سود بڑھانے کا حکم دیا تھا۔

اس کے علاوہ دہشت گردی ترکی کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور ملک میں کرد حملہ آوروں اور شدت پسند جہادیوں نے متعدد مواقعوں پر حملے کیے ہیں۔

یاد رہے کہ 2016 میں ترکی میں اس وقت ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی جب جولائی میں فوج نے صدر اردوغان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد سے ترکی میں ایک لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا جبکہ 50000 سے زائد افراد جیلوں میں قید ہیں اور مقدمات کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں