انڈیا خواتین کے لیے ’سب سے خطرناک‘ ملک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ایک عالمی ادارے کے سروے کے مطابق انڈیا دنیا میں خواتین کے لیے سب سے خطرناک جبکہ امریکہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہے۔

انڈیا چھ میں سے تین سوالوں کے جواب میں سر فہرست ہے۔ ان سوالوں میں ان چیزوں کی موجودگی یا زیادہ ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تھا:

1: خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور حراساں کیے جانے کے واقعات،

2: ثقافت اور قبائلی رسم و رواج کی وجہ سے خواتین کو درپیش خطرات

3: ایسا ملک ہونا جہاں انسانی سمگلنگ بشمول خواتین کو جنسی مزدوری، جنسی اور گھریلو غلامی میں دھکیلنا

خواتین کی صحت جن میں زچگی کے دوران موت، پیدائش اور ایچ آئی وی/ایڈز پر کنٹرول کے معاملے میں انڈیا چوتھے نمبر پر ہے جبکہ ملازمت میں جانبداری کے معاملے میں تیسرے اور (غیر جنسی) گھریلو تشدد کے معاملے میں بھی تیسرے نمبر پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اب وقت آگیا ہے کہ انڈیا بھی کہے: می ٹو‘

جنسی ہراسگی کے خلاف ہالی وڈ میں جلوس

خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حال ہی میں انڈیا کے علاقے جموں کے کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی کے ریپ کے خلاف لوگوں کا غصہ ابل پڑا اور ملک گیر پیمانے پر مظاہرے ہوئے

برطانیہ میں قائم ادارے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے سروے میں مجموعی طور پر انڈیا کے بعد جنگ زدہ افغانستان دوسرے اور خانہ جنگی کا شکار شام تیسرے نمبر پر ہے۔

خواتین کے معاملے میں سب سے خطرناک ملک کی اس فہرست میں پہلے دس ممالک میں سعودی عرب، پاکستان، کونگو اور نائجیریا سمیت امریکہ بھی شامل ہے۔

امریکہ جنسی تشدد کے معاملے میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ غیر جنسی تشدد کے واقعات میں وہ چھٹے جبکہ جنسی تشدد کے معاملے میں کونگو دوسرے نمبر پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ’سیکس سے انکار پر خاوند نے بیوی کو مار ڈالا‘

’خواتین کا جنسی رویہ ثقافتی اقدار پر زیادہ منحصر‘

خواتین پر (غیر جنسی) تشدد کے معاملے میں افغانستان سرفہرست ہے جبکہ شام اور انڈیا کا نمبر دوسرا اور تیسرا ہے۔ پاکستان اس معاملے میں پانچویں نمبر پے ہے۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے سنہ 2011 میں بھی اسی قسم کا سروے کیا تھا جس میں افغانستان پہلے جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سات سال قبل والے سروے میں افغانستان خواتین کے لیے سب سے خطرناک ملک قرار دیا گيا تھا جبکہ حالیہ سروے میں وہ دوسرے نمبر پر ہے

ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کا پہلے نمبر پر آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو لاحق خطرات کو دور کرنے کے لیے انڈیا میں زیادہ کوشش نہیں کی جا رہی ہے حالانکہ سنہ 2012 کے آخر میں دارالحکومت دلی میں ایک چلتی ہوئی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے بعد ریپ کے قوانین میں سختی لائی گئی تھی۔

انڈین میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق انڈیا کی جنوبی ریاست کے ایک سرکاری اہلکار منجو ناتھ گنگا دھر نے کہا: انڈیا میں خواتین کے ساتھ انتہائي نا روا سلوک کیا جاتا ہے۔۔۔۔ ریپ، میریٹل ریپ، جنسی تشدد اور ہراساں کیا جانا اور بچیوں کو رحم مادر میں ہی قتل کیا جانا بلا کسی روک ٹوک جاری ہے۔'

اس سروے میں خواتین کے لیے کام کرنے والے سات سو سے زیادہ ماہرین سے رجوع کیا گیا تھا جن میں سے تقریباً چھ سو افراد نے جواب دیا۔

اس سروے میں اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں خواتین کو لاحق خطرات سے متعلق سوال پوچھے گئے تھے۔

اسی بارے میں