امریکہ نے تارکین وطن کے خلاف مقدموں کو عارضی طور پر روک دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے عوام کے دباؤ میں ایک ایگزیکٹو حکم جاری کرکے غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے بچوں سے علیحدہ کرنے کے عمل کو روک دیا ہے

امریکی سرحد کے ایک سکیورٹی سربراہ نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے خلاف مقدموں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

کسٹمز اینڈ بورڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کے کمشنر کیون میک الینن نے ٹیکساس میں میڈیا کو بتایا کہ ان مقدموں کو گذشتہ ہفتے معطل کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے ایک حکم کے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے جس میں انھوں نے تارکین وطن خاندانوں کو علیحدہ کرنے سے روکنے کی بات کہی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سرحد پر جدا ہونے والی بچی کی کہانی

’خاندان اکٹھے کر کے صدر ٹرمپ ہیرو نہیں بن گئے‘

لیکن صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے خاندانوں کو ایک ساتھ حراست میں رکھا جائے گا۔

ریپبلیکن صدر کو گذشتہ بدھ کو عوام کے دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا اور انھوں نے 'خاندانوں کو ایک ساتھ' حراست میں رکھنے کا ایگزیکٹو حکم نامہ جاری کیا تھا۔

لیکن میک الینن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی 'زیرو برداشت' کی حکمت عملی ابھی بھی نافذ العمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی 'زیرو برداشت' کی پالیسی ابھی بھی نافذ ہے

خاندانوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

سی بی پی کے سربراہ نے کہا کہ اگر امریکی حکام غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے ایسے بچوں سے جنھیں بالغوں کے قید خانے میں نہیں رکھا جا سکتا، علیحدہ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو پھر ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ان کی ایجنسی اور وزارت انصاف کو والدین سے بچوں کو علیحدہ کیے بغیر والدین پر مقدمہ چلانے کا طریقہ نکالنا ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے سرحدی ایجنٹس جو کسی بالغ تارک وطن کو بچوں کے ساتھ روکتے ہیں اب وہ انھیں عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس دیں گے اور حراست میں رکھنے کے بجائے جانے دیں گے۔ لیکن بچوں کے بغیر آنے والوں کو حراست میں لے لیا جائے گا۔

ٹرمپ اس 'پکڑنے اور چھوڑنے' کی پالیسی پر بار بار تنقید کرتے رہے ہیں اور جب اپریل میں ان کی انتظامیہ نے کام شروع کیا تو انھوں نے سرحد پار کرنے سے لوگوں کو باز رکھنے کے لیے بالغ تارکین وطن کو ان کے بچوں سے علیحدہ کر کے ان پر مقدمہ چلانا شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیے

بچوں کو والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے: میلانیا ٹرمپ

امریکہ:غیر قانونی تارکین وطن کے لیے نئی گائیڈ لائن جاری

پیر کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارہ سینڈرز نے کہا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے پاس میکسیکو سے آنے والے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے۔

انھوں نے میڈیا سے کہا: 'ہم پالیسی نہیں بدل رہے ہیں۔ صرف ہمارے وسائل ختم ہو گئے ہیں۔'

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو 'ایک اچھے اور قابل عمل نظام کی ضرورت ہے۔'

انھوں نے کہا: 'ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں جب کوئی غیر قانونی طور پر آ‏ئے تو اسے جانا پڑے۔'

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پیر کو پینٹاگون نے بتایا کہ ٹیکساس کے دو فوجی اڈوں کو عارضی طور پر پناہ گزینوں کے کیمپ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

لیکن وزیر دفاع جم میٹس نے ان فوجی اڈوں کی وضاحت نہیں کی کہ آیا فورٹ بلس اور گڈ فیلو ایئرفورس میں پناہ گزینوں کو ان کے بچوں کے ہمراہ رکھا جائے گا۔

اس سے پہلے امریکی میڈیا نے کہا تھا کہ ان میں سے ایک فوجی اڈے کو تارکین وطن کے اہل خانہ کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ دوسرے کو ان کے بچوں کے رہنے کے استعمال میں لایا جائے گا جو بغیر مطلوبہ دستاویزات کے امریکہ میں کسی بالغ کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔

دریں اثنا امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے پیر کو ہی نیویڈا میں پولیس افسروں کی ایک کانفرنس میں پناہ گزینوں کے متعلق سخت موقف کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے

نوجوان تارکین وطن کےتحفظ کا پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ

’غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا خاکہ تیار‘

نیویارک ٹائمز کے مطابق انھوں نے کہا کہ 'غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے بالغوں پر مقدمہ نہیں چلایا جانا ملک کے باشندوں کو نقصان پہنچانا ہوگا۔'

انھوں نے کہا کہ سرحد پر ڈھیلے ڈھالے انداز میں قانون کے نفاذ سے ' مزید بالغوں کو بچوں کو لے کر داخل ہونے کی ترغیب ملے گی۔'

بہر حال انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ 'بچوں کو ان کے خاندان سے علیحدہ نہ کرنے کی کوشش کرے گی۔'

حکومت ابھی تک دو ہزار سے زیادہ بچوں کو ان کے والدین سے ملانے سے قاصر رہی ہے جنھیں انھوں نے گذشتہ ماہ کے دوران ان سے علیحدہ کر دیا تھا۔

اسی بارے میں