امریکہ بھر میں منقسم تارکین وطن کے مسئلے پر احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت

امریکہ احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تارکین وطن کی پالیسی پر صدر ٹرمپ کو گذشتہ بدھ کو عوام کے دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا

امریکہ میں صدر ٹرمپ کی غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

امریکہ بھر میں 630 احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا جس میں غیر قانونی تارکین وطن کے خاندانوں کو سرحد پر پہنچنے پر منقسم کرنے کے خلاف اور ایک ساتھ رکھنے کے حق میں احتجاج کیا جائے گا۔

دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی، نیو یارک، اور متعدد بڑے شہروں میں یہ مظاہرے کیے گئے ہیں جہاں شرکا کا مطالبہ تھا کہ خاندانوں کو ایک دوسرے سے الگ نہ کیا جائے اور متنازع امیگریشن ایجنسی آئیس کو ختم کیا جائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی امریکی عقائد کے خلاف ہے۔ منتظمین نے #familiesbelongtogether کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے متنازع پالیسی کو ختم کرنے کے ایگزیکٹو حکم نامے کے باوجود اب بھی تقریباً دو ہزار بچے اب بھی اپنے والدین سے الگ ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

امریکہ: منقسم تارکین وطن، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

امریکہ: تارکین وطن کے خلاف مقدمے فی الحال روک دیے گئے

بچوں کو والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے: میلانیا ٹرمپ

امریکہ:غیر قانونی تارکین وطن کے لیے نئی گائیڈ لائن جاری

صدر ٹرمپ کو گذشتہ بدھ کو عوام کے دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا اور انھوں نے 'خاندانوں کو ایک ساتھ' حراست میں رکھنے کا ایگزیکٹو حکم نامہ جاری کیا تھا۔

اس کے تحت صدر ٹرمپ کی غیر قانونی تارکین کے بارے میں 'زیرو برداشت' کی حکمت عملی گرفتار کیے جانے والے تارکین وطن کے بچوں کو ان سے الگ نہیں کیا جائے گا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صدارتی حکمنامے میں ان دو ہزار تین سو 42 بچوں کے مسئلے کو حل نہیں کیا گیا جنھیں پانچ مئی سے نو جون تک حراست میں لیا گیا تھا۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت کی توقع ہے اور مظاہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ سفید لباس میں ملبوس ہوں جو کہ اتحاد اور امن کی علامت ہے۔

اس تحریک کی ایک بانی اینا گالینڈ نے کہا ہے کہ مرکزی احتجاجی مظاہرہ واشنگٹن میں منعقد ہو رہا ہے اور اس کے علاوہ پچاس ریاستوں میں احتجاج کیا جائے گا۔

احتجاجی مظاہروں میں شہری آزادیوں کی یونین کے کارکنوں، شہری حقوق اور نیشنل ڈیموکیٹ اتحاد کے کارکن بھی شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ احتجاجی مظاہرے میں مقبول شخصیات بھی شامل ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اب بھی دو ہزار سے زیادہ بچے اپنے خاندان سے الگ ہیں

خیال رہے کہ یہ پہلا موقعہ نہیں جب اس حوالے سے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے جمعرات کو سینیٹ کی عمارت میں حکومت کی امیگریشن پالیسی کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا اور اس دھرنے سے چھ سو کے قریب خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے گذشتہ منگل کو امریکہ کی17 ریاستوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر تارکین وطن کو 'ظالمانہ اور غیر قانونی' طور پر منقسم کرنے کا ملزم ٹھہراتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا اور اسی دن امریکی سرحد کے ایک سکیورٹی سربراہ نے کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے خلاف مقدموں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے میکسیکو سے امریکہ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'انھیں بچوں کو اُن کے والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں