سگریٹ کے ڈبوں کی پیکنگ کے تنازعے میں آسٹریلیا کی جیت

سگریٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) نے سگریٹ کے ڈبوں کی پیکنگ کے بارے میں ایک اہم تجارتی تنازع کے کیس میں آسٹریلیا کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔

سال 2011 میں آسٹریلیا نے قانون پاس کیا تھا جس کے تحت ملک میں سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازمی تھا کے وہ سگریٹ کے ڈبے سادہ پیکنگ میں بیچیں گے جس پر سگریٹ کے مضر اثرات کے بارے میں واضح طور پر درج ہوگا۔

سات سال کے بعد ڈبلیو ٹی او نے چار ممالک کی مشترکہ شکایت پر مبنی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلوی حکومت کے اس فیصلے سے کسی بین الاقوامی تجارتی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔

اسی بارے میں

’سگریٹ نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں‘

ہر دس میں ایک موت کی وجہ سگریٹ نوشی

سگریٹ چھوڑنے کا 'گرل فارمولہ'

اگر اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل کامیاب نہیں ہوتی، توقع ہے کہ اس سے ملتے جلتے مزید قوانین دنیا بھر میں لاگو ہو سکتے ہیں۔

آسٹریلوی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'آسٹریلیا نے ایک زبردست کامیابی حاصل کر لی ہے۔'

تمباکو پیدا کرنے والے چار ممالک کیوبا، ہونڈوراس، ڈومنیکین ریپبلک اور انڈونیشیا نے اپنی کیس میں کہا تھا کہ سادہ ڈبے کی وجہ سے کاپی رائٹ حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

لیکن ڈبلیو ٹی او نے ان دلائل کی تردید کرتے ہوئے کہا کے متبادل ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں جس سے عوامی کی صحت کو فائدہ بھی پہنچے گا۔

عالمی ادارہ صحت نے اس فیصلہ کی تعریف اور حمات کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ اس کے بعد دیگر ممالک میں بھی اس سے ملتے جلتے اقدامات لیے جائیں گے۔

آسٹریلیا کے 2011 کے قانون کے بعد برطانیہ، آئرلینڈ، فرانس، ہنگری، ناروے اور نیوزی لینڈ نے بھی سگریٹ کے ڈبوں کی پیکنگ کے حوالے سے ایسے قوانین پاس کیے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق برکینا فاسو، کینیڈا، جیارجیا، رومانیہ، سلوینیا اور تھائی لینڈ میں بھی ایسی قوانین کی منظوری ہونے والی ہے۔

ہونڈوراس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ڈبلیو ٹی او کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گا لیکن آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ اس اپیل کے خلاف مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں