صدر ٹرمپ کو کس نے اور کیسے ’بیوقوف‘ بنایا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 'کبھی کبھار اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں‘

ایک امریکی کامیڈین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت بیوقوف بنایا جب انھوں نے صدارتی جہاز ایئر فورس ون پر کال کر کے صدر سے بات کی۔

کامیڈین جان میلنڈیز نے اپنے آپ کو سینیٹر بوب میننڈیز ظاہر کیا۔ جان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کشنر سے بات کی اور پھر صدر ٹرمپ نے ان کو فون کیا۔

جان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سینیٹر میننڈیز ہونے کا دعویٰ کیا۔

جان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں اب بھی حیران ہوں ۔۔۔ میں نے تو مذاق کیا اور میں کامیڈین ہوں۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ مجھے صرف ڈیڑھ گھنٹہ لگا کے میں ایئر فورس ون پر داماد کشنر اور صدر ٹرمپ سے بات کر سکوں۔‘

جان نے مزید بتایا کہ پہلے انھوں نے وائٹ ہاؤس فون کیا اور اپنا اصل نام بتایا لیکن وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ مصروف ہیں اور فون بند کر دیا۔

’میں نے دوبارہ فون کیا اور اس بار سینیٹر کے جعلی اسسٹنٹ شون مور بن کر۔‘

’میں نے اپنا لہجہ تبدیل کیا جو کہ اتنا اچھا نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ میں سینیٹر میننڈیز کا اسسٹنٹ شون مور ہوں اور سینیٹر صدر سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاوس نے کہا کہ وہ بعد میں فون کرتے ہیں اور پھر میرے موبائل فون پر فون آیا۔‘

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کبھی کبھار اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔‘

واضح رہے کہ سینیٹر میننڈیز نیو جرسی سے ڈیموکریٹ جماعت کے سینیٹر ہیں اور امیگریشن اصلاحات کے حق میں ہیں۔

جان نے امریکی صدر جو اس وقت ایئر فورس ون پر تھے کے ساتھ بات چیت ریکارڈ کی اور اپنے پوڈ کاسٹ پر اپ لوڈ کی۔

اپ لوڈ کی گئی ریکارڈنگ میں صدر نے سینیٹر کو 2017 میں رشوت لینے کے الزام سے بری ہونے پر مبارکباد دی۔

سینیٹر میننڈیز پر الزام تھا کہ انھوں نے سیاسی اثر و رسوخ کے لیے فلوریڈا کے ایک ڈاکٹر سے تحائف لیے۔

پوڈ کاسٹ پر اپ لوڈ کی گئی آوازوں نے سپریم کورٹ میں ایک جج کی جگہ پُر کرنے پر بھی بات چیت کی۔ صدر ٹرمپ کی بتائی جانے والی آواز نے کہا کہ وہ نئے جج کیتقرری کے حوالے سے اگلے 10 سے 14 روز میں فیصلہ کریں گے۔

وائٹ ہاوس کی جانب سے اس گفتگو کی تحقیقات کے لیے جب سینیٹر کے دفتر فون کیا گیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

کامیڈین جان کا کہنا ہے کہ ان کو بہت آسانی سے پکڑا جا سکتا تھا۔ ’اگر مجھ سے یہ پوچھا جاتا کے سینیٹر میننڈیز کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں یا کس ریاست سے سینیٹر منتخب ہوئے تو مجھے اس کا جواب نہیں معلوم تھا۔ لیکن انھوں نے مجھ سہ کچھ نہیں پوچھا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں