تیل کی پیداوار میں اضافے پر ایران کی تنبیہ، ’اس دغابازی کی قیمت ادا کرنی پڑے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو اپنا تیل فروخت کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہو گا اور اس کے ساتھ ان ممکنہ ممالک کو تنبیہ کی جو ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد تیل کی بین الاقوامی منڈی میں اس کے حصے کی جگہ لینا چاہیں گے۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت پر قابو پانے کی خاطر تیل کی پیداوار میں اضافہ کریں۔

اتوار کو ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے کہا کہ’ اس جنگ میں جو بھی ملک یہ چاہتا ہے کہ تیل کی منڈی میں ایران کی جگہ لے لے، وہ ایرانی عوام اور بین الاقوامی برادری سے دغا بازی کرے گا اور یقیناً وہ اس دغا بازی کی قیمت بھی ادا کرے گا۔ ‘

قومی صعنت اور کان کنی کے دن کے موقع پر تقریب سے خطاب میں نائب صدر اسحاق جہانگیری نے یہ بیان دیا جسے ایرانی ٹی وی چینل آئی آر آئی این این پر براہ راست نشر کیا گیا۔

نائب صدر اسحاق جہانگیر نے کہا کہ امریکہ تیل کے علاوہ اس کی دیگر برآمدات اور کرنسی کی ترسیل کو متاثر کرنا چاہتا ہے اور اس ساتھ کہا کہ بعض علاقائی ممالک ایران میں غیر ملکی کرنسی کے قلت کے معاملے کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

تیل کی قیمتوں کی سیاست

پیداوار میں کمی کا فیصلہ، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اوپیک نے پیداوار کی حد کم کر دی

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'میں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے درخواست کی ہے کہ وہ تیل کی پیداوار 20 لاکھ بیرل یومیہ کر دیں اور انھوں نے ہامی بھر لی!'

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ ایران اور وینیزویلا میں شورش اور فساد جاری ہے۔'

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی وجہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا امریکی منصوبہ ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں پیداوار بڑھانے کے لیے ہامی بھری تھی لیکن اس کے باوجود قیمتوں میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی خبر رساں ادارے کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی صدر اور سعودی بادشاہ کے مابین گفتگو ہوئی ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ تفیصلات بیان نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ سعودی حکمران نے تیل کی پیداوار بڑھانے کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والے ملک ہے اور اس سال مئی میں تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل ان کی روزانہ کی پیداوار تھی۔

لیکن امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب شاید امریکی صدر کی درخواست ماننے کے لیے راضی نہ ہوں۔

ایک سعودی عہدے دار نے اخبار کو بتایا کہ 'سعودی عرب ایک کروڑ بیرل تیل یومیہ سے زیادہ پیداوار کرنا نہیں پسند کرتا اور اس کے ایسے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے۔ پیداوار بڑھانا کافی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔'

اس سے قبل ماضی میں صدر ٹرمپ اوپیک کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کے دارالحکومت تہران میں مہنگائی کے خلاف گذشتہ ہفتے احتجاج کیا گیا

اپریل میں انھوں نے ٹویٹ کی تھی کہ'تیل کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھائی ہوئی ہیں اور یہ اچھی بات نہیں ہے اور اسے منظور نہیں کیا جائے گا۔'

ادھر اوپیک کے ایک اور اہم رکن ایران نے صدر ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ تنظیم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ سعودی عرب کے بارے میں بھی کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی بولی بول رہے ہیں۔

ہفتے کو ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ ایرانی عوام اور ملک کی حکومت کے درمیان 'معاشی دباؤ' کی آڑ میں دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔'

مئی میں امریکی حکومت کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد ایرانی ریال کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور چند روز قبل تہران کے مرکزی بازار میں تاجروں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ریال کی گرتی ہوئی قیمت کے خلاف احتجاج کیا تھا جو 2012 کے بعد شہر کا سب سے بڑا احتجاج تھا۔

اسی بارے میں