جیل سے بھاگنے کے لیے ہیلز والے جوتے، سرنگ اور ہیلی کاپٹر کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فائد پہلے قیدی نہیں ہیں جو جیل سے انتہائی فلمی انداز میں فرار ہوئے ہیں

اتوار کو شمالی فرانس کی ایک جیل سے فرار ہونے کا واقعہ افسانوی لگتا ہے۔ رضوان فائد جو جیل سے فرار ہوئے تھے وہ مبینہ طور پر ہالی وڈ فلموں کے مداح ہیں۔

فائد نے کہا تھا کہ ان کا رہن سہن ان غنڈوں کی طرح کا ہے جن کا کردار رابرٹ ڈی نرو اور ال پچینو نے نبھایا تھا۔ ان کو 2010 میں چوری کی ناکام کوشش پر گرفتار کیا گیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا تھا اور انھیں 25 سال سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم فائد پہلے قیدی نہیں ہیں جو جیل سے انتہائی فلمی انداز میں فرار ہوئے ہیں۔ مندرجہ ذیل جیل سے ڈرامائی انداز میں فرار ہونے کے کچھ واقعات ہیں۔

ہیلی کاپٹر کے ذریعے فرار

جیل سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فرار ہونے کی کئی بار کوششیں کی گئی ہیں۔ جس میدان میں اتوار کے روز ہیلی کاپٹر لینڈ کیا تھا وہ جیل کا ایک واحد گراؤنڈ ہے جہاں نیٹ نہیں لگا ہوا جس کے باعث ہیلی کاپٹر لینڈ نہیں کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونان میں ایک قیدی جیل سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فرار ہوا لیکن ایک بار نہیں بلکہ دو بار

یونان میں ایک قیدی جیل سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فرار ہوا لیکن ایک بار نہیں بلکہ دو بار۔ پہلی بار 2006 میں دوسری بار 2009 میں۔ وہ قیدی اب تک مفرور ہے۔

ڈرونز بھی جیلوں کی سکیورٹی کے لیے ایک خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فائد کے فرار ہونے کے لیے ابتدائی معلومات ڈرون کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔

جنوبی کیرولائنا میں 2017 میں اغوا کا مجرم جمی کوسی جیل سے تاریں کاٹ کر اور موبائل فون کا استعمال کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ تاریں کاٹنے کا اوزار اور موبائل فون ڈرون کے ذریعے جمی تک پہنچائے گئے تھے۔

چکنائی کا استعمال

الاباما جیل سے 2017 میں 12 قیدی مکھن کا استعمال کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ ان قیدیوں نے باہر جانے والے دروازے کے نمبر پر مکھن لگا کر چھپا دیا اور سکیورٹی گارڈز سمجھے وہ باہر جانے کا نہیں بلکہ اندر ہی کا دروازہ کھول رہے تھے۔

مقامی شیرف نے اقرار کیا کہ مکھن کو استعمال کرنے کا منصوبہ بہت عقلمند سوچ تھی تاہم بہت جلد 12 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

خواکین گوسمان

تاریخ میں سب سے مشہور جیل سے فرار ہونے والے قیدی خواکین گوسمان ہیں۔ وہ منشیات کا کاروبار کرتے تھے اور وہ میکسیکو کے دو ہائی سکیورٹی جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

وہ 2001 میں جیل سے لانڈری باسکٹ میں فرار ہوئے۔ تاہم ان کے اس طریقے سے فرار ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ وہ 13 سال بعد گرفتار ہوئے تھے۔

گوسمان 2015 میں شاور کے نیچے سرنگ کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ شاور کے نیچے ایک میل لمبی سرنگ جس میں روشنی، ہوا کا بندوبست تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کئی ماہ تک مفرور رہنے کے بعد اور ہالی وڈ کے اداکار شون پین کے ساتھ انٹرویو کے بعد گوسمان کو گرفتار کیا گیا

میکسیکو حکام کو مزید شرمندگی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب شاور سے سرنگ کے ذریعے فرار ہونے کا واقعہ سی سی ٹی وی پر ریکارڈ ہوا تھا۔

کئی ماہ تک مفرور رہنے کے بعد اور ہالی وڈ کے اداکار شون پین کے ساتھ انٹرویو کے بعد گوسمان کو گرفتار کیا گیا۔

ہائی ہیلز

برازیل کے بدنام منشیات فروش 39 سالہ رونالڈو سلوا 2012 میں برازیل کی جیل سے اپنی بیگم کے کپڑے پہن کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Brazil Civil Police
Image caption رونالڈو سلوا 2012 میں برازیل کی جیل سے اپنی بیگم کے کپڑے پہن کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے

انھوں نبے شیو کی اور لپ سٹک لگائی لیکن جیل کے قریب ہی ایک بس سٹاپ سے ان کو گرفتار کر لیا گیا کیونکہ ان کو ہیلز میں چلنے میں کافی دقت پیش آ رہی تھی۔

کوریائی ہوڈینی

چوئی گپ بوک 2012 میں جنوبی کوریا کے جیل سے فرار ہوئے۔ وہ یوگا کے ماہر ہیں۔ انھوں نے اپنے جسم پر تیل لگایا اور 15 بائی 45 سینٹی میٹر کھڑکی سے نکلنے میں فرار ہوئے۔ یہ کھڑکی قیدیوں کو کھانا دینے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

تحقیق دانوں کا کہنا تھا کہ 115 پاؤنڈ وزنی اور پانچ فٹ چھ انچ لمبے چوئی گپ بوک ایک منٹ سے کم وقت میں فرار ہوئے۔

50 سالہ چوئی کو چھ دن بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کو ایک ایسے قید خانے میں قید کیا گیا جس کی کھانا دینے کی کھڑکی بہت چھوٹی تھی۔

الکیٹریز سے فرار

شاید جیل سے فرار ہونے کا سب سے مشہور واقعہ سان فرانسسکو میں 1962 میں پیش آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

الکیٹریز اس وقت ملک کا محفوظ ترین جیل تصور کیا جاتا تھا۔ سان فرانسسکو بے پر ایک چٹان پر واقع یہ جیل اتنی محفوظ تصور کیی جاتی تھا کہ جو قیدی دیگر جیلوں سے فرار ہونے کی کوشش کرتے تھے ان کو سزا کے طور پر الکیٹریز بھیجا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انھوں نے اپنے بستر پر نقلی سر رکھے ہوئے تھے

1962 میں معمول کی چیکنگ کے دوران معلوم ہوا کہ دو بھائی جان اینگلن اور کلیرنس اینگلن سیل میں نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنے بستر پر نقلی سر رکھے ہوئے تھے اور وہ ہواداری کے ذریعے جیل سے نکلے اور خود بنائی ہوئی کشتی کے ذریعے فرار ہوئے۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی سمندر میں ڈوب گئے اور اسی لیے ان کی ویب سائٹ پر نہایت مطلوب افراد کی فہرست میں ابھی تک ان دونوں بھائیوں کی تصاویر موجود ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں