تھائی لینڈ کے غار میں پھنسے بچوں کی ذہنی صحت پر کیسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تھائی لینڈ میں بچوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے

تھائی لینڈ کے شمالی علاقے میں نو دن سے پھنسے 12 بچے اور ان کے فٹبال کوچ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اس واقعے نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہوئی ہے۔

امدادی کارکن اب ان امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح سے غار میں پھنسے افراد کو وہاں سے زندہ نکالا جائے جبکہ تھائی فوج نے خبردار کیا ہے کہ غار سے بچوں کی بازیابی میں چار ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

بچوں اور ان کے کوچ کو خوراک اور طبی امداد تو پہنچائی جا چکی ہے لیکن اس آزمائش میں پھنسے ان افراد کی ذہنی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ ابھی کسی کو نہیں پتہ۔

لندن میں بچوں کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر اینڈریا ڈینس کا کہنا ہے کہ اس مختصر مدت میں اس طرح کی صدمے کی صورتحال کا سامنا کرنے پر بچے خوفزدہ، چپکو یا دوسروں کی قربت پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے اور خبطی ہو سکتے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

تھائی لینڈ: ’غار میں پھنسے بچوں کی صحت تاحال اچھی ہے‘

غار میں پھنسے بچوں کو نکالنے کے لیے آپریشن

انھوں نے کہا ہے کہ حقیقت میں یہ بچے اپنی فٹبال ٹیم کی صورت میں ایک برادری کا حصہ ہیں اور اگر ان کی ذہنی صحت کی بات کی جائے اس لحاظ سے وہ تحفظ محسوس کریں گے۔

ورجینیا کی یونیورسٹی آف رچمونڈ کے پروفیسر ڈولنسن آر فورسائتھ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ماضی کے کیسز سے اندازہ ہوتا ہے کہ گروپ خود کو اپنے تک محدود کر لیتا ہے۔ اگر اس طرح کے حادثے میں کوئی بچ سکتا ہے تو یہ وہ گروپ ہو سکتا ہے جو منظم ہو۔

’ہو سکتا ہے کہ کچھ جذبات کے وجہ سے گروپ کے اندر اختلافات پیدا ہوں جس میں کسی کو قصوروار ٹھہرانا، غصہ آنا اور سینیئر جونئیر ہونے کے احساس کی وجہ سے مسائل ہو سکتے ہیں، لیکن اس گروپ کا ماضی ایک فٹبال ٹیم کا ہے تو اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے یہ بچوں کو اکٹھا رکھنے میں مدد دے۔‘

اب کیا کرنا ضروری ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption غار میں پھنسے بچوں کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں

یہ انتہائی غیر ممعولی صورتحال ہے اور ماضی کے واقعات سے بھی زیادہ، جیسا کہ چلی کی کان میں پھنس جانے والے کارکن جو 2010 میں 70 دن تک زیرزمین پھنسے رہے تھے لیکن حالیہ واقعے کے متاثرین میں زیادہ تر بچے ہیں۔

ڈاکٹر ڈینس نے زور دیا کہ اس صورتحال میں اب بڑوں کا اہم کردار ہے کہ وہ اپنی اپنی موجودہ صورتحال میں بچوں کو باہر لانے میں مدد کریں جس میں ان بچوں کے ساتھ پھنسے کوچ، ریسکیو مشن میں شامل غوطہ خور اور طبی عملہ شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ واضح اور ایمانداری سے رابطہ کاری بہت ضروری ہو گی جس سے ان کے ممکنہ صدمے کو کم سے کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر متوقع صورتحال جس کے بارے میں انھیں مطلع نہ کیا گیا ہو، اس سے ان کی ذہنی صحت پر طویل المدتی منفی اثرات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور اس وجہ سے ان بچوں کے ساتھ واضح اور ایمانداری کے ساتھ رابطہ کاری ہونی چاہیے۔

بچوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے احساسات کے بارے میں بات کریں اور اپنے جذبات کو چھپانے سے گریز کریں۔ ان بچوں کا اپنے خاندان کے ساتھ رابطہ بھی ان بچوں کے حوصلے بڑھانے میں مدد دے گا اور اس حوالے سے غار میں ٹیلی فون لائن بچھانے کے حوالے سے کام ہو رہا ہے۔

غار میں روشنی نہ ہونے سے کیا ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ان بچوں کا اپنے خاندان کے ساتھ رابطہ بھی ان بچوں کے حوصلے بڑھانے میں مدد دے گا اور اس حوالے سے غار میں ٹیلی فون لائن بچھانے کے حوالے سے کام ہو رہا ہے

گروپ کا بڑا چیلنج غار کے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے کیونکہ جس جگہ پر وہ پھنسے ہوئے ہیں وہاں پر تاریکی ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفرڈ کے پروفیسر رسل فوسٹر کے مطابق مناسب روشنی نہ ہونے کی صورت میں دن اور رات کے درمیان فرق یا جسمانی گھڑی یا باڈی کلاک یا یومیہ تبدیلی کا تعین کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

تھائی لینڈ: غار میں بچوں تک طبی امداد پہنچا دی گئی

تھائی لینڈ: غار سے بچوں کو نکالنے کے آپشنز کیا ہیں؟

انھوں نے کہا کہ اس کا اثر صرف ان کے سونے کے اوقات پر نہیں پڑے گا بلکہ جسمانی گھڑیئ رویہ، آنتڑیاں کا نظام اور جسم کے دیگر حصے متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم پروفیسر رسل فوسٹر کے خیال میں ریسکیو ٹیموں کو کوشش کرنی چاہیے کہ غار کے اندر روشنی کا انتظام کریں تاکہ دن اور رات کے اوقات کے درمیان فرق کا اندازہ ہو سکے، جیسا کہ چلی میں پھنسے کان کنوں کے لیے کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا ہے کہ غار میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کے بعد دوبارہ معمول کی زندگی میں لانے کے لیے کچھ عرصے تک انھیں کتنی دیر تک روشنی کا سامنا کرنا ہے، اس حوالے سے اوقات کار تریب دینا ہوں گے۔

طویل المدتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/EKATOL
Image caption غار میں پھنسے کوچ اور تصویر میں نظر آنے والے چند بچے تصویر میں دکھائی دے رہے ہیں

گروپ کے غار میں رہنے کے تجربات کے اثرات طویل مدت تک بچوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوں گے۔

بوسٹن یونیورسٹی کے سکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک پروفیسر سینڈور گیلیا اور پروفیسر رابرٹ اے نوکس کا کہنا ہے کہ اس سطح کے صدمے کا سامنا کرنے والے بچوں کو بڑی حد تک خطرہ ہوتا ہے کہ وہ مختصر سے طویل المدت تک رویوں میں تبدیلی کے مسائل کا سامنا کرتے رہیں جس میں مایوسی، ذہنی دباؤ اور صدمے کے بعد کا ذہنی تناؤ شامل ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام بچوں کے رویوں میں تبدیلی پیدا ہو گی لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ گروپ میں شامل ایک تہائی سے نصف تک بچے ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ان میں سے ایک تہائی طویل المدتی مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں، ادویات اور تھیراپی جیسی صحیح مدد کی صورت میں یہ قابل اعلاج ہے۔

لیکن زیر زمین رہنے کی صورت میں سب سے اہم پہلو یہ ہو گا کہ گروپ کے آپس کے اور باہر کی دنیا کے ساتھ رشتے کیسے رہتے ہیں اور یہ ان کی طویل المدتی بحالی کے لیے قابل ذکر کردار ادا کریں گے۔

اسی بارے میں