’گینڈے کے شکاری‘، خود شیر کا شکار بن گئے

تصویر کے کاپی رائٹ SIBUYA GAME RESERVE

جنوبی افریقہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک گیم ریزرو میں شیروں نے گینڈے کے کم از کم دو مشتبہ شکاریوں کو جان سے مارنے کے بعد کھا لیا ہے۔

جنگلات کے تحفظ پر مامور اہلکاروں کو دو، ممکنہ طور پر تین افراد کی باقیات سیبویا ریزرو میں شیروں کے علاقے کے پاس سے ملی ہیں۔

اسی مقام سے ایک ہائی پاوور رائفل اور ایک کلہاڑی بھی ملی ہے۔

ایشیا کے بعض ممالک میں گینڈے کے سینگھوں کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لیے حالیہ سالوں کے دوران افریقہ میں شکار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سیبویا ریزرو کے مالک نک فاکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشتبہ شکاری اتوار کی رات یا پیر کی صبح اس احاطے میں داخل ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے نک فاکس نے بتایا: ’یہ افراد بہت سے شیروں میں پھنس گئے، شیر بہت زیادہ تھے اس لیے انھیں زیادہ وقت نہیں ملا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SIBUYA GAME RESERVE

’ہمیں ان کی تعداد کے بارے میں صحیح طرح سے معلوم نہیں، وہاں ان کا کچھ نہیں بچا۔‘

شکار کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ٹیم وہاں پہنچی تو انھیں شکار کے لیے استعمال ہونے والی رائفل ملی جس پر سائلنسر لگا تھا، ایک بڑی کلہاڑی، تاریں کاٹنے والا آلہ، جو عام طور پر گینڈوں کے شکاری استمعال کرتے ہیں وہاں سے ملے۔

نک فاکس نے مزید بتایا کہ ’ان افراد کی باقیات کو وہاں سے اٹھانے کے لیے بہت سے شیروں کو پہلے بہوش کرنا پڑے گا۔‘

پولیس آس پاس کے علاقوں کا دورہ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ شاید ان مشتبہ شکاریوں میں سے کوئی بچا یا نہیں۔

صرف رواں سال مشرقی کیپ صوبے میں نو گینڈوں کو شکاریوں نے مارا، جبکہ جنوبی افریقہ میں گذشتہ دس سالوں میں سات ہزار سے زائد گینڈے مارے جا چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں