تھائی لینڈ: غار میں دو ہفتوں سے پھنسے بچوں کا پہلی بار والدین سے رابطہ

تھائی بچے تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/EKATOL

تھائی لینڈ کے غار میں دو ہفتے سے پھنسے بچوں نے پہلی بار اپنے والدین سے خط کے ذریعے رابطہ کیا ہے۔

انھوں نے اپنے والدین کو لکھا ہے کہ 'آپ فکر نہ کریں۔۔۔ ہم سب بخیریت ہیں۔'

ان کے خطوط میں کھانے کی درخواست کی گئی ہے، جب کہ ایک بچے نے فرائیڈ چکن کی فرمائش بھی کی ہے۔

ایک خط میں لکھا ہے: 'استاد ہمیں زیادہ ہوم ورک نہ دیں!' جبکہ ٹیم کے 25 سالہ کوچ نے ایک علیحدہ خط میں وہاں پھنسے بچوں کے والدین سے 'معافی' مانگی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

غار میں پھنسے بچے، امدادی کارکنوں کا ’پانی سے مقابلہ‘

غار میں پھنسے بچوں کی ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات

یاد رہے کہ ایک فٹبال ٹیم کے 12 بچے اور ان کے کوچ سیر کے لیے 23 جون کو تھائی لینڈ کے شمالی صوبے کے معروف غاروں میں گئے تھے جہاں وہ اچانک سیلاب کے سبب پھنس کر رہ گئے۔

کوچ اکّاپول چنٹاوونگ نے والدین کو یقین دہانی کراتے ہوئے لکھا: 'تمام بچوں کے پیارے والدین، اب تمام بچے اچھی حالت میں ہیں اور امدادی ٹیم ہمارا اچھا خیال رکھ رہی ہے۔

'میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان کا بہترین خیال رکھوں گا اور آپ سب کی نیک خواہشات کا شکریہ۔'

انھوں نے مزید لکھا: 'میں تمام بچوں کے والدین سے سنجیدگی کے ساتھ معافی مانگتا ہوں۔'

یہ ٹیلی فون لائنز بچھانے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد والدین اور بچوں کے درمیان پہلا رابطہ ہے۔

غار کے حالات کیا ہیں؟

بچوں کے غائب ہونے کے دس دن بعد برطانوی غوطہ خوروں نے ان کا پتہ چلایا۔ وہ غار میں تقریباً چار کلومیٹر اندر پانی کے پاس ایک قدرے اونچی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ THAI NAVY SEALS

اس کے بعد سے تھائی لینڈ اور بین الاقوامی غوطہ خوروں کی ٹیم نے انھیں آکسیجن اور خوراک فراہم کی ہے جبکہ انھیں طبی امداد بھی مہیا کی گئی ہے۔ تاہم جس جگہ وہ پھنسے ہوئے ہیں وہاں آکسیجن کی سطح کم ہو کر 15 فیصد رہ گئی ہے جبکہ عام حالت میں اس کی مقدار 21 فیصد ہوتی ہے۔

دریں اثنا تھائی حکام نے وہاں کامیابی کے ساتھ ہوا کی ایک لائن بحال کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تھائی لینڈ: غار میں پھنسے بچوں کو بچانے والا غوطہ خور ہلاک

تھائی لینڈ: غار میں بچوں تک طبی امداد پہنچا دی گئی

غار میں موجود خطرات اس وقت ابھر کر سامنے آئے جب تھائی لینڈ کی بحریہ کے ایک سابق غوطہ خور جمعے کو بچوں کو آکسیجن سلینڈر پہنچانے کے بعد ہلاک ہو گئے۔

دوسری جانب غار سے باہر فوجی اور عام شہریوں کی جانب سے دن رات بچوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے کی تدابیر جاری ہیں۔ دریں اثنا محکمۂ موسمیات نے اتوار کو شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے جس سے غار میں سیلاب کا مزید خطرہ بڑھ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکام نے پہلے طے کیا تھا کہ بچوں کو موسم برسات کے درمیان وہیں رہنے دیا جائے۔ ایسی صورت میں ان کا وہاں قیام تقریباً چار ماہ رہتا۔

تاہم آکسیجن کی سطح میں مسلسل کمی کے ساتھ ان کو بچانے کے دوسرے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

جمعے کو چیانگ رائی علاقے کے گورنر نے بتایا کہ بچے چل تو سکتے ہیں لیکن ان میں تیر کر محفوظ جگہ تک پہنچنے کی قوت نہیں ہے۔

نارونگسک اوسوتھاناکورن نے کہا کہ زیادہ تر بچوں کی حالت 'معمول پر پہنچ گئی ہے' اور غوطہ خور انھیں مسلسل غوطہ خوری اور سانس لینے کی تکنیک سکھا رہے ہیں۔

اسی دوران باہر سے امدادی کاموں میں شامل افراد نے براہ راست بچوں تک پہنچنے کی کوشش میں غار میں ایک سو سے زیادہ سوراخ کیے ہیں۔

ان میں سے 18 سوراخ حوصلہ افزا ہیں جبکہ سب سے گہرا سوراخ 400 میٹر ہے۔ لیکن نارونگسک نے کہا کہ انھیں یہ یقین نہیں کہ وہ سوراخ ان بچوں تک پہنچ سکتا ہے جو زمین کی سطح سے 600 میٹر نیچے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں