شام: ’بشار الاسد کی بقا کی لڑائی ختم ہونے کو ہے‘

  • جرمی بوون
  • بی بی سی، مشرقِ وسطیٰ مدیر
A shop in the old city of Damascus selling flags of the World Cup finals teams

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

قدیم اندرون شہر کے عیسائی کوارٹر میں تنگ گلیاں لوگوں سے کھچا کچھ بھری ہوئی ہیں۔

دمشق کچھ مختلف لگتا ہے۔ اس شہر کے وسط کو گذشتہ سات سال کی جنگ میں تھوڑا ہی نقصان ہوا ہے جبکہ اس کے مضافاتی علاقے زمین بوس عمارتوں کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

مگر روزمرہ زندگی میں جنگ کا ’ساز‘ ہمیشہ سنائی دیتا رہا۔ مضافاتی علاقوں میں فضائی آور آرٹلری حملوں کی آواز اور باغی فوجیوں کی شیلنگ، دونوں کی آوازیں کبھی بھی زیادہ دور نہ تھیں۔

مگر اس موسمِ بہار میں دمشق کے مضافات میں واقعہ باعی فوجیوں کے اہم ٹھکانے مشرقی غوطہ پر حکومتی افواج کے قبضے کے بعد سے معاملات بدل گئے لگتے ہیں۔

جنگ ابھی بھی لوگوں کے خواب و خیال پر حاوی ہے۔ مگر حقیقی طور پر وہ اب کہیں اور چلی گئی ہے۔ اس وقت جنگ کا مرکز ملک کا جنوبی حصہ ہے، اردن کی سرحد کے قریب اور گولان پہاڑیوں کے پاس یہ لڑائی جاری ہے۔

قدیم اندرون شہر کے عیسائی کوارٹر میں تنگ گلیاں لوگوں سے کھچا کچھ بھری ہوئی ہیں۔ دکانیں اور ریستوران بھرے ہوئے ہیں۔ بازار میں ورلڈ کپ میچوں کے لیے بڑی سکرینیں لگی ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

جنگ ابھی بھی لوگوں کے خواب و خیال پر حاوی ہے مگر حقیقی طور پر وہ اب کہیں اور چلی گئی ہے۔

جب گذشتہ مارچ میں میں یہاں آیا تھا تو میں نے ایک نوجوان لڑکی کا انٹرویو کیا تھا جس کی ان گلیوں میں باغیوں کے داغے گئے موٹر شیل کے دھماکے میں ٹانگ ضائع ہوگئی تھی۔

اور حکومتی فورسز اور ان کے روسی اتحادیوں کی جانب سے مشرقی غوطہ پر کئی گنا زیادہ بھاری گولہ باری کی گئی۔ باغیوں کو نشانہ بنایا گیا مگر وہاں رہنے والے عام شہریوں کی بھی شاید بدقسمتی کم نہ تھی۔

اب سرکاری اجازت حاصل کرکے فوجی نگرانی میں مشرقی غوطہ کا دورہ کرنا ممکن ہے۔ ہر طرف تباہی ہے۔

لڑائی کی فرنٹ لائنز پر تباہی سب سے زیادہ ہے۔ عمارتوں کی کئی منزلوں تک کنکریٹ بلاکس تباہ ہوئے پڑے ہیں، کئی منزلوں تک گولہ باری کے نشان ہیں اور کئی عمارتیں تو آتشزدگی سے ختم ہو چکی ہیں۔

مشرقی غوطہ کا مرکزی جنگجؤ گروہ جیشِ اسلام نے ایک زیرِ زمین متبادل انداز ِ زندگی اپنا لیا تھا۔ انھوں نے کنکریٹ کے تہہ خانوں کو منسلک کرنے کے لیے سرنگیں کھود رکھی تھیں۔ ایک ایسے علاقے میں یہ کام کرنا جو کہ حقیقی طور پر 2011 سے محاصرے میں تھا، اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا ہنر انتہائی شاندار تھا۔

ان میں سے کچھ سرنگیں اتنی کھلی تھیں کہ وہاں سے پر متوسط حجم کی وین گزر سکتی تھی۔ ایک زیرِ زمین ہسپتال مرنے والوں سےبھرا ہوا تھا۔ اب بھی وہ ہسپتال کام کر رہا ہے اور بم سائٹ پر کھیلنے کے دوران زخمی ہونے والے بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

مشرقی غوطہ میں کچھ سرنگیں اتنی کھلی تھیں کہ وہاں سے پر متوسط حجم کی وین گزر سکتی تھی۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

آخر میں جیشِ اسلام اتنی طاقتور نہیں تھی کہ شامی فوجی کی مستقل مزاجی اور روسی ہتھیاروں کا مقابلہ کر سکے۔ گذشتہ کچھ سالوں میں شام میں باغی گروپوں کو غیر ملکی طاقتوں کی حمایت نہیں رہی۔

اس جنگ کے آغاز میں امریکہ، برطانیہ، ترکی، سعودی عرب اور قطر نے مختلف حدود تک باغیوں کو ہتھیار اور تربیت فراہم کی تھی۔ ان باغیوں کا مقصد صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانا تھا۔ مگر جب 2015 میں روس اس جنگ میں حصہ دار بنا تو حالات بالکل تبدیل ہوگئے۔

جن لوگوں نے مشرقی غوطہ میں یہ سرنگیں بنائیں تھیں ان کو توقع تھی کہ وہ جیت جائیں گے۔ اب تو ظاہر ہے کہ وہ غلط تھے مگر ایک وقت وہ بھی تھا جب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شاید وہ ٹھیک ہی سوچتے ہیں۔ اور اب مشرقی غوطہ اور دمشق کے گرد کچھ اور علاقوں کی فتح کے بعد شامی حکومتی فوج نے خوب رفتار پکڑ لی ہے۔

صدر بشار الاسد اور ان کے جرنیلوں پر مغربی ممالک نے پابندیاں تو لگا رکھی ہیں مگر سات سال کی جنگ کے بعد بظاہر یہ لوگ فاتح نظر آتے ہیں۔

مارچ 2011 میں ملک میں بغاوت دمشق کے جنوب میں واقعہ ایک قصبے دیرا سے شروع ہوئی تھی۔ آج یہ قصبہ روس کی حمایت یافتہ حکومتی فوج کے ایک محاذ کا مرکز ہے۔ حکومتی فورسز کی کوشش ہے کہ جنوبی شام سے باغیوں کو مار بھگائیں۔ انھوں نے اس قصبے میں پرچے پھینکوائے ہیں کہ یہ بغاوت اس قصبے سے شروع ہوئی تھی اور اسے یہاں ہی دفن کیا جائے گا۔

یہ مضمون لکھنے کے وقت تک اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تقریباً دو لاکھ ستر ہزار عام شہری اس جنگ کی وجہ سے بےگھر ہو چکے ہیں۔ انھیں اردن یا گولان پہاڑیوں کی طرف تو جانے نہیں دیا گیا۔ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس دونوں نے جانی نقصان کے حوالے سے تنبیہ کر رکھی ہے۔

شامی فوج کا انداز اب واضح ہو گیا ہے۔ شدید عسکری دباؤ، اور پھر ’مفاہمت‘ کے لیے مذاکرات جو کہ حقیقی طور پر ہتھیار ڈالنے کے لیے بات چیت ہوتی ہے۔

شامی جنگ میں بے شمار خون بہا، اس کے شہر تباہ ہوگئے اور آج بھی خاندانوں کو توڑ رہی ہے۔ مگر شاید بشار الاسد کی بقا کی لڑائی ختم ہونے کو ہے۔