ہارون بلور میرے بھائیوں کی طرح تھے: دانیال بلور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption ہارون بلور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 78 سے انتخاب میں حصہ لے رہے تھے

’ہارون بلور تو میرے بھائیوں کی طرح تھے، وہ میرے دوست بھی تھے میں تو اپنے دادا بشیر بلور کو اپنا والد سمجھتا تھا اور ہارون بلور کو اپنا بھائی سمجھتا تھا‘۔

یہ الفاظ ہارون بلور کے بڑے بیٹے دانیال بلور کے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’میرے اور ہارون بلور کے تعلقات بہت دوستانہ تھے، ہمیں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ میرے والد اور میں ان کا بیٹا ہوں، ہم بھائیوں کی طرح تھے‘۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور: خودکش دھماکے میں 20 ہلاکتیں، شہر سوگوار

بشیر بلور نے ہمیشہ طالبان کی مخالفت کی

’ہارون بلور نے تین روز پہلے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے اور انشا اللہ ہم کامیاب ہوں گے تم فکر مند نہیں ہونا‘۔

’اس واقعے سے پہلے ہارون بلور نے میرے دوست کو فون کیا کہ ’تم لوگ کہاں ہو، یہاں کوہاٹی میں بڑا جلسہ ہے تم اِدھر آ جاؤ‘ تو ہم اُدھر روانہ ہو گئِے۔ ہم ابھی جلسہ گاہ نہیں پہنچے تھے کہ راستے میں اطلاع ملی کہ جلسہ گاہ میں دھماکہ ہو گیا ہے‘۔

Image caption میرے اور ہارون بلور کے تعلقات بہت دوستانہ تھے: دانیال بلور

ہارون بلور نے ابتدائی تعلیم سینٹ میریز سکول پشاور میں حاصل کی اور پھر ایڈورڈز کالج میں داخلہ لیا۔ انھوں نے قانون کی تعلیم پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی اور پھر وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔

ہارون بلور نے سنہ 2012 میں عملی سیاست کا آغاز بلدیاتی انتخابات سے کیا۔ انھوں نے پشاور میں ہونے والا بلدیاتی انتخاب جیتا۔ اس کے بعد انھوں نے پارلیمانی سیاست میں متحرک کردار ادا کرنا شروع کیا۔ بشیر احمد بلور کی ہلاکت کے بعد ہارون بلور خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ کے مشیر رہے تھے۔

اس مرتبہ وہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 78 سے انتخاب میں حصہ لے رہے تھے جبکہ ان کے چچا غلام احمد بلور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 31 سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

دانیال بلور نے بتایا کہ ان کے والد ہارون بلور باقی لوگوں سے منفرد تھے، وہ خوش مزاج تھے اور لوگوں کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔

ہارون بلور کے قریبی دوست طلعت احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہارون بلور خاص شخصیت کے مالک تھے اور انھوں نے ایسا اچھا دوست کبھی نہیں دیکھا۔ ہارون بلور لوگوں کے دکھ میں ایسے شامل ہوتے تھے جیسے وہ دکھ ان کا اپنا ہو‘۔

طلعت احسان کے بقول ان دنوں اِن کی زیادہ تر گفتگو انتخابات کے حوالے سے ہوتی تھی اور اس بارے میں تبصرے کیے جاتے کہ 25 جولائی کو کیا نتیجہ آئے گا۔ لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ ’اللہ نے ہارون بلور کے لیے پہلے سے بڑا انعام رکھا ہوا ہے اور وہ تھا شہادت کا گولڈ میڈل جو ہارون بلور کے نصیب میں آیا‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں