ٹرمپ پوتن ملاقات: ’پوتن سے ملاقات میں کوئی برائی نہیں‘

Russia's President Vladimir Putin talks to US President Donald Trump during their bilateral meeting at the G20 summit in Hamburg, Germany, July 7, 2017 تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیر کو ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنما قومی سلامتی اور باہمی تعلقات بہتر بنانے کے امور پر بات کریں گے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں روسی صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو اس ملاقات سے ’بہت کم توقعات ہیں‘۔

سی بی ایس نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ اس ملاقات میں ’کوئی برائی نہیں‘ ہے اور ’کچھ اچھا بھی ہو سکتا ہے۔‘

مزید جانیے کے لیے پڑھیے

’ٹرمپ کے صدر بننے سے روس اور امریکہ کے تعلقات خراب ہوئے ہیں‘

امریکہ ہیکنگ کے ثبوت لائے یا پھر خاموش رہے: روس

روس میں ٹرمپ کی کامیابی پر جشن کیوں؟

امریکہ اور روس میں کس کی فوج میں کتنا دم؟

انھوں نے کہا کہ امریکی صدارتی انتخابات میں مبینہ طور پر ہیکنگ میں ملوث 12 روسیوں پر فرد جرم عائد کیے جانے کے معاملے پر وہ بات کریں لیکن کیا ان افراد کو روس منتقل کیا جا سکتا ہے اس بارے میں انھوں نے ابھی تک نہیں سوچا۔

امریکہ کے محکمۂ انصاف نے چند روز قبل مبینہ طور پر صدارتی انتخابات میں ہیکنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں 12 روسی باشندوں پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

گو کہ روس نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ امریکہ اور روس کے مابین قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

امریکہ کے محکمۂ انصاف کی جانب سے فردِ جرم عائد کرنے کے اعلان کے بعد امریکیوں کا مطالبہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو روسی صدر سے ملاقات منسوخ کرنا چاہیے۔

دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ وہ اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر ٹرمپ کی فن لینڈ آمد سے قبل فن لینڈ میں بھی احتجاج ہوا ہے

انٹرویو میں ٹرمپ نے کیا بتایا

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’ملاقاتوں پر یقین رکھتے ہیں‘ اور شمالی کوریا اور چین کے رہنماؤں سے ملاقاتیں ’بہت اچھی رہی ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ملاقات اچھی چیز ہے اور میں ملاقاتوں پر یقین رکھتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ چیئرمین کم جونگ سے ملاقات بہت اچھی رہی۔ چین کے صدر ملاقات بہت اچھی رہی۔ روس، چین، شمالی کوریا سے ملاقاتوں کے میں حق میں ہوں۔ ان سے کچھ برا تو نہیں ہوا اور کسی حد تک فائدہ ہی ہوا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں یہ نہیں بتا سکتا کہ کیا ہو گا لیکن میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں کیا پوچھوں گا اور ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتجہ نکالتا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ڈیموکریٹک جماعت کے حکام کی مبینہ ہیکنگ پر اوباما انتظامیہ پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ اوباما انتظامیہ کے دور میں ہوا۔ انھوں نے جو کچھ بھی کیا وہ اباما کے دور میں ہوا۔‘

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ڈیموکریٹس کو اپنی ہیکنگ کی اجازت دینے پر خود اپنے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ ان کا دفاع برا تھا اور اس لیے وہ ہیک ہو گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں ’کئی افراد‘ نے بتایا ہے کہ ہیکرز نے رپبلکن جماعت کو بھی نشانہ بنایا ہے لیکن ’ہمارا دفاعی نظام بہت بہتر تھا۔‘ گو کہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔‘

ٹرمپ نے حال ہی کیا کچھ کہا ہے؟

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے پوتن سے ملاقات سے قبل نیٹو کے اجلاس میں شرکت کی اور برطانیہ کا دور کیا۔

برطانیہ کا دورہ کافی متنازع رہا کیونکہ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وزیراعظم ٹریزا مے کے بریگزٹ پلان کے تحت امریکہ ممکنہ طور پر برطانیہ کو بہتر تجارتی معاہدہ نہیں دے سکتا ہے۔

یورپ کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کے سبب ’یورپ اپنا کردار‘ کھو رہا ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے انھیں ’یورپ پر ہرجانہ‘ دائر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اسی بارے میں