ٹرمپ کی جانب سے خود اپنے انٹیلی جنس اداروں کے خلاف روس کا دفاع

Presidents Trump and Putin in Helsinki, 16 June تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی جانب سے مبینہ مداخلت کے الزامات پر روس کا دفاع کیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے خود امریکی انٹیلی جنس اداروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ روس کے پاس امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

صدر پوتن نے بھی کہا کہ روس نے کبھی امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کی۔

دونوں ملکوں کے صدور نے پیر کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں بند کمرے میں دو گھنٹوں تک ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود اپنے انٹیلی جنس اداروں پر اعتبار کرتے ہیں یا روسی صدر پر، تو انھوں نے جواب دیا: 'صدر پوتن کہتے ہیں کہ روس نے مداخلت نہیں کی۔ مجھے بھی اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔'

امریکی انٹیلی جنس اداروں کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ روس نے 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران سرکاری سرپرستی میں سوشل میڈیا پر جعلی خبریں چلا کر اور سائبر حملے کر کے پلڑا ہلیری کلنٹن کے خلاف کرنے کی کوشش کی تھی۔

'شرمناک کارکردگی'

امریکی سیاست دانوں نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے سربراہ پال رائن نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو 'سمجھنا چاہیے کہ روس ہمارا حلیف نہیں ہے۔ روس ہماری بنیادی اقدار کا دشمن ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ روس نے 2016 کے انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

سینیئر رپبلکن رہنما جان میکین نے کہا کہ 'یہ کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے شرمناک ترین کارکردگی ہے۔ اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے کسی آمر کے سامنے خود کو اس حد تک نہیں گرایا۔'

ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما چک شومر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے 'ہمارے دشمنوں کو تقویت دی ہے اور ہمارے اور ہمارے حلیفوں کے دفاع کو کمزور کیا ہے۔'

نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس نے ایک بیان میں کہا کہ انٹیلی جنس اداروں کو کوئی شبہ نہیں کہ روس امریکی جمہوریت کو زک پہنچانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

اسی بارے میں