اسرائیل نے غزہ تک ایندھن کی ترسیل بند کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایندھن کی ترسیل پر پابندی ہے تاہم ادویات اور خوراک کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی

حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی پر غباروں کے ذریعے آتش زنی کے تازہ واقعات کے بعد اسرائیل نے سامان کی ترسیل کے واحد راستے پر پابندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کیرم شلوم کے راستے سے اب اتوار تک ایندھن کی ترسیل ممکن نہیں ہو گی تاہم خوراک اور ادویات کو بھیجنے کی اجازت ہوگی۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اویگدور لائیبرمین کہتے ہیں کہ یہ حماس کی جانب سے ’مسلسل کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں‘ کا جواب ہے۔

حماس نے جس کا غزہ پر کنٹرول ہے، اسرائیل کو ’سنگین نتائج‘ کی تنبیہ کی ہے۔

مزید پڑھیے

اسرائیل کا حماس کے خلاف غزہ پر بڑے حملے کا دعویٰ

اسرائیلی ’جارحیت‘کی تحقیقات کا اعلان

اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی فلسطینی لڑکی عدالت میں

سنیچر کو اسرائیلی فوج نے ساحلی علاقے میں متعدد فضائی حملے کیے جو غزہ کے علاقے سے کی جانے والی سخت بمباری کے جواب میں کیے گئے اور یہ سنہ 2014 کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد سے شدید ترین حملے تھے۔

ان حملوں میں دو فلسطینی ہلاک اور 14 زخمی ہوئے۔ جنوبی اسرائیل کی جانب جب جواب میں 200 راکٹ اور مارٹر گولے برسائے گئے تو چار اسرائیلی بھی زخمی ہوئے۔

اس پرتشدد کارروائی کا اختتام اس وقت ہوا جب حماس اور اسلامی جہاد کے جنگجوؤں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور اس میں مصر نے ثالثی کے فرائض سرانجام دیے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے پتنگوں اور غباروں کے ذریعے اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر ایندھن سے بھرے کنٹینرز اور دھماکہ خیز مواد کے ذریعے حملوں کے نہ رکنے کی صورت میں ہم ’اپنے حملوں کی شدت کو بڑھانے‘ کے لیے تیار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں جنوبی ایران کے سات ہزار ایکڑ کے رقبے پر موجود جنگلات اور زرعی اراضی تباہ ہوئی جس سے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیل نے ماہی گیروں کے لیے بھی سمندری حدود کو کم کر دیا ہے

آتش زنی کے واقعات سرحد کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے دوران شروع ہوئے جس میں ہزاروں فلسطینیوں نے فلسطینی مہاجرین کی اپنے آبائی علاقوں (موجودہ اسرائیل) میں واپسی کے حق کی حمایت کی۔ احتجاج کرنے والوں نے غزہ کے راستے میں اسرائیل اور مصر کی جانب سے کی جانے والی بندش کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

غزہ میں محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائی میں 130 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 15 ہزار زخمی ہوئے۔

انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اسرائیلی فوجی دستوں پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کیں کیونکہ لوگ مظاہرین کے روپ میں اس کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فلسطین میں کام کرنے والی ایک این جی او کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات تباہ کن نتائج کا باعث بنیں گے

پیر کو اسرائیلی طیارے نے حماس کے دو ٹھکانوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب اسرائیل میں غبارے کے ذریعے چار مقامات پر آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔

بعدازاں مسٹر لائیبرمین نے اعلان کیا کہ کیرم شیلوم میں ایندھن کی ترسیل ممکن نہیں ہو گی اور غزہ میں ماہی گیر اب ساحلی علاقے میں چھ میل کے بجائے تین میل تک جا سکیں گے۔

اسرائیل نے حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے عند دن پہلے اس راستے سے ایندھن، خوراک اور کچھ طبی آلات کے علاوہ درآمدات اور برآمدات پر پابندی لگا دی تھی۔

حماس کے ترجمان نے اس بندش کو ’ انسانیت کے خلاف جرم قرار‘ دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں