کیا قطر نے گذشتہ سال ’ایک ارب ڈالر تاوان‘ ادا کیا تھا؟

قطر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2015 میں دسمبر کی 16 تاریخ قطری شاہی خاندان کے لیے ایک بری خبر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اس دن عراق میں شکار کرنے کے غرض سے جانے والے شاہی خاندان کے 28 افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

قطر کے اس وقت بننے والے نئے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کو اغوا ہونے والے افراد کی فہرست میں اپنے دو رشتے داروں کے نام نظر آئے۔

انھوں نے عراق میں قطری سفیر زاید الخیارین کو موبائل پر پیغام دیا: 'جسیم میرا کزن ہے اور خالد میری آنٹی کا شوہر۔ جیسے ہی تمہیں کوئی اطلاع ملے، فوراً مجھے خبر کرنا۔ اللہ تمہیں اپنی امان میں رکھے۔'

اگلے 16 مہینے ان دونوں کی ساری توانائی اس بحران سے نمٹتے ہوئے گزری۔

اس پوری کہانی کا ایک رخ جو سامنے آیا وہ یہ ہے کہ قطر نے ایک ارب ڈالر دے کر اغواکنندگان کو رہا کرایا۔

یہ رقم ان گروہ اور لوگوں کو گئی جنھیں امریکہ کی جانب سے 'دہشت گرد ' قرار دیا گیا ہے۔ ان میں عراق میں موجود 'کتیب حزب اللہ گروپ' شامل ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے امریکی فوجیوں پر حملہ کیا ہے، اور وہ ایران کے پاسداران انقلاب کے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی جن پر امریکہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے، اور حیات تحریر الشمس، جسے ماضی میں النصرہ فرنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا اور شام میں القاعدہ سے منسلک تھی۔

مزید پڑھیے

قطر پر پابندیاں برقرار رہیں گی: سعودی عرب

’قطر کو جب تک ضرورت ہے خوراک بھیجیں گے‘

لیکن اس کہانی میں قطر کی جانب سے پیش کیے گئے دوسرے رخ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ 'دہشت گردوں' کو کوئی رقم نہیں دی گئی ہے اور صرف عراقی حکومت کو پیسے دیے گئے تھے۔ قطری حکومت کے مطابق رقم عراقی حکومت کے سرکاری بینک میں ہے۔

اس کہانی کو سامنے لانے میں بڑا کردار ان پیغامات اور وائس میسجز کا ہے جو قطری سفیر اور قطری وزیر خارجہ کے درمیان ہوئے اور انھیں بی بی سی تک ایک قطر مخالف حکومت نے پہنچایا۔

تو کیا واقعی قطر نے اپنے بندے چھڑانے کے لیے تاریخ میں تاوان کی سب سے بڑی رقم ادا کی؟

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد ماہر معاشیات ہیں اور قطری امیر کے دور کے رشتے دار ہیں۔ وزارت سنبھالنے سے قبل وہ اتنے مشہور نہیں تھے لیکن 35 برس کی عمر میں وزیر خارجہ بننے کے بعد ان کی شہرت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب، عراق میں قطر کے سیفر زاید الخیارین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ قطری خفیہ ایجنسی میں کرنل کے عہدے پر فائز تھے اور وہ 27 برس میں عراق میں پہلے قطری سفیر تعینات ہوئے۔

اس بحران سے قبل عراق میں سفیر کا عہدہ اہم نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن اس کے بعد زاید الخیارین کو اپنا نام بنانے میں مدد ملی۔

اغوا کنندگان بار بار منع کرنے کے باوجود عراق میں تلور کا شکار کرنے گئے تھے۔ وہاں ان کے کیمپ پر اسلحہ بردار ٹرک میں سوار افراد نے دھاوا بولا اور انھیں اغوا کر لیا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے مغویوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ وہ پہلے سمجھے کہ انھیں سنی شدت پسند تنظیم داعش والوں نے اغوا کیا ہے لیکن پھر ایک اغوا کار نے ان کی ایسی تذلیل کی جو صرف شیعہ سنیوں کے خلاف کرتے ہیں۔

اغوا کرنے کے کئی ہفتے تک قطری حکومت اندھیرے میں رہی لیکن پھر مارچ 2016 میں حالات میں کچھ تبدیلی آنا شروع ہوئی۔

حکام کو یہ معلوم ہوا کہ کتیب حزب اللہ اس کارروائی کے پیچھے ہیں اور وہ ایک عراقی شیعہ گروہ ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔

اس گروپ نے تاوان کا مطالبہ کیا جس پر عراقی سفیر نے شیخ محمد کو پیغام بھیجا۔

'میں نے ان کو کہا ہے کہ ہمارے 14 بندے رہا کریں اور ہم مطلوبہ رقم کا نصف انھیں دے دیں گے۔'

اس پیغام میں یہ واضح نہیں تھا کہ مطلوبہ رقم کتنی تھی۔

پانچ دن بعد بتایا گیا کہ اغوا ہونے والے تین افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔

'انھوں نے کہا کہ وہ ہماری نیک نیتی کو جانچنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جلد بازی میں ہیں اور ہر اس معاملے کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔'

اس پیغام کے دو دن بعد عراقی سفیر بغداد میں گرین زون میں گئے جہاں کئی سفارت خانے قائم ہیں اور یہ علاقہ سخت سیکورٹی کے پہرے میں ہوتا ہے۔

عراقی سفیر زاید الخیارین نے وہاں پر اغوا ہونے والوں کا انتظار کیا لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انھوں نے اپنے قطری وزیر خارجہ کو اپنے پیغام میں لکھا۔

'میں اس معاملے کو حل کرانے کے لیے تیسری دفعہ بغداد آیا ہوں لیکن میں کبھی بھی اتنا مایوس نہیں ہوا۔ میں مغویوں کے بغیر یہاں سے نہیں جانا چاہتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مغویوں میں قطر کے وزیر خارجہ کے عزیز بھی شامل تھے

اغوا کار بالآخر پہنچ گئے لیکن اپنے ساتھ ایک یو ایس بی لے کر آئے جس میں مغویوں میں سے ایک کی ویڈیو تھی۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد نے موبائل میسج پر معلوم کیا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اغواکاروں کے پاس باقی لوگ بھی ہیں اور ساتھ ساتھ کہا کہ اس ویڈیو کو حذف کر دیا جائے۔

عراق میں قطری سفیر نے بھی اس بات کی تائید کی اور کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ مغویوں کے خاندان تک یہ ویڈیو جائے۔'

مغویوں کو علیحدہ کر دیا گیا تھا اور ان کی تقسیم اس طرح کی گئی تھی کہ وہ جو شاہی خاندان کے افراد تھے انھیں زیر زمین کمروں میں رکھا گیا تھا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں آتی تھی اور وہ جو شاہی خاندان سے نہیں تھے یا قطری نہیں تھے، انھیں دوسرے مقام پر رکھا گیا اور ان سے بہتر برتاؤ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تلور کے شکاری خود شکار ہو گئے

قطری حکومت کے ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ شاہی خاندان کے افراد کو مسلسل حرکت میں رکھا گیا اور ہر دوسرے تیسرے دن ان کو مختلف جگہوں پر لے جایا جاتا رہا۔ ان تمام افراد کو پڑھنے کے لیے ایک ہی قرآن دیا گیا تھا۔ 16 مہینے کی طویل قید میں ان افراد کو کوئی خبر نہیں تھی کہ باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔

اگر صرف رقم کی حد تک بات ہوتی تو قطریوں کو اتنی مشکلات نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان کے پاس کافی دولت ہے۔ لیکن بات اس سے آگے بڑھتی چلی گئی۔

بی بی سی کو دیے جانے والے ٹیکسٹ میسج اور وائس میسج میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اغوا کرنے والوں کے مطالبات بڑھتے چلے گئے۔ ایک مطالبہ تھا کہ قطر سعودی حکومت کی جانب سے یمن میں قائم فوجی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لے۔ ایک اور مطالبہ تھا کہ قطر شام میں باغیوں کی حراست میں موجود ایرانی فوجیوں کی رہائی کرانے میں مدد کرے۔ اور ایک بار پھر رقم کے مطالبات کیے گئے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک نیا مطالبہ اغواکاروں کی جانب سے آیا کہ انھیں چوری چھپے مزید رقم ادا کی جائے جو مرکزی تاوان کی رقم کے علاوہ ہو۔

مطالبات کے لیے کی جانے والی ایک گفتگو میں کتیب حزب اللہ کے ممبر ابو محمد نے قطری سفیر زاید الخیارین سے کہا کہ انھیں ایک کروڑ ڈالر دیے جائیں جس کی خبر انھوں نے وزیر خارجہ شیخ محمد کو دی۔

'ابو محمد نے مجھ سے ایک کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا جس پر میں نے کہا کہ میں تم کو یہ رقم بالکل نہیں دے رہا جب تک تم میرے تمام بندے واپس نہ کرو۔ میں نے اس کو حوصلہ دلانے کے لیے مزید وعدہ کیا کہ میں اسے لبنان میں اپارٹمنٹ بھی دلا دوں گا۔'

قطری سفیر نے مطالبات کی گفتگو کرنے کے لیے دو عراقی سنی افراد کو رکھا تھا۔ ان دونوں نے قطری وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور ان سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر رقم اور پانچ رولیکس گھڑیوں کا مطالبہ کیا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مطالبات اغواکاروں کو دینے کے لیے تھے یا ان دونوں افراد کے اپنے استعمال کے لیے۔

اپریل 2016 میں فون ریکارڈز میں ایک اور نام سامنے آیا۔ وہ تھا پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کا جو کتیب حزب اللہ کے ایرانی سرپرست تھے۔

اس وقت تک مطالبے کی رقم بڑھ کر ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی اور اس کے باوجود اغوا کر مزید رقم مانگ رہے تھے۔

اس پر زاید الخیارین نے شیخ محمد کو پیغام دیا کہ 'سلیمانی اغواکاروں سے ملا ہے اور ان پر زور دے رہا ہے کہ ایک ارب ڈالر وصول کر لیں۔ لیکن وہ راضی نہیں ہوئے ہیں۔ سلیمانی دوبارہ جائے گا۔'

سفیر نے ایک بار پھر پیغام دیا کہ ایرانی جنرل اغواکاروں سے 'بہت ناراض' ہے۔

چند ماہ گزرنے کے بعد نومبر 2016 میں مذاکرات میں ایک نیا موڑ آیا جب جنرل سلیمانی نے قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں جاری جنگ میں مدد کریں۔

اُس وقت شام میں دو قصبے تھے جو کہ سنی اکثریتی تھے اور باغیوں کے قبضے میں تھے لیکن شامی حکومت نے اسے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ دوسری جانب دو شیعہ قصبے جو کہ حکومت کے حامی تھے، انھیں قطری حمایت سے چلنے والے سلفی گروپ نے گھیرا ہوا تھا۔

قطری سفیر کے مطابق جنرل سلیمانی نے کتیب حزب اللہ کو کہا کہ اگر شیعہ قصبے اس معاہدے کے تحت بچ گئے تو یہ بہت شرمناک ہو گا۔

'حزب اللہ لبنان اور کتیب حزب اللہ عراق، ان کو پیسے چاہییں اور یہ موقع ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ یہ سب ختم ہونے والا ہے اور وہ سب چور ہیں۔'

جس حکومت نے بی بی سی کو یہ مواد دیا ہے، وہ قطری حکومت کی مخالف ہے اور اس کے مطابق وزیر خارجہ شیخ محمد اور قطری سفیر زاید الخیارین کے درمیان ہونے والی گفتگو میں یہ طے ہوا کہ ایک ارب ڈالر برائے تاوان دیے جائیں گے جبکہ ڈیڑھ کروڑ ڈالر مزید دیے جائیں گے۔

ہو سکتا ہے کہ چار قصبوں کے حوالے سے کیے جانے والا معاہدہ اغوا کنندگان کی رہائی کے لیے ہو اور ڈیڑھ کروڑ ڈالر اغواکاروں کے لیے ہو۔

قطری حکام نے تصدیق کی کہ بی بی سی کے پاس موجود موبائل میسج اور وائس میل حقیقت پر مبنی ہیں لیکن انھیں مخصوص انداز میں مرتب کیا گیا ہے تاکہ وہ غلط تاثر دیں۔

اغواکنندگان کا یہ بحران اپریل 2017 اختتام پذیر ہوا۔

قطری ائیر لائنز کا ایک طیارہ بغداد رقم لے کر گیا اور اغوا ہونے والے افراد کو وطن واپس لے آیا۔

اس بات کی قطری حکام نے تصدیق کی ہے لیکن قطری فضائی کمپنی سے کوئی جواب نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY
Image caption ایران میں پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی (درمیان میں نظر آرہے ہیں)

واضح رہے کہ قطر اس وقت اپنے ہمسایہ ممالک سے ان کی فضائی حدود استعمال کرنے کے حوالے سے تنازع میں ہے اور قطر کا جہاز ان 'دہشت گردوں' کو تاوان ادا کرنے کے لیے استعمال ہوا ہو تو یہ قانونی معاملہ بن سکتا ہے، اور بہت ممکن ہے کہ اسی وجہ سے بی بی سی کو یہ معلومات دی گئی ہوں۔

ہمارے ذرائع نے بتایا ہے کہ بغداد لے جانے والی رقم ایک ارب ڈالر برائے تاوان اور ڈیڑھ کروڑ ڈالر اغواکاروں کے لیے مزید رقم کے طور پر لے جائی گئی تھی اور اس کا زیادہ حصہ کتیب حزب اللہ کے لیے تھا۔

قطری حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ تصدیق کی کہ بڑی تعداد میں نقد رقم بھیجی گئی ہے لیکن انھوں نے اصرار کیا کہ وہ عراقی حکومت کے لیے تھی، نہ کہ 'دہشت گردوں' کے لیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ رقم 'اقتصادی ترقی'اور 'سکیورٹی تعاون' کے مقاصد کے لیے دی گئی۔

قطریوں کو لگا کہ انھوں نے معاہدہ عراق کے وزیر داخلہ سے کیا ہے۔ وہ ایئرپورٹ پر قطری جہاز کا انتظار کر رہے تھے لیکن جہاز اترنے کے بعد مسلح افراد جو بغیر کسی نشان والی فوجی یونیفارم میں ملبوس تھے، فوراً آئے اور رقم والے بیگ اٹھا کر لے گئے۔

قطری حکومت کے اہلکار نے مجھے بتایا کہ 'ہمیں نہیں علم تھا کہ وہ کون لوگ تھے اور عراقی وزیر خارجہ کو دھکہ دے کرہٹا دیا گیا تھا۔'

قطری حکام نے شک ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے یہ کارروائی عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے کہنے پر کی گئی ہو۔ قطر کے وزیر اعظم نے اپنے ہم منصب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں ناکامی ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption قطری ائیر لائنز نے اس پر بات کرنے سے انکار کر دیا

بعد میں عراقی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ رقم ان کے پاس ہے۔

اگرچہ رقم پکڑی گئی تھی، چاروں قصبوں کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مغویوں کو رہا کر دیا گیا۔

اس موقعے پر قطر کے انٹیلیجنس افسر جاسم بن فہف الثانی موجود تھے۔

ابتدا میں '46' بسوں میں سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو شام کے دو قصبوں سے اٹھایا گیا۔

جاسم بن فہد نے لکھا کہ 'ہم نے دو دن کے دوران پانچ ہزار افراد کو اٹھایا۔'

'اب ہم 3000 کو لے کر جا رہے ہیں۔۔۔۔ ہم نہیں چاہتے کہ دھماکے ہوں۔'

چار ن کے بعد شیعہ دیہات کو خالی کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی

شیخ محمد نے لکھا کہ '3000 شیعہ تبادلے کے مقام پر ہیں۔۔۔ جب ہم نے اپنے لوگوں کو دیکھ لیا، میں بسوں کو جانے دوں گا۔'

سفیر نے کہا کہ دوسری جانب اس پر تشویش تھی۔

'وہ بہت خوفزدہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر شیعہ لوگوں کے گئے بغیر دن نکل آیا تو وہ ہمارے لوگوں کو پھر واپس لے لیں گے۔'

21 اپریل 2017 کو قطری مغویوں کو رہا کر دیا گیا۔

سفیر کے مطابق وہ سب ٹھیک تھے تاہم ان سب کو وزن تقریباً آدھا رہ گیا تھا۔ 'سفیر نے ان کے گھر جانے کے لیے جہاز کا انتظام کیا تاکہ وہ بریانی کھائیں، سفید چاول اور کبسہ کھائیں۔'

وہ لوگ اس خوراک کو ترس گئے تھے۔

16 ماہ کے بعد جب انھیں دوحہ کے ایئر پورٹ پر لے جایا گیا تو ٹی وی سکرینز پر دکھائی جانے والی تصاویر میں وہ ہلکا سا مسکرا رہے تھے۔

صوتی ای میلز اور پیغامات سے پتہ چلتا ہے کہ' قطر نے دہشت گردوں کو پیسے دے تھے۔'

جیسے ہی یہ رقم بغداد گئی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر اقتصادی پابندی کا آغاز کر دیا۔

ان ممالک نے قطر پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ دہشت گردی کی مالی مدد کرنے کے حوالے سے اس کی طویل تاریخ ہے۔

قطر کے مخالف ذرائع نے سفیر خیارین کی جانب سے ایک صوتی ای میل کی جانب اشارہ کیا جس میں وہ کتیب حزب اللہ کے لیڈر کو بتاتے ہیں کہ 'تمھیں قطر پر اعتبار کرنا چاہیے، تمھیں معلوم ہے کہ قطر نے کیا کیا ہے۔ وہاں کے امیر کے والد نے کیا کیا۔۔۔۔ انھوں نے بہت سی چیزیں کیں، اور 50 ملین ادا کیے، اور جنوب کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کیا۔ اور وہ پہلے تھے جنھوں نے یہاں کا دورہ کیا۔'

ہمارے ذرائع کے مطابق اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑے امیر کی جانب سے کتیب حزب اللہ کو پانچ کروڑ ڈالر کی یہ ایک تاریخی ادائیگی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے قطر کے امیر شیخ التمیم بن حماد پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گروں کے خلاف کارروائی کریں

قطری حکام کا کہنا ہے کہ اس سے عمومی طور پر شیعوں کی حمایت کو ظاہر ہوتی ہے۔

کیا قطر پر پابندیاں جاری رہیں گی؟ اس کا انحصار اس پر ہے کہ 'دہشت گردوں کی مالی معاونت' کی بحث جیتنے والے پر ہے

یہ کچھ حد یہ اس بات پر بھی جھگڑا ہے کہ اس بات پر یقین کس پر کریں کہ عراق کے ریگستان میں اغوا کا معاملہ ختم کیسے ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جو رقم بغداد بھجوائی گئی وہ عراق کے مرکزی بینک میں ہے۔

ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ عراق کی حکومت خود مغویوں سے متعلق معاہدے میں شامل ہوئی اور اس نے پیسے تقسیم کیے۔

فی الحال یہ راز کہ کیا قطر نے اپنی تاریخ میں سب سے بڑی تاوان کی رقم دی تھی حل نہیں ہو سکا۔

جولائی 2018 کو جب بی بی سی کی ویب سائٹ پر یہ تحریر شائع ہوئی تو قطر کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ قطر کے امیر کے والد کی جانب سے پانچ کروڑ انسانی ہمدردی کی بنا پر بطور امداد دیے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قطر کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ کسی مذہب یا نسل کی تفریق کے بغیر لوگوں کی ہمدردی کی بنا پر مدد کرتا ہے۔ اس کے فیصلوں میں کسی کے سنی یا شیعہ ہونے کے عنصر کی کوئی اہمیت نہیں۔

اسی بارے میں