غاروں میں پھنس جانے والے بچے،’معجزانہ لمحات تھے جب غوطہ خوروں نے ہمیں ڈھونڈ نکالا‘

تھائی لینڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غار سے نکلنے کے بعد ہسپتال میں کچھ دن گزار کر یہ بچے اپنے کھیل کے لباس میں پریس کانفنرس کے لیے آئے

شمالی تھائی لینڈ کے غاروں میں پھنسے 12 بچوں نے بحفاظت باہر نکلنے کے بعد پہلی بار میڈیا سے بات چیت میں کہا ہے کہ وہ 'لمحات معجزانہ' جب غوطہ خوروں نے ان کا پتہ لگایا۔

ادلسام کی عمر 14 برس ہے وہ انھیں بچوں میں شامل تھے۔

انگریزی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ جب برطانوی غوطہ خوروں نے انھیں بچایا تو وہ فقط انھیں ہیلو ہی کہہ سکے۔

یہ لڑکے اپنے کوچ کے ہمراہ تھیم لوانگ کے غاروں میں دو ہفتے سے زائد عرصے تک محصور رہے۔

انھوں نے بدھ کی صبح ہسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد گھر کی راہ لی۔

یہ تمام لڑکے اس موقعے پر وائلڈ بییئر نامی فٹ بال کلب کی جونئیر ٹیم کی کٹ پہنے چیانگ رائی میں پریس کانفرنس کے لیے آئے۔

وہاں موجود سٹیج کو پچ کی شکل دی گئی تھی اور اس پر آویزاں بینروں پر لکھا تھا کہ ’وائلڈ بیئرز کو گھر لاتے ہوئے۔‘

یہ بچے تھائی لینڈ کے ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ موجود تھے جنھوں نے انھیں بچانے میں مدد فراہم کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تھائی لینڈ کے غاروں میں 12 بچے کوچ کے ہمراہ دو ہفتے کے زیادہ عرصے تک پھنسے رہے

ایک بچے نے بتایا کہ انھوں نے کیسے غار میں موجود پانی پر گزارہ کیا۔’ پانی صاف ہے، صرف پانی خوراک نہیں۔‘

11 سالہ ٹائٹن نے کہا کہ میں نے کوشش کی کہ میں کھانے کے بارے میں نہ سوچوں کیونکہ اس سے مجھے اور زیادہ بھوک لگتی تھی۔‘

یہ بچے 23 جون کو لاپتہ ہوئے تھے اور دو جولائی کو بازیاب ہوئے تھے۔

نیوی سیلز نے انھیں خوراک اور دیگر اشیا پہنچائی تھیں۔

لڑکوں نے بتایا کہ کیسے ایک ہفتے کے دوران ان کے اور امدادی کارکنوں کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا تھا۔

ٹائٹن کہتے ہیں کہ نیوی سیل بیٹوئے تو غار کے بادشاہ تھے جو ہمیشہ شطرنج کی بازی جیت جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/ROYAL THAI NAVY
Image caption حتمی ریسکیو آپریشن میں تین دن لگے

ٹیم کے کوچ کیپول چانٹاونگ نے بحریہ کے اس اہلکار کو بطور خاص خراج تحسین پیش کیا جنھوں نے اس آپریشن میں اپنی جان کھو دی تھی۔

’ہم بہت متاثر ہیں اس بات سے کہ سمان نے اپنی زندگی ہمیں بچانے کے لیے قربان کر دی، صرف اس لیے کہ ہم یہاں سے جا کر اپنی زندگی گزار سکیں۔ ہم نے جب یہ خبر سنی تو ہمیں دھچکہ لگا۔ ہم بہت اداس تھے۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے ۔۔۔ ہم ان کے خاندان کے غم کا سبب بنے ہیں۔‘

کچھ لڑکوں نے کہا کہ اس تجربے سے انھوں نے سبق سیکھا ہے۔

ایک لڑکے کا کہنا تھا کہ میں نے عہد کیا ہے کہ اب زندگی میں مزید محتاط ہوں گا اور دوسرے نے کہا کہ میں نے یہ سیکھا ہے کہ مزید صبر کروں گا اور مضبوط رہوں گا۔

ان لڑکوں کو کچھ عرصے کے لیے بودھ بھکشو کی نگرانی میں دیا جائے گا کیونکہ تھائی لینڈ میں یہ روایت ہے کہ اگر کوئی مرد کسی بری صورتحال کا شکار ہو تو انھیں بودھ بھکشو کے پاس بھیجا جاتا ہے۔

چیانگ رائے پراکون پراتسوکن کے صوبائی گورنر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑکوں کا سرکاری میڈیا کو دیے جانے والا انٹرویو ہے اب اس کے بعد وہ میڈیا سے مزید بات نہیں کریں گے۔

وہاں موجود ایک نفسیاتی معالج نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بغیر کسی انتشار کے لڑکے اپنی نارمل زندگی جییں۔

وہ وہاں کیسے پہنچے؟

11 سے 16 سال کی عمر کے 12 بچے اور ان کے 25 سالہ کوچ 23 جون کو لاپتہ ہو گئے تھے۔ کہا گیا کہ وہ شمالی صوبے چیانگ رائی کے غاروں میں داخل ہوئے تھے لیکن اچانک بارش کے سبب وہ اسی میں پھنس کر رہ گئے۔

وہ خشک حالت میں غاروں میں داخل ہوئے تھے لیکن پانی اور کیچڑ نے ان کا راستہ بند کر دیا جس کے سبب وہ تاریکی میں گھر گئے۔

ان کا پتہ کیسے چلا؟

لاپتہ ہونے کے نو دنوں بعد پیر کی شام دو برطانوی غوطہ خور ان تک پہنچے۔

بچے غار کے دہانے سے تقریباً چار کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ذیلی غار کے اندر ایک چٹان پر بیٹھے ملے۔

ان کے ملنے کی پہلی ویڈیو تھائی بحریہ سیل نے فیس بک پر پوسٹ کی تھی جس میں بچوں کو پانی کے کنارے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا گیا۔

ان بچوں نے غوطہ خوروں کو بتایا کہ وہ سب زندہ ہیں اور بہت بھوکے ہیں۔

تھیم لوانگ کے غار عام طور پر برسات میں پانی سے بھر جاتے ہیں اور وہاں ستمبر اور اکتوبر تک پانی رہتا ہے۔

وہ باہر کیسے نکلے؟

ریسکیو آپریشن میں شامل ماہرین لڑکوں اور ان کے کوچ کے ہمراہ موجود رہے۔

ہر لڑکے کے ساتھ ایک ایک غوطہ خور تھا جس نے ان کو آکسیجن پہنچانے کے لیے سلینڈر اٹھا رکھا تھا۔ لڑکوں کے چہرے پر فل ماسک تھا جو کہ نئے نئے غوطہ خوروں کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے غوطہ خوروں میں سے ایک نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکوں کو بیہوشی طاری کرنے والی ادویات دی گئی تھیں تاکہ وہ اندھیرے اور پانی کے اندر سے گزرتے ہوئے خوف کا شکار نہ ہو جائیں۔

ریسکیو آپریشن تین دن تک تین مرحلوں میں کیا گیا۔

آپریشن کی کامیابی کے بعد کوچ اور لڑکوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھیں طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی گئی۔

اس دن 17 سالہ پیراپاٹ سومپیانگجائی کی سالگرہ تھی، اور لڑکے اسے منانے کے لیے اپنے ساتھ کچھ سنیکس بھی لے کر آئے تھے جس نے بعد غار میں ان کے کھانے کی ضرورت کو پورا کیا۔

معاون کوچ کاپول چانٹاونگ سب سے خستہ حالت میں ملے کیوںکہ انھوں نے کچھ بھی کھانے سے انکار کر دیا تھا اور اپنے حصے کی خوراک بھی لڑکوں کو دے دیتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں