مبینہ روسی ایجنٹ نے ’ملازمت کے لیے سیکس کی پیشکش کی‘

ماریا بوتینا تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/ MARIA BUTINA
Image caption بوتینا اگست 2016 میں ایف-1 سٹوڈنٹ ویزہ پر امریکہ آئی تھیں

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مبینہ روسی ایجنٹ نے امریکی سپیشل انٹرسٹ آرگنائزیشن میں ملازمت کے لیے سیکس کی پیشکش کی تھی، اسی ادارے کو اس نے نشانہ بھی بنایا تھا.

وفاقی جج نے فیصلہ سنایا ہے کہ ماریا بوتینا کے روسی خفیہ اداروں کے ساتھ تعلقات کے باعث ان کے فرار ہونے کا خطرہ ہے، اس لیے انھیں مقدمے تک حراست میں رکھا جائے گا۔

ماریا بوتینا کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے ساتھ کئی ماہ سے تعاون کر رہی تھیں۔

اس الزام کا تعلق اس تفتیش سے نہیں ہے جو سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں مبینہ مداخلت کے بارے میں جاری ہے۔

بوتینا واشگٹن میں مقیم تھیں اور انھیں اتوار کو گرفتار کیا گیا تھا اور بدھ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/ MARIA BUTINA
Image caption بوتینا پر خود کو امریکی حکومت کے پاس غیر ملکی ایجنٹ رجسٹر نہ کروانے اور امریکی حکومت کے خلاف سازش کرنے کا الزام ہے

امریکی مجسٹریٹ جج ڈیبوراہ رابن سن نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حکومت یہ ثابت کر چکی ہے کہ انھیں رہا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ٹرائل کے لیے ان کے دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔

بوتینا پر خود کو امریکی حکومت کے پاس غیر ملکی ایجنٹ رجسٹر نہ کروانے اور امریکی حکومت کے خلاف سازش کرنے کا الزام ہے۔ ان پر جاسوسی کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔

بدھ کو روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ کہ بوتینا کی گرفتاری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات کے ’مثبت نتائج‘ کو کمزور کرنے کے لیے عمل میں لائی گئی۔

خیال رہے کہ ان کی گرفتاری کا اعلان اس وقت ہوا جب امریکی صدر ٹرمپ روسی صدر ولادی میر پوتن سے ہیلسنکی میں ملاقات کے بعد روسی اقدامات کا دفاع کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MARIA BUTINA/FACEBOOK

تازہ الزامات کیا ہیں؟

بدھ کو عدالتی کارروائی کے دوران کہا گیا ہے کہ بوتینا ایک 56 سالہ امریکی شخص کے ساتھ رہتی تھیں جن کا نام تو ظاہر نہیں کیا گیا تاہم انھیں دستاویزات میں یو ایس پرسن1 کہا گیا ہے، جن کے ساتھ ان کے ’نجی تعلقات‘ تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق: ’لیکن ان تعلقات کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ملتا ہے کیونکہ بوتینا بظاہر اسے اپنی سرگرمیوں کے لیے ضروری پہلو کے طور پر دیکھتی تھیں۔‘

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنی وابستگی کو سنجیدگی سے لیتی تھیں کیونکہ ’کم از کم ایک موقع پر بوتینا نے یو ایس پرسن1 کے علاوہ کسی اور شخص کو سپیشل انٹرسٹ آرگنائزیشن میں ملازمت کے بدلے میں سیکس کی پیشکش کی تھی۔‘

دستاویزات میں کسی تنظیم کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن بوتینا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نیشنل رائفل ایسوسی ایشن (این آر اے) کی تقریبات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/ MARIA BUTINA

بوتینا اگست 2016 میں ایف-1 سٹوڈنٹ ویزہ پر امریکہ آئیں۔ ان کے لنکڈ ان پیچ کے مطابق انھوں نے حال ہی میں امریکن یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

ایک موقع پر صدارتی انتخاب کے دوران بوتینا اور روسی اہلکار نے مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پوتن کے درمیان ملاقات کرانے کی ناکام کوشش کی تھی۔

امریکی میڈیا کے مطابق وہ روسی اہلکار بظاہر صدر پوتن کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق روسی سینیٹر اور روس کی سینٹرل بینک کے نائب گورنر الیکزینڈر ٹورشن تھے۔

انھیں اپریل میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پابندیوں کی زد میں لایا گیا تھا۔

اسی بارے میں