غیر متوقع شراکت دار: چین اور اسرائیل کے گہرے ہوتے تجارتی روابط

چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی صدر شی جن پنگ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کئی مواقع پر تعلقات کے فروغ پر زور دیا

چین دنیا کا دوسرا بڑا اور سب سے زیادہ برآمدات کرنے والا ملک ہے۔ جبکہ اسرائیل مشرق وسطی میں ایک چھوٹی سے زمینی پٹی ہے۔ یہ برآمدات کرنے والی عالمی ممالک میں 45 ویں نمبر پر آتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل امریکہ کا پکا اتحادی ہے لیکن حیران کن طور پر چین اور اسرائیل میں غیر متوقع تجارتی شراکت داری بڑھی ہے۔

چین اور امریکہ کی حالیہ تجارتی لڑائی کے بعد آپ توقع کرتے ہیں کہ شاید اسرائیل امریکہ کا ساتھ دے گا۔

تاہم کئی لوگ یہ نہیں جانتے کہ اسرائیل میں چین کی سرمایہ کاری بڑھتی جا رہی ہے اور کئی اسرائیلی کمپنیاں چین کی مارکیٹ میں جگہ بنا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سرمایہ اور چین اور امریکی حکومتیں

کیا چین ایران کو اقتصادی بحران سے نکال سکتا ہے؟

جہاں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ چینی برآمدات پر محصولات عائد کیے جا رہے ہیں وہیں اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی صدر بنیامن نیتن یاہو اپنے ملک کی کمپنیوں کو چینی سرمایہ کاری قبول کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

ایک چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق سنہ 2016 میں اسرائیل کی چین میں براہِ راست سرمایہ کاری تین گنا اضافے کے ساتھ 16 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔

اسی اثنا میں اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے پیش گوئی کی ہے کہ چین اسرائیل میں سرمایہ کاری کے معاملے میں امریکہ پر سبقت لے جائے گا۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کو کیا چیز قریب لائی اور کیا اسرائیلی کمپنیوں کو محتاط ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی کمپنیاں نہ صرف اسرائیلی کمپنیوں کو خرید رہی ہیں بلکہ وہ اسرائیلی تعمیراتی کام میں بھی حصہ لے رہی ہی

گذشتہ دو دہائیوں میں اسرائیلی کمپنیوں نے خود کو ٹیکنالوجی کے قابلِ ذکر گڑھ کے طور پر منوایا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیاں بھی اس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا چاہتی ہیں جبکہ اسرائیلی کمپنیاں چین کی بڑی مارکیٹ تک رسائی چاہتی ہیں۔

اسرائیل میں موبائل کی اشتہاری کمپنی ’ٹیپٹیکا‘ کے چیف ایگزیکٹو ہگائی تال کا کہنا ہے کہ چینی اسرائیل کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فائدہ دے رہے ہیں تاکہ ان کی معیشت کو توانائی ملے کیونکہ اسرائیل نے ایجادات کے گڑھ کے طور پر اپنی پہچان بنائی ہے۔ ‘

’چین چاہتا ہے کہ وہ ان سے زیادہ سے زیادہ سیکھ کر ایجادات کے معاملے میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیل نے گذشتہ دو دہائیوں میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اچھا مقام بنایا ہے

اسرائیلی اور چینی کمپنیوں کو ایک ساتھ لانے کے لیے ہر سال کئی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ جیسے کہ ’سیلیکون ڈریگن اسرائیلی‘ جو تل ایبب میں ہوتا ہے اور چائنا اسرائیل اینوویشن سمٹ جو رواں ماہ کے آغاز میں گوانگڈانگ میں ہوا۔

بینجگ کی گیلے یونیورسٹی میں تجارت سے متعلق تعلیم دینے والے اسرائیلی ڈینیئل گیلیلے کا کہنا ہے کہ ’چین کے تعلیمی نظام میں اطاعت اور اپنے سے بڑوں کی فرمانبرداری پر زور دیا جاتا ہے جبکہ اسرائیل کے تعلیمی نظام اور فوج میں بھی نئے خیالات کے بارے میں غور کرنے اور غیر یقینی حالات میں مسائل کے حل سوچنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔`

’چینیوں کو سمجھ آ گئی ہے کہ انہیں اپنی معیشت کے لیے اسرائیلیوں کی تخلیقی صلاحیت چاہیے۔ ‘

جہاں ایک طرف چینی اور اسرائیلی کمپنیاں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھا کر خوش ہیں وہیں کچھ مبصرین بے چین بھی ہیں۔

پینلسوینیا میں قائم سائبر سکیورٹی کمپنی کے بانی جیسن مکنیو کا کہنا ہے کہ ’میری نظر میں اسرائیل کے لیے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ چین دوسرے ممالک کے دانشورانہ املاک کے قوانین کا احترام نہ کرنے کے لیے بدنام ہے۔ اس لیے اسرائیل کو بہت محتاط رہنا ہوگا کہ وہ چین کے لیے کس قسم کی اشیا بنا رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مبصرین کو خدشہ ہے کہ بالآخر یہ ٹیکنالوجی ہتھیار سازی کے لیے چینی فوج کے ہاتھوں میں چلی جائے گی

کارنیگی میلن یونیرسٹی کے ہینز کالج میں معیشت اور عوامی پالیسی کہ پروفیسر لی برینسٹیٹر کا کہنا ہے کہ امریکہ میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی بالآخر چینی ہاتھوں میں چلی جائے گی۔

’پینٹا گون کو یہ تشویش ہے کہ چین میں شہری سرمایہ کاری اور لائسنس کے معاہدوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی جو قابلیت حاصل کر لی گئی ہے اس کے باعث چینی ہتھیاروں کی ایک نئی نسل تیار ہو جائے گی جو کہ امریکی فوج اور امریکی اتحادیوں کے لیے ایک خطرہ ہو سکتی ہے۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل چین کے لیے ان صلاحیتوں کے حصول کے لیے چور راستہ ثابت ہو سکتا ہے جو امریکی کڑی جانچ کے باعث اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔`

پروفیسر لی برینسٹیٹر کا کہنا تھا ’میرا نہیں خیال کہ اس سے چین اور اسرائیل کے تعلقات کے نوعیت مںی کوئی فرق پڑے گا تاہم اگر اسرائیلی ٹیکنالوجی سے بنے کسی چینی میزائل سے کوئی امریکی جہاز مار گرایا گیا تو یہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔‘

اسرائیلی حکومت نے سلامتی اور دفاع سے متعلق مسائل پر کسی قسم سے تبصرے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں