واشنگٹن ڈائری: بٹے ہوئے امریکی معاشرے کی تصویر مزید پختہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واشنگٹن ڈی سی کے لیے فلائٹ پکڑنے نکلی تو معلوم تھا کہ شکاگو کی سڑکوں پر غم و غصہ دوڑ رہا ہے۔ ایک دن پہلے پولیس اہلکار نے 37 سالہ سیاہ فام شخص اوگسٹس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور احتجاج کرنے کے لیے لگ بھگ 200 کے قریب لوگ سڑکوں پر نکلے۔ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

شکاگو میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام لوگوں کا قتل نئی بات نہیں لیکن گذشتہ چند سالوں میں یہ معاملہ اور بھی حساس ہوتا جا رہا ہے۔ 2014 میں ایک غیر مسلح 17 سالہ سیاہ فام لڑکے لکون میکڈونلڈ کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے واقعے نے پورے شہر کو جیسے ہلا کر رکھ دیا ہو۔ اس واقعے کے نتیجے میں امریکہ کے محکمہ برائے انصاف نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں تسلیم کیا گیا کہ پولیس ناجائز تشدد کا استعمال کر رہی ہے۔ پولیس کے سپرنٹنڈنٹ گیری میک کارتھی کو عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔

اس موسم گرما میں شکاگو کے اس پولیس افسر کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت ہے جس نے غیر مسلح لکون میکڈونلڈ کو 16 بار گولی مار کر ہلاک کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ اسی لیے شکاگو کی فضا میں میں نسلی کشیدگی عروج پر ہے۔ اور اس تازہ واقعے نے سیاہ فام برادری کے زخم پھر ہرے کر دیے ہیں۔

میرے ٹیکسی ڈرائیور جیمز کی کوشش تھی کہ ہم احتجاج میں نہ پھنسیں تاکہ میں فلائٹ پکڑ سکوں۔ جیمز کا ارادہ تھا کہ وہ مجھے ڈراپ کرنے کے بعد احتجاجی مظاہرے میں جائیں۔ لیکن وہ زیادہ پر امید نہیں تھے۔ وہ کہنے لگے ’ہم جتنی بھی آواز اٹھائیں ہماری کوئی نہیں سنتا۔ آخر ہر دوسرے دن پولیس افسروں کے ہاتھوں سیاہ فام ہی کیوں مرتے ہیں؟ میں نہیں چاہتا کسی کے بھی خلاف ناجائز تشدد ہو لیکن کچھ سفید فام پولیس افسر ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے۔‘

جیمز کی عمر 42 برس ہے۔ ان کے تین کم سن بچے ہیں جن کی فوٹو انھوں نے مجھے دکھائی۔ ان کے والدین کینیا سے امریکہ جب آئے تھے تو ان کی عمر دو برس تھی۔ باپ بننے کے بعد سے وہ زیادہ خوف زدہ ہو گئے ہیں اور ہر فورم پر اپنی آواز اٹھانے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

وہ لکون میکڈونلڈ کے واقعے کا حوالا دیتے ہوئے بولے ’آپ صاف ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ بغیر کسی وجہ کہ کس بے دردی کی ساتھ پولیس افسر اسے گولیاں مار رہا ہے لیکن یہ مقدمہ چار سال سے لٹکا ہوا ہے۔ ہم سیاہ فام لوگوں کو انصاف کی ترسیل بھی مدت بعد ہوتی ہے۔ ہمارا سیاہ فام سابق صدر اوباما اسلحے کے غلط استعمال پر ہمارے لیے کچھ نہیں کر سکا تو ٹرمپ سے تو امید ہی کرنا بے کار ہے۔‘

جیمز کی ناامیدی کے بارے میں سوچتے ہوئے ایئر پورٹ پہنچی۔ جہاز پر سوار ہوئی تو ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ٹیلر سے بات جیت شروع ہو گئی۔ لگ بھگ 55 سالہ ٹیلر کا تعلق جارجیا کے ایک جھوٹے سے دیہات سے ہے۔ جارجیا کئی سالوں سے ریپبلیکن کو ووٹ کرتا آیا ہے۔ جارجیا نے آخری انتخابات میں بھی ٹرمپ کو ووٹ ڈالا۔ ٹیلر بھی ان کے حمایتی ہیں۔

میں نے بڑے پیمانے پر فائرنگ پر صدر ٹرمپ کی اسلحے کے استعمال پر کوئی جامع پالیسی لانے سے اجتناب پر جب بات شروع کی تو کہنے لگے ’ہمارا چھوٹا سا دیہات ہے وہاں شغل کے لیے ہمارے پاس صرف اسلحہ ہی ہے۔ اگر وہ بھی چھین لیا گیا تو ہمارے پاس تو کرنے کو کچھ نہیں رہ جائے گا۔ اور ویسے بھی اگر کوئی چور گھر لوٹنے آئے تو کیا ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جب پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام لوگوں کی ’ناجائز‘ ہلاکتوں کی بات کی تو انھوں نے اسے ٹھیک تو نہیں کہا مگر ان کی ہمدردی واضح طور پر پولیس فورس کے ساتھ تھی۔

صحافی ہونے کے ناتے عادت ہو گئی ہے ہر وقت ایسے نظریات سننے کی جو ہماری سوچ کے مترادف ہوں۔ لیکن آپس کی بات ہے کئی بار سوچا کہ آخر مسٹر ٹیلر کو چپ کیسے کرایا جائے تاکہ ایک منٹ کے لیے آنکھ بند کر لی جائے لیکن ناکامی ہوئی۔ وہ تو شکر ہے کہ دو گھنٹے میں ہم ڈی سی پہنچ گئے جہاں ٹیلر ایک دوست کی بیٹی کی شادی کے لیے آئے تھے۔

اس طرح کی ملاقاتیں نسل کی بنیاد ہر بٹّے ہوئے امریکی معاشرے کی تصویر کو مذید پختہ تو کرتی ہیں مگر ساتھ ساتھ یہ بھی سوال اٹھاتی ہیں کہ آخر یہاں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں