صومالیہ میں خواتین کے ختنے کی رسم: کم سن لڑکی ختنے کے بعد مر گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صومالیہ میں خواتین کے ختنے کو جرم قرار دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سیاستدانوں کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پا رہے ہیں

افریقی ملک صومالیہ میں خواتین کے ختنے کی رسم کی ادائیگی کی وجہ سے ایک دس سالہ بچی ختنے کے بعد مر گئی ہے۔

بچی کے والد نے خواتین کے ختنے کی رسم کی حمایت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس بارے میں مزید جانیے

قدیم مصریوں کی ختنے میں دلچسپی

آئس لینڈ: مردوں کے ختنے پر پابندی کا منصوبہ

دو دن قبل مقامی روایات کے مطابق ایک دس سالہ کم سن بچی کا مقامی طریقے کے مطابق ختنہ کیا گیا تھا لیکن خون زیادہ بہہ جانے کے سبب وہ جانبر نہیں ہو سکی۔

لڑکی کے والد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 'اس علاقے کے افراد خواتین کے ختنے کے خطرات کو جانتے ہوئے بھی اس رسم کے حق میں ہیں کیونکہ یہ ملک کی ثقافت کا حصہ ہے۔'

یونیسف کے مطابق صومالیہ میں 98 فیصد خواتین کو ختنہ کروانا پڑتی ہے۔

دوسمبراب شہر کے ہسپتال کے ڈاکٹر ابراہیم عمر حسن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 'میں نے اپنی زندگی میں کسی عضو کو اس حد تک نقصان پہنچاتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘

کم سن لڑکی کو بچانے والی ٹیم کے رکن ڈاکٹر حسن نے بتایا کہ جب اُسے ہسپتال لایا گیا تو اُسے ٹیٹنس بھی تھا۔ عمومی طور پر خواتین کے ختنے کے روائتی طریقوں میں آلات کو جراثیم سے پاک نہیں کیا جاتا۔

لڑکی کے والد نے کہا کہ وہ اپنی بیٹے کے موت کا الزام کسی پر عائد نہیں کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔

خواتین کے حقوق کی تنظیم کی ڈائریکٹر ہوا ایدن نے کہا کہ اگر ہلاک ہونے والی لڑکی کا خاندان کوئی کارروائی بھی کرنا بھی چاہتا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

'جس عورت نے آپریشن کیا ہے، اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا اور اگر اُسے گرفتار کیا بھی جاتا ہے تو اُسے سزا دلوانے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔'

صومالیہ میں خواتین کے ختنے کو جرم قرار دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سیاستدانوں کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پا رہے ہیں۔

سیاستدانوں کو خدشات ہیں کہ اُن کے ووٹر خواتین کے ختنے کو مذہبی ضرورت سمجھتے ہیں۔ صومالیہ میں جن لڑکیوں کے ختنے نہیں ہوتے اُن کا طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں