ڈونلڈ ٹرمپ: ’اب دھمکی دی تو نتائج وہ ہوں گے جس کی نظیر مشکل سے ہی ملتی ہے‘

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران نے بین الاقوامی پابندیاں ہٹائے جانے کے عوض اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کٹوتی کی بات کہی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر حسن روحانی نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایک دوسرے کو ایک مرتبہ پھر سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر ایران نے اب امریکہ کو دھمکی دی تو اسے اس کا وہ خمیازہ بھگتنا پڑے گا جس کی تاریخ میں نظیر مشکل سے ہی ملتی ہے۔

صدر روحانی کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'امریکہ کو اب کبھی دوبارہ مت دھمکانا ورنہ وہ نتائج بھگتنا پڑیں گے جن کا سامنا تاریخ میں چند ہی کو ہوا ہے۔ ہم اب وہ ملک نہیں جو تمہاری پرتشدد اور موت کی بکواس سنیں۔ خبردار رہو۔'

یہ بھی پڑھیے

’میں ڈونلڈ ٹرمپ کا نمائندہ بن کر ایران نہیں آیا‘

یورپی ممالک جوہری معاہدہ قائم رکھنے کے لیے پرعزم

صدر ٹرمپ کے اس حالیہ بیان سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ’تمام جنگوں کی ماں ثابت ہو گی۔‘

انھوں نے امریکی صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا: 'مسٹر ٹرمپ، آپ شیر کی دم سے نہ کھیلیں، کیونکہ اس سے آپ کو صرف تاسف ہی ہوگا۔'

ایرانی اخبار تہران ٹائمز کے مطابق روحانی نے ایرانی سفارت کاروں سے اپنے خطاب میں کہا: 'امریکہ مکمل طور پر یہ سمجھتا ہے کہ ایران کے ساتھ امن ہر قسم کے امن کا ضامن ہے اور اسی طرح ایران کے ساتھ جنگ ہر قسم کی جنگ کی ماں ہے۔ میں کسی کو دھمکی نہیں دے رہا ہوں، لیکن کوئی بھی ہمیں دھمکا نہیں سکتا۔'

مئی میں امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کر لیا تھا۔ یہ سمجھوتہ ایران کا جوہری پروگرام روکنے کے عوض اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ہٹانے کی شرط پر کیا گیا تھا۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے اعتراض کے باوجود واشنگٹن ایک بار پھر سے ایران پر پرانی پابندیاں عائد کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایٹمی معاہدے سے انحراف ٹرمپ کی سیاسی خودکشی ہو گا: روحانی

آپ ایران کے لیے فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں: روحانی

اتوار کو ایک دوسرے موقعے پر امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیؤ نے کہا کہ ایرانی اقتدار 'حکومت کے بجائے مافیا سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے۔'

کیلیفورنیا میں ایرانی امریکیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پومپیؤ نے جوہری سمجھوتہ کرنے والے ایرانی صدر روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں 'آیت اللہ کی بین الاقوامی فریبی فنکاری کا محض ظاہری شائستہ چہرہ' قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مسٹر پومپیؤ نے کہا کہ وہ نومبر تک ایران سے تیل خریدنے والے ممالک کو وہاں سے تیل درآمد کرنے پر روک لگانے کی کوشش کریں گے جو کہ تہران پر مسلسل دباؤ ڈالنے کا حصہ ہوگا۔

امریکہ معاہدے سے باہر کیوں آيا؟

مئی میں صدر ٹرمپ نے جوہری معاہدے یا مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی پی او اے) کو 'ہولناک یکطرفہ معاہدہ قرار دیا جسے کبھی ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔'

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے میں ایران کی علاقے میں 'غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں' پر قدغن نہیں ہے اور اس میں معاہدے کی شرائط کو توڑنے یا اس کے پتہ چلانے اور تدارک کا انتظام نہیں ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور یہ آئی اے ایی اے کے ساتھ معاہدے کے مطابق ہے جس کی تصدیق ادارے نے کی ہے اور کہا ہے کہ ایران اپنے وعدے کی پاسداری کر رہا ہے۔

اسی بارے میں